قاضی شرف الدین مولانا حسام الدین ملتانی کے یار تھے جو سلف کی سیرت و صورت رکھتے اور فخر خلف تھے آپ کو قاضی شرف الدین فیروز گہی بھی کہتے تھے۔ آپ وفور علم اور زہد و تقوی کے ساتھ آراستہ اور ترک تکلف سے پیراستہ تھے قرآن مجید کے حافظ اور درگاہ سبحانی کے عاشق تھے۔ اگر کوئی شخص آپ کو دیکھتا تو بے ساختہ بول اٹھتا کہ یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے جو اس ہئیت سے زمین پر چلتا ہے یہ بزرگوار علوم کا کافی حصہ رکھتے اور فضل و بزرگی میں ایک آیت تھے۔ کاتب حروف نے دیوانِ احسن حسن بزرگ کے سامنے رکھا ہے ار اس کے دقائق و حقائق دریافت کیے ہیں۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے گھر کی ضروری اور مایحتاج چیزیں مثلاً غلہ لکڑی وغیرہ خود اٹھا کر گھر میں لاتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کھچڑی اور لکڑیاں ہاتھ میں لیے ہوئے رستہ میں چلے آ رہے تھے کہ سامنے سے قاضی کمال الدین صدر جہان مرحوم نے آپ کو دیکھا باوجود اس کروفر اور حشمت و شوکت کے صدر ۔۔۔
مزید
زاہدِ یگانہ عابدِ زمانہ خدا تعالیٰ کا منتخب و بر گزیدہ شرف اختصاص کے ساتھ مخصوص خواجہ ابو بکر مصلی دار خاص ہیں جو سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف کے ساتھ مشرف تھے اور خلا ملا میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اگرچہ آپ کو سلطان المشائخ کی خدمت میں سے کوئی وقت سانس لینے کو نہیں ملتا تھا اور ہر وقت اس میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے بلکہ کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ افطار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ قطع نظر اس کے آپ انتہا درجہ کی مشغولی اور سخت مجاہدہ میں محو رہتے تھے۔ جب جمعہ کے دن سلطان المشائخ کا مصلا نماز فجر کے بعد کیلوکھری کی جامع مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تھا تو سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابو بکر میرا مصلّٰی جامع مسجد میں لے گئے ہیں اور مشغول بحق ہیں۔ خواجہ ابو بکر کو سماع کا بہت ذ۔۔۔
مزید
عابد اہل طریقت۔ افضل اہل حقیقت مولانا بہاؤ الملۃ والدین ادہمی رحمۃ اللہ علیہ کو اس زمانہ کے لوگ دار الامانی بھی کہتے تھے علم میں کافی حصہ رکھتے تھے اور تقوی کامل سے آراستہ تھے۔ دنیائے غدار میں بہت دن تک زندہ رہے اگرچہ آپ عالمانہ تزک و احتشام رکھتے تھے لیکن حقیقت میں اہل تصوف کی صفت سے موصوف تھے جب آپ اپنے قدیم وطن ملتان سے شہر دہلی میں تشریف لائے تو سلطان المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک ہوئے اور صرف جناب سلطان المشائخ کی محبت و عشق کی وجہ سے شہر میں سکونت اختیار کی۔ اس کے بعد آپ کا ہمیشہ یہ دستور رہا کہ جب سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دن کو وہاں رہتے اور شب کو کاتب حروف کے والد بزرگوار کے مکان پر رونق افروز ہوتے اور وہیں سوتے۔ آپ انتہا درجہ کے تقوی و ورع کے سبب ہر روز غسل کرتے اور ترک و تجرید میں انتہا سے زیادہ کوشش کرتے۔ آخر الامر چند روز بیمار رہ کر کر انتقال ف۔۔۔
مزید
مولانا قاسم جو سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کے بھانجوں میں سے ایک نہایت نامور بلند اقبال شخص ہیں۔ خواجہ عمر کے صاحبزادے اور خواجہ ابو بکر کے بھتیجے ہیں جو لطائف التفسیر کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ تفسیر کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ رحمت پرور دگار کا امید وار بندہ قاسم جناب سید السالکین برہان العاشقین نظام الحق والدین کے حقیقی بھانجے کا فرزند عرض کرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اس فقیر پر اپنی عنایت سابقہ کی اور اس بیچارہ کو عدم کے پردہ سے عالم وجود میں لایا تو طرح طرح کی نعمتوں کے ساتھ مخصوص کیا جس میں سے بعض نعمتیں جو فلاح دارین کی موجب اور دین و دنیا کی سعادت کے باعث ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اس خاکسار کو سلطان المشائخ قطب الاقطاب عالم کی نظرِ مبارک میں ملحوظ رکھا اور آپ نے اپنے طرح طرح کے باطنی انفاس سے جو حقیقت میں غیب کی کان اور لاریبی علوم کے قرار کی جگہ ہے۔ زب۔۔۔
مزید
نہایت بزرگ اور علوم کا کافی حصہ رکھتے تھے۔ فضائل بے شمار اور خصائل پسندیدہ کے ساتھ موصوف تھے۔ قطع نظر اس کے حافظ کلام ربانی تھے۔ سلطان المشائخ کے اکثر اقربا نے ان ہی بزرگ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ کاتب حروف کے اعمام بزرگ اورخود کاتب حروف ان ہی کے شاگرد ہیں۔ آپ پر جگر سوز گریہ بہت کچھ غالب تھا اور انتہا درجہ کی مشغولی میں مصروف تھے ساری عمر تلاوت قرآن مجید میں بسر کی اور طریقہ اولیاء اللہ پر اس دنیائے غدار سے سفر کیا رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
سید با وقار سرور ساداتِ روزگار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے عم بزرگوار تھے اور مردی وجوانمردی میں حیدر ثانی۔ صدق وافر اور فراستِ کامل رکھتے اور درویشوں اور لشکری محتاجوں کو چاندی سونے کی کافی مقدار سِکّے دیتے اگرچہ یہ بزرگ گاؤں اور زمین کے مالک تھے اور طبل و علم برداری کا عہدہ رکھتے تھے لیکن باوجود ان علائق کے تمام تصوفی اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ عقل کامل رکھتے اور اپنے تمام کاموں کا انجام بمقتضایٔ عقل دیتے تے۔ امیر خسرو خوب فرماتے ہیں۔ کارے نکرد جز بکمالات علم و عقل گوئی کہ صد عمامہ بزیرِ کلاہ داشت سبحان اللہ عجب قوت رکھتے تھے کہ بجز صدق و راستی کے زبانِ مبارک پر کوئی بات جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ تمام فضائل اس تربیت و پرورش کا ثمرہ تھا جو آپ کو سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں حاصل ہوئی تھی۔ سب سے بڑ۔۔۔
مزید
سادات کرام کے شرف برگزیدہ مخلوق کے خلاصہ خاص و عام کے مقبول سید السادات منبع البرکات شمس الملۃ والدین سیدخاموش ابن سید محمد کرمانی کاتب حروف کے چھوٹے چچا ہیں جو علم و فضل اور فیاضی و سخاوت و لطافت طبع اور خاص و عام کو کھانا دینے میں بے مثل اور یگانہ روز گار تھے۔ آپ نے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی۔ اور مجلس خلوت میں سلطان المشائخ کے سامنے نظامی کا خمسہ نہایت خوش الحانی اور درد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص اور بے اندازہ جمال اور بے حد لطافت رکھتے تھے۔ یہ ضعیف عرض کرتا ہے۔ در زات مبارک تو پید است وصف تو حد بیان من نیست ھر جاکہ لطافتے است ای جان حسنِ تو بس است دلیل و برھان (تیری ذات مبارک سے جہان کہیں کہ لطافت اور خوبی ہے پیدا ہے۔ تیرے اوصاف کا بیان کرنا میری قدرت سے باہر ہے تیرا کمال ہی تیرے اوصاف ک۔۔۔
مزید
پیشوائے اصحاب طریقت مقدم ارباب حقیقت خواجہ ابو بکر مندہ رحمۃ اللہ علیہ علم و زہد اور ورع و تقوی میں آراستہ اور سلف صالحین کی سیرت و صورت سے پیراستہ تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ خواجہ ابوبکر مندہ سلطان المشائخ کے مصاحب قدیم تھے اور دونوں حضرات باہم ایک دوسرے کی صحبت میں بہت رہے ہیں۔ ابھی سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم فریدالحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کی شرف خلافت سے ممتاز و مشرف نہ ہوئے تھے کہ خواجہ ابوبکر مندہ نے آپ سے عرض کیا تھا کہ جب آپ شیخ شیوخ العالم شیخ کبیر کی سعادت خلافت سے مشرف ہوں گے میں آپ کی خدمت میں ارادت لاؤں گا اور حضور سے بیعت کروں گا چنانچہ جس وقت سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم کبیر کی دولت خلافت اور دوسری سعادتوں سے مشرف ہوئے اور شہر میں تشریف لائے تو ہر ایک شخص نے چند روز کے بعد آپ سے بیعت کی التما۔۔۔
مزید
صحراے تصوف کے شیر تکلف و بناوٹ سے عاری مولانا جلال الملۃ والدین اودھی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو زہد و ورع اور ترک و تجرید کے ساتھ اول آخر تک موصوف رہے آپ نے تمام دنیاوی تعلقات دفعۃً ترک کر دئیے اور دنیا کے غوغا سے عاجز آکر گوشہ نشینی اختیار کی اور خدا کی عبادت سلطان المشائخ کی محبت میں مشغول ہوئے آپ اودھ کے اکثر یاروں سے ارادت و بیعت میں سابق تھے اور سب کے نزدیک معظم و مکرم سمجھے جاتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اودھ کے تمام یاروں نے اتفاق کیا کہ سلطان المشائخ سے علمی تبحر حاصل کرنے کی اجازت لینی چاہیے اگرچہ ان بزرگوں میں ایک ایک بزرگ عالم متبحر اور فاضل عصر تھا لیکن سلطان المشائخ کے حکم سے یاد حق میں مشغول تھا مگر چونکہ ایک عمر دراز علم کے شغل میں مصروف کی تھی اس لیے انہیں یہ ہوس دامن گیر ہوئی کہ اس کام کے ساتھ علمی مناظروں۔۔۔
مزید
صورت صفا سیرت وفا خواجہ کریم الملۃ والدین سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو مکارم اخلاق میں دنیا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ کا ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف سے آراستہ تھا فضائل خاص اور علوم بے شمار میں بے مثل تھے آپ کی فیاض طبیعت غایت درجہ کی لطافت اور عقل کامل انتہا مرتبہ کی فراست پر واقع ہوئی تھی اور یہ تمام باتیں حقیقت میں اس کا ثمرہ تھا تھا کہ آپ سلطا المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک تھے اور اپنے صفائی اعتقاد کی وجہ سے مخدوم جہان کی محبت میں نہایت راسخ قدم اور محکم تھے اور اس کے ساتھ ہی حضرت سلطان المشائخ کے ہمیشہ منظور نظر تھے یہاں تک کہ حضور کی بخشش و مہربانی آپ کے بارے میں حد درجہ تھی اور اس کا سبب یہ ہوا کہ آپ کے والد بزرگوار خواجہ کمال الملۃ والدین سمر قندی جو دولتِ خراسان کے وزیر اعظم تھے دیار ہندوستان میں تشریف لائے اور بادشاہ ہند کی طرح طرح کی ۔۔۔
مزید