منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

علی بن محمد واسطی  

              علی بن محمد واسطی: عالم فاضل اور فقیہ مقبول مخالف و موافق تھے،مدت تک ابی عبداللہ بصری تلمیذ امام ابی الحسن کرخی کی صحبت میں رہے اور ان سے علوم حاصل کیے اور آپ سےعبد اللہ حسین بن علی صمیری نے پڑھا اور روایت کی۔ واسطی شہر واسط کی طرف منسوب ہے جو ماہ بین بصرہ و بغداد کے واقع ہے جس کے صحرا میں خوب قلمیں پیدا ہوتی ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

علی بنداریزدی

          علی بن دار یزدی: ابو القاسم کنیت تھی اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے پکارے جاتے تھے۔مسکن آپ  کا شہر یزد تھا جو علاقۂ شیراز میں ما بین اصفہان و کرمان کے واقع ہے،آپ جمال الدین مطہر یزدی صاحب تہذیب شرح جامع صغیر کے پڑدادا تھے۔علوم،ابی جعفر قاضی نسفی شاگرد جصاص احمد رازی سے حاصل کیے اور جامع صغیر کی شرح تصنیف کی جس سے اکثر صاحب تہذیب نے نقل کی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

میمون مکحولی  

              میمون بن محمد بن محمد بن معتمد ب محمد بن مکحول بن فضل مکحولی نسفی: ابو المعین کنیت تھی۔امامفاضل جامع فروع واصول تھے۔کتاب تبصرۃ الدولہ اورت تمہید قاعد التوحید اور کتاب المناہج اور شرح جامع کبیر وغیرہ تصنیف کیں اور علاؤالدین ابو بکر محمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء نے آپ سے تفقہ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ہبتہ اللہ بن احمد

          ہبتہ اللہ بن احمد بن یحییٰ بن زہیر ب ن ہارون بن موسیٰ بن ابی جرادہ صاحب حضرت علی﷜: بڑے عالم فاضل فقیہ کامل تھے۔فقہ قاضی ابی جعفر محمد بن احمد عراقی فقیہ متکلم متوفی ۴۴۵؁ھ سے پڑھی،آپ ہی ہیں جن کے خاندان سے سب سے پہلے حلب کے قاضی مقرر ہوئے،آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو ما بین امام ابو حنیفہ وصاحبین کے واقع ہوئے آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو مابین امام ابو حنیفہ و صاحبین کے واقع ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

سید ابی شجاع

           محمد بن احمد بن حمزہ ب ن حسین بن علی بن عبداللہ بن حسن بن علی المعروف بہ سید ابی شجاع،عالم فاجل فقیہ کامل[1]تھے۔سمر قند میں رکن الاسلام علی بن حسین سغدی اور امام حسن ما تریدی کے معاصر تھے اور آپ کے زمانہ میں جس فتاویٰ پر ان تینوں کے دستخط ہوتے تھے وہ بڑا معتبر خیال کیا جاتا تھا۔   1۔ آپ حضرت عباس بن علی﷜کی اولاد میں سے تھے آپ کے بیٹے ابو الوضاع محمد (ولادت ۴۳۷ھ وفات سوال ۴۹۲ھ)نے آپ سے فقہ تعلیم حاصل کیا’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن جعفر نسفی

           محمد جعفر بن محمد بن معتزبن محمد بن مستغفر نسفی: فقیہ کامل محدث فاضل صاحب خیرو صلاح تھے۔ابو ذرکنیت تھی،آپ کے والد جعفر بن محمد نےھ آپکو ایک جماعت شیوخ سے حدیث سماعت کرائی۔جب آپ کے والد فوت ہوئے تو آپ بجائے ان کے،نسف کے خطیب مقرر ہوئے،ابو محمد عبد العزیز بن محمد نخشبی نے اپنی معجم شیوخ میں آپ کا ذکر کیا اور لکھا کہ آپ نے ابا الفضل یعقوب بن اسحٰق اسلامی اور ابا محمد عبد الملک بن مروان بن ابراہیم بن رافع وغیرہ سے حدیث کو سنا اور روایت کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد ترمذی

           احمد بن علی ترمذی: آپ کی کنیت ابو بکر وراق تھی اور وراق اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث وغیرہ لکھا کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکثر کتابت کیا کرتے تھے۔آپ نے مختصر طحطاوی کی شرح بڑے بسط کے ساتھ چار جلدوں میں تصنیف کی اور اس میں پہلے تین کے مسئلہ کو بیان کر کے اس کی شرح یون شروع کی کہ احمد ن ےکہا الخ قنیہ میں لکھ اہے کہ ایک دفعہ آپ حج کے لیے مکہ معظمہ  کو روانہ ہوئے۔جب پہلی ہی منزل پر پہنچے تو اپنے اصحاب کو فرمایا کہ مجھ کو واپس پھر لیجاؤ کیونکہ میں نے صرف ایک ہی منزل میں ساتھ سوگناہ کبیرہ کیا ہے، پس وہ آپ کو پھیرلے گئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

یحییٰ ناصحی

          یحییٰ بن عبداللہ حسین ناصحی: ابو صالح کنیت اور قاضی القضاۃ خطاب تھا، اپنے زمانہ کے عالم فاضل فقیہ متجر عارف مذہب تھے،فقہ اپنے باپ سے اخذ کی اور تدریس و افتاء میں مشغول رہے،وفات آپ کی ۴۹۵؁ھ [1] میں ہوئی،سال وفات آپ کا لفظ ’’فہیم عصر‘‘ ہے۔   1۔ ولادت ۴۱۵؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

خواہر زادہ

          محمد بن عبد الحمید بن عبد الرحیم بن احمد بن عبد اللہ بن عبد الوہاب المعروف بخواہر زادہ بڑے عالم فاضل فقیہ محدث تھے اور مرو میں آپ کے وقت میں امام ابو حنیفہ کے اصحاب سے آپ سے زیادہ کوئی متوغل فی الحدیث اور کتابت فی الحدیث میں نہ تھا اور اہل حدیث کے بڑے محب تھے،آپ نے حدیث کو بکثرت سنا اور اپنے ہاتھ سے لکھا،چونکہ آپ قاضی ابی الحسن علی بن حسین دہقان کے بھانجے تھے اس لیے خواہر زادہ کے لقب سے ملقب ہوئے اور ابو سعید کنیت تھی،مرو میں ماہ جمادی الاولیٰ ۴۹۴؁ھ میں وفات پائی۔بزرگ دارین‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بزدوی

          محمد بن محمد بن حسین بن عبد الکریم بن موسیٰ بن مجاہد بزدوی: ابو الیسر کنیت،صدر الاسلام لقب تھا،اپنے وقت کے امام ائمہ علی الا طلاق جامع فروع و اصول صاحب تصنیفات تھے،ماوراء النہر میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔فقہ وغیرہ اسمٰعیل بن عبد الصادق سے،انہوں نے ابی الیسر عبد الکریم، انہوں نے امام محمد سے حاصل کی اور نیزابی یعقوب یوسف سیاری سے اخذ کیا اور آپ سے نجم الدین نسفی اور علاؤالدین محمد بن احمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء اور ابن ابی الیسر ابو المعالی احمد اور ان کے بھائی کے بیٹے حسن بن علی نے اخذ کیا اور بخارا میں ۴۹۳؁ھ میں وفات پائی،بحر بے کنار‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید