بن خالدبن معاویہ بہرانی ہیں اوس (کے خاندان)کے حلیف تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے مگرابوعمرنے کہاہے کہ ان کی شرکت بدر میں اختلاف کیاگیاہے ابن اسحاق نے توان کو بہرانی بیان کیاہے مگرابن کلبی نے انکوبہزی بہزبن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم کی اولاد سے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن جاریہ بن اسید بن عبداللہ بن سلمہ بن عبداللہ بن غیرۃ بن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ان کی کنیت ابوبصیرتھی اوریہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہورہیں یہ وہی ہیں کہ جو صلح حدیبیہ میں کافروں کے پاس سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگ آئے تھے پھر ان کو قریش نے طلب کیاتاکہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف واپس کردیں کیوں کہ (اس زمانے میں)کفارقریش سے اس بات پرصلح کرلی تھی کہ جوشخص تمھاری طرف سے ادھر آئے گا وہ پھرتمھاری طرف لوٹادیاجائے گا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیرکو دوکافروں کی ہمراہی میں واپس کردیا انھوں نے اثناء راہ میں ایک کافرکوقتل کرڈالا اوردوسرا(یہ دیکھ کر)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھاگ آیااورابوبصیر نے بھی آپ کے پاس حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہ آپ کاعہد پورا ہوگیااورخدانے آپ سے (وفاء عہدکابار)اتار دیامیں نے اپنی ذات کومشرکوں سے بچایا تھاتاکہ مجھ کو میرے۔۔۔
مزید
بن عمربن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی سالمی غزوہ بدر میں شریک تھے مگرابن اسحاق نے ان کو اہل بدرمیں نہیں لکھادوسروں نےان کو اہل بدرمیں ذکرکیا ہے ہم کو خطیب عبداللہ بن احمد طوسی نے اپنی سند کےساتھ ابوداؤد طیالسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبردی وہ کہتے تھے میں نےزہری کو محمود بن ربیع سے روایت کرتے ہوئے سنا اور محمود بن ربیع عتبان بن مالک سالمی سے نقل کرتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کرتاتھامگرجب بہیہ آتی تھی تو مجھے اس نشیب کے پاراترنا مشکل ہوتاتھاجو کہ میرے اور مسجد کے درمیان میں تھا (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا یارسول اللہ مجھ پر اس نشیب کا اترنا بہت مشکل ہوتاہے پس اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھرتشریف لائیں اور میرے گھرکے کسی مقام پر نماز پڑھ دیں تاکہ میں اس مقام کو نماز کی جگہ۔۔۔
مزید
ضبی ہیں صحابی تھے۔ان سے ان کے بیٹے مجمع نے روایت کی ہے۔فضل بن وکین اوریحییٰ حمانی نے عبدالصمد بن جابر بن ربیعہ ضبی سے انھوں نے مجمع بن عتاب بن شمیرسے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ میراایک بوڑھاباپ ہے اورکئی بھائی ہیں ان کے پاس جاتاہوں شاید وہ اسلام لے آئیں پھر ان کو آپ کے پاس لاؤں آپ نے فرمایااگروہ لوگ اسلام لے آئیں تو ان کے لیے بھلائی ہے اوراگراسلام کو نامنظورکریں تو کچھ پرواہ نہیں خود پھیل رہاہے ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن قیس بن خالد بن مدلج یعنی ابوالحشر بن خالد بن عبدمناف بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں۔فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے۔اورواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے حشرکی حاکوفتح ہے اس کو ابن ماکولااوردارقطنی نےبیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی اموی ہیں ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۔بعض نے کہاہے کہ ابومحمدتھی۔زینب بنت عمروبن امیہ بن عبد شمس ان کی والدہ تھیں یہ فتح مکہ کے واقعہ میں ایمان لائے تھے۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ مکہ فتح کرکےحنین تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان کو مکہ کاعامل بنادیا۔اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو مکہ میں ٹھہرادیاتھاتاکہ وہاں کے لوگوں کودینی مسائل سکھائیں۔اورمحاصرۂ طائف سے لوٹنے کے بعدعتاب کومکہ کاعامل بنادیااورفرمایاکہ اے عتاب تم جانتے ہو کہ میں نے تم کو کن لوگوں پر عامل بنایاہے اگر میں ان کے لئے تم سے بہتر کسی اورکوسمجھتا تو اسی کو ان پر عامل بناتا۔جب ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ کاعامل بنایاتھا)تو ان کی عمربیس سے ایک یادوسال زیادہ تھی پھرانھوں نے لوگوں کو حج کرایایہ ۸ھ ہجری کازمانہ تھا۔۔۔
مزید
بن ہمام بن معاویہ ہم نے ان کا نسب مرثدہ کے نام میں ذکرکیاہے یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئےتھے اوراسلام لائے تھے ان کوابن کلبی نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کلابی ہیں بعض نے ان کانام عبیدہی بیان کیاہے ہم نے ان کو عبید اورعبیدہ کے نام میں صحیح طور سے بیان کیاہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابوعمرنے کہاہے کہ میں نے صحابہ میں عبیدہ نام سوائے عبیدہ بن حارث کے کسی کو نہیں پایا لیکن دارقطنی نے موتلف والمختلف میں ان کوعبیدہ بن خالد محاربی کہاہے اوربعض لوگوں نے ان کو ابن خلف کہاہے ان کی حدیث اشعث بن ابی شعثا ءسےروایت کی گئی انھوں نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے عبیدہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اورشیبان نے کہاہے کہ اشعث نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے اپنے والدکے چچاسے روایت کی ہے ان دونوں کے سوا دوسروں نے کہاہے کہ اشعث نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ابوعمر نے کہاہے کہ ان کے عبیدہ نام ہونے میں توکسی نے اختلاف نہیں کیاہاں ان کی حدیث کی سند اور ان کے والد کے نام میں اختلاف کاذکرکیاہے ابن ابی حاتم نے ان کو اپنے والد سے عبیدہ بفتح عین روایت کیاہے اوریہ بھی کہاہے کہ یہ ابن خالدہیں جوکچھ ان کی نسبت ابن ابی حاتم نے کہاہے وہی درست ہے ابن ۔۔۔
مزید
۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے۔ان کی حدیث اسمٰعیل بن ابی خالد نے ابوزرعہ بن عمربن جریرسے روایت کی ہے ان کاذکر عبدہ کے نام میں گذرچکاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید