ابوالوقت کنیّت تھی خاص و ظاہر و باطن میں ماہر تھے حدیث میں شیخ الاسلام جبال الاسلام داودی کے شاگرد تھے حضرت شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی صحبت میں رہے خراسان سے بغداد میں پہنچے۔ آپ کی ولادت ماہ ذی القعدہ ۴۵۸ھ میں ہوئی اور وفات ماہ ذیقعد ۵۵۳ھ میں بغداد میں ہوئی آپ کا مزار شونیز متصل مزار شیخ رویم ہے یاد رہے کہ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی نے آپ کی نماز جنازہ کی امامت کرائی تھی۔ جناب عبد اول شیخ والا اگر خواہی ولا سالِ وصالش ۵۵۳ھ کہ از روز ازل مقبول حق بود بداں ابن شعیب ہادی محمود (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
ابوالوقت کنیّت تھی خاص و ظاہر و باطن میں ماہر تھے حدیث میں شیخ الاسلام جبال الاسلام داودی کے شاگرد تھے حضرت شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی صحبت میں رہے خراسان سے بغداد میں پہنچے۔ آپ کی ولادت ماہ ذی القعدہ ۴۵۸ھ میں ہوئی اور وفات ماہ ذیقعد ۵۵۳ھ میں بغداد میں ہوئی آپ کا مزار شونیز متصل مزار شیخ رویم ہے یاد رہے کہ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی نے آپ کی نماز جنازہ کی امامت کرائی تھی۔ جناب عبد اول شیخ والا اگر خواہی ولا سالِ وصالش ۵۵۳ھ کہ از روز ازل مقبول حق بود بداں ابن شعیب ہادی محمود (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
کنیت ابونصر والد کا اسم گرامی ابوالحسن تھا جام کے نزدیک موضع ناحق میں پیدا ہوئے مقتدائے اہل طریقت تھے پھر یگانہ زمانہ بنے قطب العہد اور غوث الوقت مشہور ہوئے آپ حریر بن عبداللہ الجیلی کی اولاد میں سے تھے جنہیں حضرت عمر ابن الخطاب نے یوسفِ اُمت محمّدیہ کہا تھا۔ حضرت شیخ احمد اول عمر میں اُمیّ محض تھے بائیس سال گزرے تو اللہ کی رحمت نے علم کی روشنی سے نوازا۔ پہاڑوں میں گوشہ نشین ہوئے ریاضت اور مجاہدہ میں پورے تیرہ سال گزار دئیے چالیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ کے الہام کی روشنی میں مخلوق خدا کی راہنمائی میں نکلے علم الدّنی کے ابواب کھل گئے آپ نے توحید اسرار اور حکمت میں تین سو کتابیں لکھیں یہ کتابیں وقت کے عارفین اور حکماء کے لیے مطالعہ کا ذریعہ بنیں اسرار تصوف میں عمدہ اشعار کہتے گفتگو اور تحریر آیات قرآنی اور احادیث کے حوالے سے پُر ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے کثیرالادلاد کیا تھا آپ کے بی۔۔۔
مزید
اسمِ گرامی محمد بن حمویہ تھا۔ خراسان کے اَجّلہ مشائخ میں سے تھے اور حضرت شیخ عبداللہ بستی کے عظماء خلفاء میں سے شمار ہوتے تھے علوم شریعت اور طریقت میں ماہر تھے حضرت عین القضات اپنے اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں تین حضرات مقتدائے وقت میں سے ہیں ایک شیخ احمد بن محمد غزالی دوسرے محمد بن محمد غزالی اور تیسرے خواجہ عبداللہ بن محمد حمویہ جوی حضرت شیخ حموی ایک کتاب صلواۃ الطاعین جو حقایٔق و دقائق سے مالا مال ہے صوفیہ کے لیے مشعل راہ بنی آپ کی وفات ۵۳۰ھ ہجری میں ہوئی جبکہ آپ کی عمر نوے سال تھی۔ خواجۂ دین شیخ عبداللہ پیر سن و سالِ رحلتش ہادی تقی ست ۵۳۰ھ یافت از دنیا چو در جنت قرار نیز عبداللہ محمد نامدار ۵۳۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
اسم گرامی کاکیش تھا۔ کبار مشائخ اور بزرگان دین میں سے تھے شیخ محمد شپکنی کے مرید تھے۔ ارشاد طالبان میں اپنی مثال آپ تھے شیخ علی ہیتی شیخ بقاء و شیخ عبدالرحمان طفسونجی شیخ مطرالبازدونی شیخ ماجد گردی شیخ جاگیر شیخ احمد جیسے آپ کے ہی مرید اور تربیت یافتہ تھے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی جوانی کے عالم میں آپ کی مجلس میں حاضر ہوئے تو حضرت شیخ ابوفاء نے سلسلۂِ گفتگو منقطع کرتے ہوئے حاضرین مجلس کو کہا۔ ’’یہ نوجوان جو ابھی میری مجلس میں آیا ہے اسے مجلس سے باہر نکال دو۔‘‘ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑے دنوں بعد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی پھر اسی مجلس میں چلے گئے تو شیخ ابوالوفاء نے دوبارہ کہا۔ ’’اس نوجوان کو میری مجلس سے اٹھا دیا جائے۔‘‘ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ مگر شیخ بار بار اس مجلس میں جاتے رہے حتّٰی کہ جب آپ چوتھی بار مجلس میں داخل ہوئے تو شی۔۔۔
مزید
اسم گرامی ابونصربن ابی جعفر بن ابی اسحاق خانجہ آبادی تھا ایک اور مقام پر آپ کا نام محمد بن احمد بن ابی جعفر لکھا ہے کرمان کے رہنے والے تھے علوم ظاہری اور باطنی کے عالم تھے فقہ و حدیث میں یکتائے زمانہ تھے آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن ایک شخص ایک کاغذ پر فتویٰ پوچھنے آیا جس کا مضمون اور مفہوم یہ تھا ’’کیا فرماتے ہیں آیٔمہ دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے جوانی کے عالم میں اپنی گدھی کو لاٹھیوں سے پیٹا گدھی نے اسے مخاطب کرکے کہا۔ اے شخص! تم نے مجھے جس طرح ظلم کا نشان نہ بنایا ہے قیامت کے دن اس کا کیا جواز پیش کرے گا اور اس ظلم سے کیسے نجات حاصل کرسکے گا۔‘‘ اس دن سے آج تک بیس سال گزر چکے ہیں کہ وہ شخص اللہ کے خوف سے رو رہا ہے اور آنسو کے بجائے خون بہتا ہے آپ ازروئے شرع شریف بتائیں کہ اُس کے وضو طہارت اور نماز کا کیا حکم ہے حضرت ابونصر نے یہ فتویٰ پڑھا تو اس وا۔۔۔
مزید
آپ علماء عظام اور فقہا اعلام میں سے تھے علوم حدیث و تفسیر میں بڑے بلند مراتب کے مالک پر فائز تھے آپ کی مشہور کتاب جمع بین الصحیحیں ہے۔ آپ کی وفات ۴۸۸ھ میں ہوئی۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی علی جلابی الغزنوی تھا شیخ ابوالفضل بن حسن ختلی الجنیدی سے بیعت تھے حضرت امام اعظم کونی کے مذہب پر تھے آپ علوم ظاہروباطن میں جامع تھے زہدوروع میں کمال کے رتبہ پر تھے ریاضت و کرامت خوارق و ولایت میں یکتائے روزگار تھے بلند مدارج اور ارجمند مقامات کے مالک تھے آپ کا سلسلہ عالیہ تین واسطوں سے حضرت شیخ شبلی سے ملتا ہے شیخ ابوالفضل بن حسن ان کے پیر حضرت شیخ خضر اور ان کے پیر حضرت شیخ ابوبکر شبلی تھے حضرت علی الہجویری نے اپنے پیرومرشد کے علاوہ بہت سے مشائخ کاملین سے صحبت حاصل کی جن میں حضرات شیخ ابوالقاسم گورگانی۔ ابوسعید ابوالخیر۔ ابوالقاسم قشیری کے اسماء گرامی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں آپ نے ان بزرگوں سے بڑا روحانی استفادہ کیا۔ نفحات الانس اورسکینۃالاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ غزنی سے تعلق رکھتے تھے غزنی میں دو محلے جلّاب اور ہجویر تھے آپ کی نسبت انہیں مقامات ک۔۔۔
مزید
آپ بیت الجن میں قیام پذیر رہے بیت الجن دمشق کے نواح میں عقبہ کی چوٹی پر واقعہ ہے حضرت علی الہجویری داتا گنج بخش فرماتے ہیں کہ طریقت میں میری اقتداء آپ سے تھی وہ عالم تھے علوم حدیث۔ تفسیر روایت و کرامت میں یگانہ روزگار تھے ظاہری و باطنی مقامات سے آشنا تھے حضرت شیخ حصری کے مرید تھے ابوعمر قذوینی اور ابوالحسن کے خاص احباب اور جلیس تھے ساٹھ سال تک بحکم خداوندی گوشہ نشین رہے عام لوگوں میں کبھی اپنے آپ کو نمایاں اور ممتاز نہیں ہونے دیا بڑی لمبی عمر پائی تھی خوارق و کرامت بے عدد و بے شمار ظاہر ہوئیں۔ آپ نے متصوفانہ لباس زیب تن کرنے سے گریز کیا عام لوگوں کے لباس میں رہتے مگر اتنی بارعب اور مہیب شخصیت تھی کہ ہر شخص بات کرتے وقت کانپ جاتا حضرت داتا گنج بخش ہجویری اپنی معروف کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ہاتھوں پر وضو کے لیے پانی انڈھیل رہا تھا میرے دل میں آیا کہ جب کاتب۔۔۔
مزید
آپ وقت کے عظماء مشائخ سے تھے ابوالحسن حضری کے مرید تھے شیخ عبدالرحمٰن سلمٰی سے صحبت حاصل کی آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک ہزار مشائخ سے ملاقات اور صحبت کا موقعہ ملا ہے اور ہر ایک سے ایک ایک واقعہ یاد ہے کتاب رباط روزی کی تصنیف بیان کی جاتی ہے جسے آپ نے اپنے پیرومرشد ابوالحسن حصری کے لیے تصنیف کی آپ رمضان میں ۴۵۱ھ میں فوت ہوئے۔ رفت چوں زین جہاں بخلد برین عارف زندہ دل بگو تاریخ ۴۵۱ھ رونق ولی ولی حسن روزی ہم رقم کن علی حسن روزی ۴۵۱ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید