طاہربن احمد بن عبدالرشید بن الحسین بخاری: افتخار الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام عدیم النظیر فرید الدہر علامہ اور مجتہدین فی المسائل میں سے ماوراء النہر کے شیخ حنفیہ تھے،مولیٰ ابن کمال پا شانے آپ کو طبقہ مجتہدین فی المسائل میں سے شمار کیا ہے۔علم اپنے باپ احمد بن عبدالرشید اور ماموں ظہیرالدین حسن بن علی مر غینانی اور نیز حماد بن ابراہیم صفار اور قاضی خان حسن بن منصور سے پڑھا اور اخذ کیا۔ تصانیف بھی مقبولہ اور مقبرہ کیں،منجملہ ان کے کتاب خلاصۃ الفتاویٰ اور کتاب خزانۃ الواقعات اور کتاب نصاب معروف و مشہور ہیں۔۵۴۲ھ میں فو ت ہوئے۔ ’’قمر عالمیان‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن ابی الیسر صدر الاسلام بن محمد بن حسین بن عبدالکریم بن موسیٰ بن عیسیٰ بزدوی صدر الائمہ لقب تھا اور ابو المعالی کی کنیت سےپکارے جاتے تھے۔ابو سعید کا قول ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے امام فاضل اور مفتی مناظر نیک سیرت،پسندیدہ اخلاق خاندان حدیث و علم میں سے تھے،فقہ اپنے والد محمد ابی الیسر صدر الاسلام سے حاصل کی،مدت تک بخار ا کی قجا کے متولی رہے،حج سے واپس ہو کر جب شہر سرخس میں پہنچے تو وہاں ۵۴۲ھ میں آپ نے انتقال کیا[1]لیکن یہاں سے آپ کا جنازہ بخارا میں لے جار دفن کیا گیا۔’’طرفہ محقق‘‘ تاریخ وفات ہے۔بزدوی قلعۂ بزدہ کی برف منسوب ہے جو چھ فرسنگ کے فاصلہ شہر نسف سے واقع ہے۔ 1۔ ولادت ۵۴۰’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحن۔۔۔
مزید
محمد بن یوسف بن احمد قنطری: ابو الفتح کنیت تھی،عالم فاضل فقیہ بے بدل تھے،ابی الفضل عبدالرحمٰن کرمانی سے تفقہ کیا اور کمالیت و فضیلت کے رتبہ کو پہنچے، کچھ اوپر ۵۴۰ھ میںملک حجاز کو تشریف لے گئے اور وہاں پر وفات[1]پائی۔قنطری منسوب طرف راس قنطرہ کے ہے جو نیشاپور میں ایک محلہ کا نام ہے۔ 1۔ ولادت ۴۹۲ حج سے واپس آکر وفات پائی (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
عبدالرشید بن ابی حنفیہ بن عبدالرزاق ولوالجی: ابو الفتح کنیت[1]تھی،۴۲۷ھ کو شہر ولوالج میں جو بد خشاں کے ملک میں واقع ہے،پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ و نظار کامل تھے،بلخ میں جاکر فقہ ابی بکر قزار محمد بن علی اور علی بن حسن برہان بلخی سے پڑھی اور ولواج میں بعد ۵۴۰ھ کو فوت ہوئے۔فتاویٰ ولواجیہ آپ کی تصنیفات سے یادگار ہے۔’’تاج کونین‘‘تاریخ وفات ہے۔ 1۔ظہیرالدین لقب تھا’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
علی بن عراق بن محمد بن علی عمرانی خوارزمی: ابو الحسن کنیت تھی۔اپنے زمانہ کے فقیہ فاضل مفسر کامل شیخ حنفیہ مرجع انام تھے۔آپ کی تصنیفات سے تفسیر خوارزمی یادگار ہے۔۵۳۹ھ میں وفات پائی۔’’طوطئی شہر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عمر بن محمد بن احمد بن اسمٰعیل بن محمد بن لقمان نسفی المعروف بہ مفتی ثقلین: نجم الدین لقباور ابو حفص کنیت تھی۔شہر نسف میں ۴۲۶ھ میں پیدا ہوئے۔ امام فاضل،اصولی،متکلم،مفسر،محدث فقی،حافظ،متقن،لغوی،نحوی،ادیب،عارف مذہب تھے اور بسبب کثرت حفظ اور قبولیت خواص وعوام کے ائمہ مشہور بن میں سے ہوئے ہیں۔فقہ صدر الاسلام ابی الیسر محمد بزدوی شاگرد ابی یعقوب یوسف سیّاری تلمیذ ابی اسحٰق حاکم نوقدی شاگرد ہندوانی سے حاصل کی اور آپ سے آپ کے بیٹے ابو اللیث احمد بن عمر المعروف بہ مجد نسفی نے تفقہ کیا اور آپ کی بعض تصانیف صاحب ہدایہ اور ابو بکر احمد بلخی المعروف بہ ظہیر نے آپ سے پڑھیں اور عمر بن محمد عقیلی نے روایت کی۔چونکہ آپ انس و جن کا جانتے تھے اس لیے لوگ آپ کو مفتی ثقلین کہتے تھے،مشائخ بھی آپ کے بہت تھے اس لیے ایک کتاب آپ نے اپنے مشائخ کے اسماء میں۔۔۔
مزید
عبد الغافر[1]: اپنے زمانہ کے امام فاضل شیخ کامل فقیہ جید محدث ثقہ جامع علوم و فنون ظاہر یہ ورسمیہ تھے۔کتاب مجمع الغرائب فی غریب الحدیث نہایت نفیس بڑی تحقیق و تدقیق کے ساتھ تصنیف کی اور ۵۳۷ھ میں وفات پائی،تاریخ وفات آپ کی ’’زیب ادبستان‘‘ ہے۔ 1۔ عبدالغافر بن اسمٰعیل فارسی امام قیشری کے اسے شافعی المذہب تھے ’’معجم المؤیضین‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبدالمجید بن اسمٰعیل بن محمد ابو سعد قیسی ہروی: آپ اصل میں ہرات کے رہنے والتے تھے،ماوراء النہر کے علماء و فضلاء مثل فخل الاسلام بزدوی وغیرہ سے فقہ حاصل کی اور مدت تک بغداد،بصرہ،ہمدان و بلا روم میں درس و تدریس میں مشغول رہے،اخیر کو بلا دروم کے قاضی مقرر ہوئے۔فروع واصول میں کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے دونون بیٹوں اسمٰعیل و احمد نے آپ سے اخذ کیا اور علم پڑھا۔۵۳۴ھ میں دمشق میں آئے اور مقام قیساریہ میں ۵۳۷ھ کو وفات [1] پائی،’’تاریخ مجلس‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ معبر ۸۰ سال ابو سعد یعقوب علمی جواہر المضیۃ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عمر بن عبد العزیزبن عمر بن مازہ المعروف بہ صدر الشہید: ابو محمد کنیت اور حسام الدین لقب تھا،۴۸۳ھ میں پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے ائمہ کبار میں سے فقیہ محدث اصول و فروع میں امام اور منقول و معقول کے بڑے عالم تھے۔خلاف و مذہب میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا،مناظرہ میں مخالف کے مسکت کرنے میں یگانۂ زمانہ تھے،فقہ وغیرہ علوم اپنے باپ برہان الدین کبیر عبد العزیز سے پڑھے اور اس قدر تحصیل علوم میں کوشش کی کہ خراسان کے علماء وفضلاء پر علم و فضل وحسن کلام میں فوقیت لے گئے اور آپ کی فضیلت کا موافق و مخالف نے اقرار کیا۔ماوراء النہر میں یہاں تک آپ کا رعب داب ہوا کہ بادشاہ و امراء وغیرہ آپ کی بڑی تعظیم کرتے اور آپ کے اشارات کو بہ دل و جاں قبول کرتے تھے چنانچہ اس عزت و توقیر سے مدت تک آپ تدریس و تصنیف میں مشغول رہے صاحب محیط اور صاحب ہدایہ اور عمر بن مح۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ قیام الحق امیر الدین حیدری قدس سرہٗ عارف کامل،عالم متجر،حضرت نور الحق شاہ حیدر بخش قدس سرہٗ المتوفی ۲۵ شوال ۱۲۲۴ھ کے چھوٹے صاحبزادے،درسیات اپنے چچا حضرت مولانا شاہ حبیب الدین اور اساتذۂ جون پور سے پڑھی،ذھین و ذکی اور اخاذ بلیع تھے، والد ماجد سے مرید تھے،آ پ سے کرامتوں کا بہت ظہور ہوا،آپ کی توجۂ عالی سے بہت سے طالبین حق واصل الی اللہ ہوکر درجہ کمال کو پہونچے،تزکیۂ و تصضیۂ باطن کے ساتھ علم حدیث وتصوف کا خصوصی درس بھی دیتے تھے۔۹ محرم ۱۲۶۵ھ میں واصل بحق ہوکر غریق بحر رحمت وانوار الہیہ ہوئے۔(تاریخ جون پور)۔۔۔
مزید