آپ شیخ فریدالدین کے بڑے صاحبزادے تھے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، زراعت و کاشتکاری کی کمائی پر جو کسب حلال ہے قناعت پذیر رہے اور تمام عمر اطاعت احکام باری میں بسر کی، اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔ تیری رحمت جو میرے ساتھ رہے مجھ کو کس کا ہو پھر خطر یارب عزوجل (قبالۂ بخشش) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
معقول و منقول کے منتجر فاضل ، بے مثل مناظرمولانا قاضی محمد عبد السبحان ابن مولانا قاضی مظہر جمیل ابن مولانا مفتی محمد غوث ۶۔ ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۸ء میں موضع کھلاٹ (ری پور سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا ، ابن تربیلہ میں آگیا ہے ) ضلع ہزارہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد ماجد اور جدامجد اور جدا مجد اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے ۔ آپ کے جد مجد نے رد تقویۃ الایمان اور تاریخ وہابیہ وغیرہ کتب بھی لکھی تھیں ﷺ مولانا علامہ سید برکات احمد ٹونکی سے مدرسہ خلیلیہ ، ٹونک میں علوم وفنون کا استفادہ کیا ، مولانا قطب الدین غور غشتوی (م ۱۹۵۱ئ) اور مولانا حمید الدین مانسہروی آپ کے مشفق اساتذہ میں سے تھے ، حدیث و تفسری کا درس اپنے چچا اور خسر مولانا محمد خلیل محدث ہزاروی سے لیا[1] مولانا قاضی عبد الس۔۔۔
مزید
سیرالاولیا میں لکھا ہے کہ آپ ایک مضبوط اور صاحب نعمت درویش تھے اور شیخ شکرگنج کے مرید تھے، شیخ گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے جب آپ کو بیعت لینے کی اجازت دی تو اس وقت فرمایا، صابر! تم عیش و عشرت کی زندگی گزارو گے، پھر یہی ہوا کہ آپ تمام عمر خوش عیش رہے۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ شیخ صابر خوش باش اور ہنس مکھ بزرگ تھے اور غالباً یہ شیخ صابر وہ نہیں ہیں جو شیخ علی صابر تھے اور جو شیخ گنج شکر کے داماد اور خلیفہ تھے جن کا مزار کلیر شریف میں ہے اور جن تک شیخ عبدالقدوس وغیرہ مشائخ کا سلسلہ پہنچتا ہے اور شیخ علی صابر کا سیر الاولیاء میں کوئی تذکرہ نہیں بلکہ اس میں شیخ صابر ہی کا ذکر کیا گیا ہے ان کے تذکرے کو حدف کردینا تعجب سے خامی نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیخ صابر سے شیخ علی صابر ہی مراد ہوں۔ واللہ اعلم۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ شیخ فریدالدین رحمۃ اللہ علیہ کے مُرید تھے، لوگوں سے منقول ہے کہ اوچ اور ملتان کے حاکم نے شیخ عارف کے ہاتھ سوتنگہ (روپیہ) بطور نذرانہ گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیش کیے جس میں سے پچاس روپے انہوں نے اپنے پاس رکھ لیے اور پچاس شیخ کی خدمت میں حاضر کیے، شیخ نے مسکراتے ہوئے فرمایا، عارِف! تم نے تقسیم واقعی برادرانہ کی ہے جس پر عارف شرمندہ ہوئے اور وہ پچاس روپے جو اپنے پاس رکھ لیے تھے شیخ کی خدمت میں پیش کردیے اور بے انتہا عاجزی و انکساری کا اظہار کیا پھر مرید ہوئے اور سر منڈوایا، پھر شیخ کی خدمت میں رہ کر خوب پختگی حاصل کی پھر شیخ نے انہیں بیعت کرنے کی اجازت دیدی اور سیوستان کی طرف بھیج دیا۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے، اپنے والد شیخ جمال الدین کے انتقال کے وقت کم عمر تھے، جب آپ کو شیخ فریدالدین گنج شکر کی خدمت میں لایا گیا تو آپ بڑی مہربانی کے ساتھ پیش آئے اور خلافت نامہ، جانماز اور عصا کے ساتھ وہ تبرکات جو ان کے والد شیخ جمال الدین کو دیے تھے انہیں بھی عنایت فرمائے اور خواجہ نظام الدین اولیاء سے حصول فیض کا حکم دیا، چنانچہ آپ ہر سال نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تربیت حاصل کرتے، نظام الدین اولیاء نے اپنی آخری زندگی تک پھر کسی کو مرید نہیں کیا، شیخ جمال الدین کا ایک اور لڑکا بھی تھا جو بہت سمجھدار تھا مگر آخر میں دیوانہ ہوگیا تھا جس کے متعلق محبوب الٰہی فرماتے ہیں کہ وہ کبھی کبھی ہوش میں آکر عقلمندی کی باتیں کیا کرتا تھا میں نے خود ایک کلام اس سے سنا وہ کہہ رہا تھا علم اللہ تعالیٰ تک پہنچنے میں بڑا حجاب ہے) یہ سن کر مجھے ی۔۔۔
مزید
آپ علی بن اسحاق دہلوی کے فرزند تھے اور شیخ فریدالدین گنج شکر کے خادم اور خلیفہ اور داماد تھے، اپنے زمانے کے بہت بڑے بزرگ تھے۔ زہد و تقویٰ فقر اور عشق میں اپنی مثال خود تھے، بچپن کے زمانے میں آپ نے دہلی میں علوم حاصل کیے، طلباء میں آپ کی خوش مزاجی اور حاضر دماغی مشہور تھی، تحصیل علم کے بعد جو چیز شرفاء اور دانشور لوگ سیکھا کرتے تھے آپ نے بھی وہ چیز سیکھی، اس سے فراغت کے بعد بخارا کا رخ فرمایا، چونکہ پاک پتن راستہ میں پڑتا تھا وہاں شیخ فریدالدین گنج شکر کے کمالات سن کر ملاقات کا اشتیاق ہوا، اس کے بعد آپ نے ایک آدمی کو تیار کیا کہ وہ آپ کی شیخ فریدالدین سے ملاقات کرادے، چنانچہ آپ نے جب شیخ فریدالدین کی ملاقات کی تو اپنے تمام علوم و فنون ظاہر یہ کو آپ کے پہلو میں دفن کردیا اور ان کے جمال و کمال کے شیدائی ہوگئے، شیخ فریدالدین نے مولانا بدرالدین اسحاق کی قابلیت اور صلاحیت کو دی۔۔۔
مزید
واعظ خوش بیان ، طعیب حاذق مولانا حکیم سید ظہور اللہ ابن مولانا سید چراغ شاہ ۱۲۸۷ھ/۱۸۷۰ ء میںسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ علوم دینیہ کی تکمیل اپنے برادر معظم مولانا حافظ سید دین تھے ، پندرہ سو لہ سال تک جامع مسجد دربار امام علی الحق قدس سرہ میں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ مکرمی سید نور محمد قادری مدظلہ العالی کے پاس آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی حمائل شریف موجود ہے جو آج سے ستر سال پہلے اتحاد پریس سیالکوٹ میں طبع ہوئی تھی۔ عار ف و طبیب مولانا حکیم خادم ولی رحمہ اللہ تعالیٰ سے آپ کے مخلصا نہ وابط تھے۔ ۱۳۶۶ھ/۱۹۴۶ء میں جب ااپ کا وصال ہواتو متعد و شعراء نے مرثیے لکھے، حضرت حکیم خادم علی قدس سرہ کے مرثیہ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎ سید والا حسب عالی نسب صاحب زہد و درع ۔۔۔
مزید
مجمع جمال صوری و معنوی ، صاحب کمال ظاہر و باطنی حضرت مولانا پیر سید ظہور شاہ ابن مولانا پیر سید محمد شاہ قادری رحمہ اللہ تعالیٰ جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں ۱۳۰۶ھ/۱۸۸۸ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے اجداد کشمیر سے آکر جلال پور میں پڑھا اور کچھ درسی کتابیں بھی انھی سے پـڑھیں ، بعد ازاں کچھ عرسہ برادر مکرم مولانا سید اعظم شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس جموں میں استفادہ کرتے رہے ، پھر کچھ وقت پشاور میں رہے اور آخر میں بریلی شریف جاکر کسب فیض کیا اور فراغت حاصل کی ۔ اپنے والد ماجد کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔ ان کے علاوہ شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شر قپوری رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی استفاضہ کیا۔ حضرت پیر صاحب اپنے دور کے مقبول ترین مقرر تھے،آپ جہاں وعظ فرماتے،۔۔۔
مزید
عالم با عمل ، فقیہ زماں مولانا سید ضیاء الدین ابن مولانا سید حمید شاہ قدس سرہما قریباً ۱۳۱۲ھ/۵۔۱۸۹۴ء میں سلطان پور ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان علم وفضل اور تقویٰ و پرہیز گار ی میں مشہور و معروف تھا ۔ الحمد للہ یہ خاندان آج بھی اسی بزرگی اور فضیلت کا حامل ہے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا احمد دین قدس سرہ(والد ماجد استاذ الاساتذہ مولانا محب النبی دامت بر کاتہم العالیہ) سے حاسل کی ۔ ترکیب پڑھنے کے لئے موضع شاہراں ( ضلع کیلمپور) میں صرف و نحو کے مشہور آفاق استاذ (نام معلوم نہیں ہوگا )کی خدمت میں حاضر ہوئے بعد ازاں مختلف اساتذہ سے استفادہ کرتے ہوئے اہل سنت کے مایہ ناز فاضل مولانا مشتاق احمد کانپوری ابن مولانا احمد حسن کانپوری قدس سرہما کی خدمت میں اجمیر شریف حاضر ہوئے او معقول و منقول کی منتہی کتب کادرس لیا، دور۔۔۔
مزید
آپ کردیزی سید تھے، کردیز سے ملتان تشریف لائے اور یہیں پر مستقل سکونت اختیار فرمائی، آپ کا مزار بھی ملتان میں ہے جو زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ قبر سے ہاتھ مُبارک نکال کر بیعت کر لیتے تھے: شاہ کردیز وفات کے بعد بھی اپنی قبر سے ہاتھ مبارک باہر نکال کر لوگوں کو مرید کرلیا کرتے تھے اور ابھی تک وہ سوراخ باقی ہے جس سے آپ ہاتھ باہر نکال کر لوگوں کو مرید کیا کرتے تھے آپ ملتان کے مشہور مشائخ کرام میں سے ہیں اور حضرت مخدوم شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے ہم عصر تھے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید