احمدبین عبدالرید بن حسین بخاری: قوام الدین لقب رکھتے تھے،آپ کے باپ بھی اپنے وقت کے امام فاضل شیخ کبیر،ثقہ حافظ،مترجفی العلوم تھے جن سے آپ نے علم حاصل کیا اور افقہ زمان و علامۂ دوراں ہوئے اور امام محمد کی جامع صغیر کی شرح تصنیف کی اور آپ سے آپ کے بیٹے صاحب خلاصہ نے فقہ پڑھی۔ صاحب ہدایہ نے آپ سے بسند متصل یہ حدیث آنحضرت سے روایت کی ہے قال (ﷺ)مامن شئی بدیٔ یوم الاربعاء الاتم یعنی رسول اللہﷺنے فرمایا کہ ایسی کوئی چیز نہیں جو بدھ کے روز شروع کی جائے اور پوری نہ ہو،اسی لیے صاحب ہدایہ ابتداء سبق نئی کتاب کا بھد کے دن پر موقوف رکھتے تھ چنانچہ اس سنیت صاحب ہدایہ کا اتباع آج تک علماء میں چلا آتا ہے اور سب لوگ یہی خیال کرتے ہیں کہ جو کتاب بدھ کے دن شروع کی جائے اس کو خدا تھوڑے ہی دنوں میں انجام بخیر کردیتا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حسن بن نصر بن ابراہیم بن یعقوب الحاکم الاکشنی[1]: ۴۹۰ھ کو قصبہ کشن ماوراء النہر میں شہر نخشب کے پاس واقع ہے،پیدا ہوئے۔فقہ ابی المعالی مسعود بن حسین خطیب کشانی صاحب مختصر سعودی سے حاصل کی یہاں تک کہ عالم فاضل اور ہر ایک علم میں ماہر کامل ہوئے۔ 1۔ وفات۵۵۷ھ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
زیاد بن الیاس فرغانی: فرغانہ کے مشائخ کبار اور فضلائے نامدار سے تھے۔ابو المعالی کنیت اور ظہیر الدین لقب تھا با وجود کثرت علم اور و فور عقل کے برے متواضع و خلیق تھے،اپنے اصحاب کے ساتھ نہایت لطف سے پیش آتے تھے، صاحب ہدایہ کہتے ہیں کہ میں بعد وفات پانے جدامجد کے آپ کےپاس جایا کرتا تھا اور آپ سے فقہ پڑھتا تھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن موسیٰ کشنی[1]: شہر کشن کے باشندہ تھے جو تین فرسنگ کے فاصلہ پر شہر جر جان سے واقع ہے،نجم الدین عمر نسفی کی مدت تک مصاحبت کی اور انہیں سے استفادہ کیا اور اپنے قدرو منزلت کو بڑھایا۔کتاب مجموع النوازل نہایت لطیف فروع حنفیہ میں معتبر فتاووں یعنی فتاویی ابی اللیث سمر قندی و فتاویٰ ابی بکر بن الفضل و فتاویٰ ابی حفص کبیر وغیرہ سے جمع کی جس کا ابتدائ اس طرح پر کیا الحمدللہ الذی شرفنا بسید الاصفیاء الخ۔ 1۔ کشنی وفات حدود ۵۵۰ھ’’معجم المؤلفین‘‘ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن نوح قالبی غزنوی: جمال الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام عالم،فقیہ متجر،فاضل ماہر تھے۔ قدس میں فتاویٰ حاوی قدسی تصنیف کیا اور حسن بن علی نحوی نے آپ سے تلمذ کیا،وفات آپ کی تقریباً ۶۰۰ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن عراقی قزوینی المعروف[1]بہ طاؤسی: ابو الفضل کنیت رکن الدین لقب تھا۔ امام فاضل علامۂ مناظر علم خلاف کے ماہر متجر تھے۔علم شیخ رضی الدین نیشا پوری سے حاصل کیا اور علم خلاف میں تین تعالیق تصنیف کیں۔ہمدان میں بہت طالب علم آپ کے پاس جمع ہوئے اور نیز دیگر امصارو بلا و قریبہ و بیعدہ سے استفادہ کے لیے لوگ آنے شروع ہوئے جس سے آپ کی بڑی شہر ت ہوئی اور ۶۰۰ھ میں وفات پائی۔طاؤسی طاؤس بن کیسان کی طرف منسوب ہے جو امام ابو حنیفہ کے شیوخ میں سے ہیں اور تاریخ وفات آپ کی لفظ’’نکتۂ فہم‘‘ سے نکلتی ہے۔ 1۔ طاؤسی شافعی المذہب تھے’’معجم المؤلفین‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
محمد بن یوسف بن[1]علی غنزوی بغدادی: اکابر محدثین اور رواۃ مستندین اور فقہاء مدرسین میں سے تھے،اصل میں حلب وغزنہ کے رہنے والتے تھے مگر آپ کا مولد بغداد تھا جہاں۵۳۲ھ میں پیدا ہوئے تھے۔فقہ عبد الغفر بن لقمان کردری سے پڑھی اور حدیث کو ابی الفضل بن ناصر سے سماعت کیا اور آپ سے رشید عطار اور منذری نے روایت کی اجازت حاصل کی،یکشنبہ کے روز ۱۵؍ربیع الاول ۵۹۹ھ کو فوت ہوئے۔’’پاک اعتقاد‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔بہاء الدین ابو الفضل۔مفسر اورمقری بھی تھے قاہرہ میں وفات پائی’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
مسعود بن شجاع بن محمد بن حسن اموی المعروف بہ برہان الدین فقیہ: دمشق میں ۵۱۰ھ کو پیدا ہوئے،ابو الموفق کنیت تھی،عالم،ماہر فقیہ متجر صدر معظم، رأس فی المذہب تھے،علم برہان بلخی علی بن حسن تلمیذ عبد العزیز بن عمر بن مازہ سے حاصل کیا اور آپ سے ابن ابیض محمد بن یوسف اور داؤد بن ارسلان نے تفقہ کیا اور مدرسہ نوریہ میں درس دیا پھرعسکر کی قضاء آپ کے سپرد کی گئی،ایک کتاب فقہ میں تصنیف کی اور ۱۶؍ماہِجمادی الاخریٰ ۵۹۹ھ کو وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
علی بن احمد مکی رازی: حسام الدین لقب تھا فقیہ فاضل عالم ماہر تھے، مشق میں آکرسنکونت اختیار کی تھی اور درس و تدریس آپ کا کام تھا۔فتویٰ امام ابو حنیفہ کے مذہب پر دیا کرتے تھے،مختصر قدوری کی ایک نفیس شرح خلاصہ الدلائل و تنفتیح المسائل نام تصنیف کی جس کی نسبت صاحب جواہر مضیہ نے لکھا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کو میں ے فقہ میں یاد کیا اور جو احادیث اس کتاب میں لائی گئی ہیں ان کی میں نے ایک جلد ضخیم میں تخریج کی اور اس کی شرح لکھی،جب میں نے آپ کا حال جواہر مضیہ میں جمعہ کے روہز۷۵۹ھ میں لکھا تو میں آپ کی کتاب کی شرح میں کتاب الشرکۃ تک پہنچ گیا ہوا تھا۔علی قاری نے لکھا ہے کہ آپ نے علاوہ کتاب مذکور کے ایک مناب سلوۃ الہموم نام بھی جمع کی ہے۔آپ۵۹۸ھ میں ایک بیٹا چھوڑ کر فوت ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حسن [1]بن خطیر ابو علی نعمان: ابی الحسن کنیت تھی،فقیہ محدث مفسر عالم حساب و ہیبت و طب اور ہبر ز علم و نحو لغت و عروض و ادب و تاریخ تھے،مدت تک قاہرہ میں مقیم رہے اور درس و تدریس میں مصروف ہوئے اور کہتے تھے کہ میں نے امام ابو حنیفہ کے مزہب کو نقل کیا اور اپنے اجتہاد کے موافق اس کی حمایت کی۔ قرآن شریف کی ایک تفسیر تسنیف کی اور حمیدی کی جمع بین الصحیحین کی شرح حجۃ نام لکھی اور ایک کتاب اختلاف صحابہ و تابعین و فقہائے امسار میں تصنیف فرمائی اور ۵۹۸ھ میں وفات پائی،’’آرایش گیہان‘‘تاریخ وفات ہے۔ 1۔ نعمانی فارسی تلخیص الا فصاح اوتہیبہ البارعین بھی آپ کی تصانیف میں ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید