احمد بن اسحٰق بن شیث [1] صفار: ابو نصر کنیت تھی،اصل میں بخارا سے آکر مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی چنانچہ آپ کی تصانیف اور علم نیے کثرت سے شیوع پایا،بخارا میں آپ جیسا حفظ فقہ و حدیث و ادب میں اور کوئی عالم نہ تھا،حافظ ابو عبد اللہ حاکم نے تاریخ نیشا پور میں لکھا ہے کہ آپ حج ک ے لی ے ہماری طرف آئے اور حدیث کو ہر ایک قسم کے علم میں جستجو کیا اور مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی جہاں آپ کی تصانیف اور علم نے کثرت سے شیوع پایا اور طائف میں فوت ہوئے۔ 1۔ شیث وفات ۴۶۱ھ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
اسمٰعیل بن عبد الصادق بن عبد اللہ الخطیب [1]البناری: بڑے فقیہ پرہیز گار تے،اور قومس کےعلاقہ میں بسطام سے لے کر سمنان تک کا ردار تھے،علوم عبد الکریم بن موسیٰ بزدوی جد فخر الاسلام بزدوی حاصل کیے اور آپ سے صدر الااسلام ابو الیسیر محمد بن عبد اکریم بزدوی نے تفقہ کیا۔ 1۔البیاری وفات ذی الحج ۴۱۴ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
اسحٰق بن شیث المعروف [1] بالصفار: بڑے عالم فاضل ثقہ تھے،۴۰۵ھ میں حج کے ارادہ سے بغداد میں آئے جہاں نصر بن احمد بن اسمٰعیل کیسانی سے حدیث کو سُنا اور روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے ابو نصر احمد بن اسحٰق نے علم حاصل کیا، آپ وجہ معیشت کے لیے کانسی کے برتنوں کی تجارت کیا کرتے تھے اس لیے صفار کی نسبت سے معروف ہوئے۔ 1۔ اسحٰق بن احمد بن شیث بن نصر بن شبیب بن الحکم الصفار بخاری صاحت تصانیف (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
علی بن محمد واسطی: عالم فاضل اور فقیہ مقبول مخالف و موافق تھے،مدت تک ابی عبداللہ بصری تلمیذ امام ابی الحسن کرخی کی صحبت میں رہے اور ان سے علوم حاصل کیے اور آپ سےعبد اللہ حسین بن علی صمیری نے پڑھا اور روایت کی۔ واسطی شہر واسط کی طرف منسوب ہے جو ماہ بین بصرہ و بغداد کے واقع ہے جس کے صحرا میں خوب قلمیں پیدا ہوتی ہیں۔ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
علی بن دار یزدی: ابو القاسم کنیت تھی اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے پکارے جاتے تھے۔مسکن آپ کا شہر یزد تھا جو علاقۂ شیراز میں ما بین اصفہان و کرمان کے واقع ہے،آپ جمال الدین مطہر یزدی صاحب تہذیب شرح جامع صغیر کے پڑدادا تھے۔علوم،ابی جعفر قاضی نسفی شاگرد جصاص احمد رازی سے حاصل کیے اور جامع صغیر کی شرح تصنیف کی جس سے اکثر صاحب تہذیب نے نقل کی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
میمون بن محمد بن محمد بن معتمد ب محمد بن مکحول بن فضل مکحولی نسفی: ابو المعین کنیت تھی۔امامفاضل جامع فروع واصول تھے۔کتاب تبصرۃ الدولہ اورت تمہید قاعد التوحید اور کتاب المناہج اور شرح جامع کبیر وغیرہ تصنیف کیں اور علاؤالدین ابو بکر محمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء نے آپ سے تفقہ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
ہبتہ اللہ بن احمد بن یحییٰ بن زہیر ب ن ہارون بن موسیٰ بن ابی جرادہ صاحب حضرت علی: بڑے عالم فاضل فقیہ کامل تھے۔فقہ قاضی ابی جعفر محمد بن احمد عراقی فقیہ متکلم متوفی ۴۴۵ھ سے پڑھی،آپ ہی ہیں جن کے خاندان سے سب سے پہلے حلب کے قاضی مقرر ہوئے،آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو ما بین امام ابو حنیفہ وصاحبین کے واقع ہوئے آپ نے ایک کتاب ان اختلاف کے باب میں تصنیف کی جو مابین امام ابو حنیفہ و صاحبین کے واقع ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن حمزہ ب ن حسین بن علی بن عبداللہ بن حسن بن علی المعروف بہ سید ابی شجاع،عالم فاجل فقیہ کامل[1]تھے۔سمر قند میں رکن الاسلام علی بن حسین سغدی اور امام حسن ما تریدی کے معاصر تھے اور آپ کے زمانہ میں جس فتاویٰ پر ان تینوں کے دستخط ہوتے تھے وہ بڑا معتبر خیال کیا جاتا تھا۔ 1۔ آپ حضرت عباس بن علیکی اولاد میں سے تھے آپ کے بیٹے ابو الوضاع محمد (ولادت ۴۳۷ھ وفات سوال ۴۹۲ھ)نے آپ سے فقہ تعلیم حاصل کیا’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد جعفر بن محمد بن معتزبن محمد بن مستغفر نسفی: فقیہ کامل محدث فاضل صاحب خیرو صلاح تھے۔ابو ذرکنیت تھی،آپ کے والد جعفر بن محمد نےھ آپکو ایک جماعت شیوخ سے حدیث سماعت کرائی۔جب آپ کے والد فوت ہوئے تو آپ بجائے ان کے،نسف کے خطیب مقرر ہوئے،ابو محمد عبد العزیز بن محمد نخشبی نے اپنی معجم شیوخ میں آپ کا ذکر کیا اور لکھا کہ آپ نے ابا الفضل یعقوب بن اسحٰق اسلامی اور ابا محمد عبد الملک بن مروان بن ابراہیم بن رافع وغیرہ سے حدیث کو سنا اور روایت کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن علی ترمذی: آپ کی کنیت ابو بکر وراق تھی اور وراق اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث وغیرہ لکھا کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکثر کتابت کیا کرتے تھے۔آپ نے مختصر طحطاوی کی شرح بڑے بسط کے ساتھ چار جلدوں میں تصنیف کی اور اس میں پہلے تین کے مسئلہ کو بیان کر کے اس کی شرح یون شروع کی کہ احمد ن ےکہا الخ قنیہ میں لکھ اہے کہ ایک دفعہ آپ حج کے لیے مکہ معظمہ کو روانہ ہوئے۔جب پہلی ہی منزل پر پہنچے تو اپنے اصحاب کو فرمایا کہ مجھ کو واپس پھر لیجاؤ کیونکہ میں نے صرف ایک ہی منزل میں ساتھ سوگناہ کبیرہ کیا ہے، پس وہ آپ کو پھیرلے گئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید