بن ہدیر بن عبدالعزیٰ بن عامر بن حارث بن حارثہ بن سعدبن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عثمان۔ان کا نسب ان کے بھائی طلحہ بن عبیداللہ کے بیان میں گذرچکاہے یہ قریشی تھے تیم کی اولاد سے تھےان کی والدہ کریمہ بنت موہب بن نمران قبیلہ کندہ کی ایک خاتون تھیں یہ اسلام لائے تھے اورمہاجرتھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ابوعمرنے کہاہے کہ مجھ کو ان کی کوئی روایت نہیں یادہے ان کی اولاد میں سے محمدبن طلحہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن عثمان بن عبداللہ تھے نسب اورمغازی کوسب سے زیادہ جانتے تھے ان سے حدیث روایت کی گئی ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
تیمی ہیں۔حصن بن عثمان نے کہاہے کہ عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۷۴ھ ہجری میں وفات پائی اورصحابی تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ کعب بن لوئی قریشی تیمی ہیں۔ ان کی کنیت ابوقحافہ تھی حضرت ابوبکرصدیق کے والدتھے(رضی اللہ عنہما)ان کی والدہ آمنہ بنت عبدالعزیٰ بن حدثان بن عبیدبن عویج بن عدی بن کعب تھیں اس کو زبیربن بکار نے بیان کیاہے یہ فتح مکہ کے واقعہ میں ایمان لائےتھےیہ حضرت ابوبکرکے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس واسطے آئے تھےکہ آپ کی بیعت کریں ہم کوعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکر خبر دی وہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن سلمہ حرانی نے ہشام سے انھوں نےمحمدبن سیرین سے نقل کرکےبیان کیاوہ کہتےتھے کہ انس بن مالک سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب لگانےکی نسبت دریافت کیاگیاتوانھوں نے کہاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفیدنہ تھے لیکن چنداورابوبکر اورعمررضی اللہ عنہمانے آپ کے بعد مہندی اور وسمہ کا خضاب کیا۔۔۔
مزید
بن بشربن عبدبن دہمان بعض نے عبددہمان کہاہے ابن عبداللہ بن ہمام بن ایان بن سیاربن مالک بن حطیط بن خثیم بن ثقیف ثقفی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی یہ ثقیف کے وفد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اوراسلام لائے تھے ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر طائف کاعامل کردیاتھاہم کوعبیداللہ بن احمد بن سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیر تک پہنچاکر ابن اسحاق سے روایت کرکے خبردی اور ثقیف کے وفد کے قصہ کوبیان کرکے کہاکہ جب ثقیف کے وفوداسلام لائے تو آپ نے ان کوایک تحریر لکھ دی اورعثمان بن ابی عاص کو ان کا امیرکر دیایہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ نوجوان تھے اور اس زمانے میں یہ مسائل دینی اور قرآن کے سیکھنے میں زیادہ حریص تھے چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہایارسول اللہ میں اس لڑکے کو مسائل دینی اورقرآن کے سیکھنے میں سب سے زیادہ حریص پاتاہوں عبید۔۔۔
مزید
بن ابی طلحہ یعنی عبداللہ بن عبدالعزیٰ بن عثمان بن عبدالدار بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی عبدری حجمی ہیں ام سعید ان کی والدہ تھیں اوروہ عمروبن عوف کی اولادمیں سے تھیں ان کے والد طلحہ اور چچا عثمان بن ابی طلحہ غزوہ احد میں بحالت کفرقتل کیے گئے حضرت حمزہ نے عثمان کو اور حضرت علی نے طلحہ کو مقابلے کے وقت قتل کیاتھا۔نیز واقعۂ احد میں سافع اورجلاس کواورزبیرنے کلاب کواورقزمان نے حارث کوقتل کیاتھا اور عثما ن بن طلحہ خالد بن ولید کے ساتھ صلح حدیبیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرآئے تھے (اثناء راہ میں) ان دونوں نے عمروبن عاص سے ملاقات کی کیوں کہ وہ بھی نجاشی کے پاس بارادہ ہجرت آرہے تھے پس یہ سب ساتھ ہوگئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں حاضرہوئے ان کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر صحابہ سے فرمایاکہ مکہ نے اپنے جگرکے ٹکڑے تمھارے حوالے کردیے۔۔۔
مزید
بن اہیان بن وہب بن حذافہ بن جمح قریشی جمحی ہیں یہ مہاجرین حبشہ میں سے تھے اس کو ابن اسحاق نے بیان کیاہے اورواقدی نے کہاہے کہ ان کے بیٹے نبیہ بن عثمان وہی ہیں جنھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن اہیان بن وہب بن حذافہ بن جمح قریشی جمحی ہیں یہ مہاجرین حبشہ میں سے تھے اس کو ابن اسحاق نے بیان کیاہے اورواقدی نے کہاہے کہ ان کے بیٹے نبیہ بن عثمان وہی ہیں جنھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری اوسی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی سہل بن حنیف کے تذکرے میں بیان ہوچکاہے۔ ان کی کنیت ابوعمرتھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ تھی یہ احد اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ملک عراق کی پیمائش کرنے پرمقررکیا تھاانھوں نے وہاں کی مزروعہ اورغیرمزروعہ زمین کی پیمائش کی اور اس پر خراج مقررکیااور ان کو حضرت علی نے بصر ہ پرعامل بنادیاتھاچنانچہ یہ وہاں عامل رہے یہاں تک کہ حضرت طلحہ وزبیر حضرت عائشہ کے ہمراہ واقعہ جمل میں وہاں پہنچے تو انھوں نے ان کو بصرہ سے نکال دیاپھرحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصرے میں آئے اورجنگ جمل شروع ہوئی جب حضرت علی نے لوگوں پر فتح پائی تو عبداللہ بن عباس کوبصرہ کاعامل کردیااور عثمان بن حنیف نے کوفہ میں سکونت اختیارکرلی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے ان سے ان کے بھتیجے ابوامامہ بن سہل اوران کے بیٹے عبدالرحمن اورہانی ۔۔۔
مزید
ہشام بن زیادنے عماربن سعدسے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ)عثمان بن ارزق ہم لوگوں کے پاس جمعہ کے دن مسجد میں آئے امام خطبہ پڑھ رہاتھاپس انھوں نے آگے آنے میں کمی کی اور وہیں مسجد میں بیٹھ گئے ہم لوگوں نے ان سے کہاآپ پراللہ رحم کرے اگرآپ ہم لوگوں تک پہنچ جاتے توآپ کو بہت مناسب تھاانھوں نے کہا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو سناہے کہ خروج امام کے بعد(یعنی امام جب مسجد میں اپنی جگہ پر پہنچ جائے)جوشخص آدمیوں کو نانگھےپھاندے یا آدمیوں میں تفرقہ ڈالدے (یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے)وہ مثل اس شخص کے ہوگا جو دوزخ میں اپنی انتڑیوں کو کھینچے گا ان کا تذکرہ ابوموسیٰ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید