اسودبن خالد کے بھائی تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ان کا نسب سلیمان بن قرم نے اشعث بن ابی شعشاء سے انھوں نے رہم بنت اسودسے انھوں نے اپنے چچاعبیدبن خالدسے روایت کرکےبیان کیاہے ان سے ان کی بھتیجی رہم بنت اسودبن خالد نے روایت کی ہے اورسعید بن عامرنے سعیہ سے انھوں نے اشعث بن شعشاء سے انھوں نے سلیم سے انھوں نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے اپنے چچاسےروایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں ایک روزاتفاقاً مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں جارہاتھاکہ یکایک کسی نے میرے پیچھے سے مجھ کوآوازدی کہ (اے شخص)اپنی ازارکو اونچا کرکیوں کہ ازارکواونچارکھنے میں زیادہ پرہیزگاری اورپائداری ہے(اس آوازکوسن کے) میں نے پھردیکھاتورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیایارسول اللہ یہ (میری ازارکی)چادر ملحاء ۱؎ہے(یعنی یہ اسی قدر عرض میں ہوتی ہے)پھرآپ نے اپنی ازارکوجونصف ساق تک تھی مجھے دکھایا اورفرمایاکیاتم کو۔۔۔
مزید
سلمی ہیں پھربہزی ہیں۔بعض لوگ ان کا نام عبدہ بن خالد اور بعض عبیدہ بن خالد کہتے ہیں مگرعبید بہت صحیح ہےابوعبداللہ ان کی کنیت تھی یہ مہاجری تھے ان سے کوفیوں کے ایک گروہ نے روایت کی ہے ۔یہ کوفہ میں رہتےتھے۔جن لوگوں نے ان سے روایت کی ہے ان میں سعد بن عبیدہ اورتمیم بن سلمہ بھی ہیں یہ جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک تھے ہم کوعبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سندکے ساتھ ابوداؤدطیالسی سے روایت کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے سعید نے عمروبن مرو سے انھوں نے عمروبن میمون سے انھوں نے عبداللہ بن ربیعہ سلمی سے انھوں نے عبید بن خالد سلمی سے جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھےروایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشخصوں کے درمیان مواخات کرادی تھی تو ان دونوں میں سے ایک تو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قتل کیےگئےپھردوسرے نے انتقال کیاتولوگوں نے ان کے جنازہ کے نمازپڑ۔۔۔
مزید
بن غانم بن عامربن عبداللہ بن عبیدبن عویج بن عدی بن کعب بن لوی قریشی عددی ہیں ان کی کنیت ابوجہم تھی خمیصہ۱؎ بیچاکرتے تھے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض توعبیداوربعض عامر بیان کرتے ہیں ہم ان کو انشاءاللہ تعالیٰ یہاں سے زیادہ کنیت کے باب میں بیان کریں گے۔ابن مندہ نے کہاہےکہ عبیدبن حذیفہ بن غانم بن عامربن عبداللہ ابن عبیدبن عویح بن عدی بن کعب۔ انصاری ہیں ابوجہم ان کی کنیت تھی ابن مندہ نے ایساہی بیان کیاہےاورابونعیم نے ان کا نسب کعب تک بیان کیاہے اورکہاہے کہ اس کوابوبکربن ابوعاصم نے بیان کرکے ان کاشمارانصار میں ہے راوریجی بیان کیاہے کہ حضرت معاویہ کی خلافت میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابن مندہ کایہ کہناکہ یہ انصاری ہیں اورابن ابی عاصم کایہ کہنا کہ انصارمیں ان کا شمارہے۔میں اس کامطلب نہیں سمجھتاکیوں کہ ابوجہم جن کا نسب یہاں بیان کیاگیاہے وہ عدوی ہ۔۔۔
مزید
جہنی ہیں ان کی کنیت ابوعاصم تھی اورصحابی تھےعاصم بن عبیدجہنی نے اپنے والد سے جو صحابی تھے روایت کی ہے وہ کہتے تھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(ایک روز)میرے پاس جبرئیل نے آکرکہاکہ تمھاری امت میں تین عمل ایسے ہوں گے جن کواگلی امتوں نے نہیں کیاہے۔ (۱)کفن چرانا(۲)فخرکرنا(۳)عورتوں کاعورتوں کے ساتھ مشغول ہونا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے اورابونعیم نےکہاہے کہ اس حدیث کو بعض متاخرین نے روایت کیاہے اورکہاہے کہ (وہ مین کام یہ ہیں کفن چرانااور)جھگڑاکرنااورفخرکرنا۔ ۔۔۔
مزید
ہیں ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہے ابوعمرنےکہاہے کہ میں ان کوعبداللہ بن قرط کا بھائی سمجھتاہوانھوں نے شام میں سکونت اختیارکی تھی اہل فلسطین میں ان کا شمارہے۔مسکین بن میمون نے جومسجدرملہ کے موذن تھےعروہ بن رویم سے انھوں نے عبدالرحمن بن قرط سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شب (یعنی شب معراج میں)مسجد اقصٰی تک(جوملک شام میں بیت المقدس کے نام سے مشہورہے)اس شب میں جس میں آپ کومعراج ہوئی اور مسجداقصٰی تک آپ پہنچائے گئے مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان(تشریف فرما)تھے جبرائیل آپ کے داہنی (طرف) اور میکائیل بائیں طرف تھےپھروہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کولے کراڑے یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمانوں تک پہنچےاوریہ پوری حدیث بیان کی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے مگر ابوعمرنے کہاہے کہ مسکین بن میمون نے عبدالرحمن سے روایت کی ہے اور ابن مندہ اورا بونعیم نے مسکین اورعبدالرحمن کے درمیا۔۔۔
مزید
ان کا اہل حجاز میں شمارہے۔ان کو بعض لوگ ابن فاکہ بھی کہتےہیں۔ ان سے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اور احادیث ابن فضیل نے روایت کی ہے۔ہمیں ابوالقاسم یعنی یعیش بن صدقہ فقیہ نے اپنی سند کو عبدالرحمن بن شعیب تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن علی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے جعفرخطمی یعنی عمیربن یزید نے عمارہ بن خزیمہ اور حارث بن فضیل سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی قراد سے نقل کرکے بیان کیاہے وہ کہتے تھے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفع حاجت کے واسطے نکلا حضرت جب (رفع)حاجت کاارادہ کرتےتھے تودور(تشریف لے)جاتے تھے۔ابوجعفرانصاری نےحارث بن فضیل سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی قرادسےروایت کی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز وضوکیااور لوگ آپ کے وضوکے غسالہ لے لےکراپنے چہروں پرملنے لگے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس شہ نے اس فعل پر تم کو ترغیب د۔۔۔
مزید
سلمی ہیں ان سے ایک حدیث جس کی سند مضطرب ہے روایت کی گئی ہے راشد بن سعد نے انھیں سے حدیث کوروایت کیاہے اس کوابوعمر نے بیان کیا ہے ابن مندہ اور ابونعیم نےکہاہے کہ عبدالرحمن بن قتادہ سلمی ہیں ان کا شمار اہل حمص میں ہے۔ہم کوابویاسر نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے حسن بن سوارنے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے لیث بن سعد نے معاویہ بن صالح سے انھوں نے راشد بن سعد سے انھوں نے عبدالرحمن بن قتادہ سے روایت کرکے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے آدم (علیہ السلام)کوپیداکیاپھر ان کے صلب سےان کی اولاد کو پیداکرکے فرمایاکہ یہ لوگ جنتی ہیں اور میں کچھ پروانہیں رکھتاہوں اور یہ دوزخی ہیں اور میں کچھ پروانہیں رکھتاہوں پھرکسی نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے ۔۔۔
مزید
ابن فلاں یا فلاں بن عبدالرحمن یہ مجہول النسب ہیں۔ان سے حازم بن مروان نےروایت کی ہے۔ محمد بن اسحاق صاغانی نے علقمہ بن سلیمان سےانھوں نے حازم بن مروان سے انھوں نے عبدالرحمن بن فلاں یا فلاں بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کے عقد نکاح میں شریک ہو کر ان کا(خطبہ)نکاح پڑھا اور فرمایا(تم دونوں)خیراورالفت اور فال نیک اوروسعت رزق پر رہوپھرفرمایایہاں دف بجاؤ پس لوگ دف لائے اور(ان کے قریب) بجاناشروع کیا۔پھروہاں(لوگ)میوے اورشکرکے طباق لائےاور وہاں لٹانےلگےلوگوں نے اپنے ہاتھوں کو (اس میوے لے لوٹنے سے )بازرکھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر)فرمایا تم لوگوں کوکیاہوا جو(اس میوے کو)نہیں لوٹتے لوگوں نے عرض کیایارسول اللہ کیا آپ نے ہم کو لوٹنے سے منع نہیں فرمایاہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے لشکروں کی لوٹ سے منع کیاہے عقد نکاح میں۔۔۔
مزید
ابن غنم اشعری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان تو تھے مگرآپ کو دیکھانہ تھا۔ اور نہ آپ کے پاس وفد میں آئے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کویمن کی طرف روانہ کیا تویہ عبدالرحمن ان کے ہمراہ (یمن کی طرف)چلے گئےتھےاوروہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان کا انتقال ہوگیایہ معاذ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کے شاگرد مشہورتھے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنی ہیں اہل شام میں یہ اتنے بڑے فقہ جاننے والے تھے کہ انھوں نے شام کے تابعین کو فقیہ بنادیاتھایہ بڑے قدراوربزرگی والے تھے یہ وہی عبدالرحمن ہیں جنھوں نے ابودرداء اورابوہریرہ پر(اس وقت )غصہ کیاتھاجب وہ دونوں حضرت معاویہ کا پیغام پہنچاکر حضرت علی کے پاس لوٹے ہوئے واپس آرہے تھے انھوں نے ان دونوں سے کہاکہ تم دونوں سے تعجب ہے کہ کس طرح تم دونوں نےاپنے اوپریہ جائزکرلیا جس کی وجہ سے تم دونوں علی سے کہتے ہ۔۔۔
مزید
ہیں۔یحییٰ بن یونس نے کتاب المصابیح میں ان کا نام بیان کیا ہے علاوہ یحییٰ کے کسی دوسرے شخص نے ان کانام نہیں ذکرکیااس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اور ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ قعنبی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم سے سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے انھوں نے عبداللہ بن عنبسہ سے انھوں نے ابن غنام سے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی اللہم مااصبح بی من نعمتہ اوباحد من خلقک فمنکپھرپوری حدیث بیان کی ابونعیم نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن غنام ہی عبداللہ ابن غنام ہیں عبداللہ کے بیان میں ان کو ذکرکیا ہے ۔ان کا تذکرہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو بوجہ حدیث قعنبی کے اس شخص کے نام میں بھی ذکرکیاہے جس کانام عبداللہ تھا۔اوران شخصوں میں بھی بیان کیا ہے جن کا نا م عبدالرحمن تھا۔ اور انھوں نے اپنی سند کے ۔۔۔
مزید