بدھ , 27 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 15 April,2026

سیّدنا قسامہ ابن  حنظلہ رضی اللہ عنہ

  طائی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےطلحہ بن عبیداللہ کی حدیث میں ان کاتذکرہ ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قس ابن  ساعدہ رضی اللہ عنہ

    ابدای۔یہ ایک مشہورشخص ہیں۔عبدان نےاورابن شاہین نے ان کاتذکرہ لکھاہے اوران کی حدیث بھی روایت کی ہےمگران کا دیکھنانبی صلی اللہ علیہ وسلم کواگرثابت ہوجائے توقبل از نبوت ہے۔واللہ اعلم۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

 سیّدنا قزعہ ابن  کعب رضی اللہ عنہ

۔عبدان نے ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاہےمگراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا۔ابو موسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قریطہ ابن  ابی رمتہ رضی اللہ عنہ

   ۔امرألقیس بن زیدمناہ بن تیمیم کے خاندان سے ہیں۔اپنے داداکے ہمراہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کرکے آئے تھےجب یہ لوگ آپ کے پاس پہنچے اورآپ نے ابورمثہ کو اوران کے ہمراہ ان کے بیٹے قریطہ کودیکھاتوحضرت نے پوچھاکہ کیایہ تمھارالڑکاہے انھوں نے کہا ہاں آپ گواہ رہیں حضرت نے فرمایاآگاہ رہونہ اس کے کسی قصورکااثر تم تک پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے کسی قصورکا اثر اس تک اس کےبعد آپ نے قریطہ کوبلایااوران کو اپنےزانوپر بٹھالیا اوران کو برکت کی دعادی اوران کےسرپر ہاتھ پھیرا۔یہ قریطہ لاہزبن قریطہ کے والد ہیں ان سرداروں میں سے ایک شخص ہیں جوابومسلم کے ساتھ تھےابورمشہ کااپنے بیٹے کے ساتھ آنا مشہور ہے مگرہاں اکثر روایات میں ان کے بیٹے کانام نہیں مذکورہوا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

  سیّدنا قرہ ابن  ہبیرہ رضی اللہ عنہ

   بن عامر بن سلمتہ الخیربن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ قشیری۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےیہ وفد کے سرداروں میں سے تھے۔عبدالرحمن بن یزیدبن جابرنے ابوسعید سے جوساحل کے رہنے والے ایک شیخ تھےانھوں نے قرہ بن ہبیرہ سے روایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تھےاورانھوں نے عرض کیاتھا کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے کچھ مذکرخدااورکچھ مونث خداتھے الی آخر الحدیث۔ہمیں ابوالقاسم ابن علی بن عساکر نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ہمارے والدنے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابن سمرقندی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابن نقور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عیسیٰ بن علی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبداللہ ابن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے ابراہیم بن ہانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبداللہ بن صالح اوریحییٰ ابن بکیرنے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے لیث بن سعد نے خالد بن یزید سے انھوں ۔۔۔

مزید

  سیّدنا قرہ ابن  ہبیرہ رضی اللہ عنہ

   بن عامر بن سلمتہ الخیربن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ قشیری۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےیہ وفد کے سرداروں میں سے تھے۔عبدالرحمن بن یزیدبن جابرنے ابوسعید سے جوساحل کے رہنے والے ایک شیخ تھےانھوں نے قرہ بن ہبیرہ سے روایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تھےاورانھوں نے عرض کیاتھا کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے کچھ مذکرخدااورکچھ مونث خداتھے الی آخر الحدیث۔ہمیں ابوالقاسم ابن علی بن عساکر نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ہمارے والدنے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابن سمرقندی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابن نقور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عیسیٰ بن علی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبداللہ ابن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے ابراہیم بن ہانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبداللہ بن صالح اوریحییٰ ابن بکیرنے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے لیث بن سعد نے خالد بن یزید سے انھوں ۔۔۔

مزید

سیّدنا قرہ ابن  عقبہ رضی اللہ عنہ

   بن قرہ۔انصاری اشہلی ۔یہ ابوعمرکاقول ہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ بنی عبدالاشہل کے حلیف تھے اوروہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ یہ احد میں شہید ہوئے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قرہ ابن  دعموص رضی اللہ عنہ

   بن ربیعہ بن عوف بن معاویہ بن قریع بن حارث بن نمیرنمیری۔بنی نمیربن عامر بن صعصہ سے ہیں ۔بصری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی ایک جماعت کے ہمراہ جن میں قیس بن عاصم وغیرہ تھے حاضرہوئےتھےجریربن حازم کہتےتھے میں ایوب کی مجلس میں ایک اعرابی کودیکھاکہ صوف کا لباس پہنے ہوئےتھاجب اس نے لوگوں کوحدیث بیان کرتے ہوئے دیکھاتو اس نے کہا کہ مجھ سے میرے آقاقرہ بن دعموس کہتےتھے کہ میں مدینہ گیاتو میں نے دیکھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں اورآپ کے اصحاب آپ کے گرد ہیں میں نے بہت چاہا کہ آپ کے قریب بیٹھوں مگرآپ تک نہ پہنچ سکاپس میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ اس غلام نمیری کےلیے استغفارکیجیےآپ نے فرمایااللہ تیرے گناہ بخش دے اوروہ کہتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک بن قیس کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے ہمارے یہاں بھیجاتھا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہہے۔ (اس۔۔۔

مزید

سیّدنا قرّہ ابن  ایاس رضی اللہ عنہ

  بن ہلال بن رباب بن عبیدبن ساریہ بن ذیبان بھی ثعلبہ بن سلیم بن اوس بن عمرومزنی۔ یہ داداہیں ایاس بن معاویہ بن قرہ کے جوبصرہ کے قاضی تھےاوربڑے ذہین مشہورتھے۔یہ قرہ بصرہ میں رہتےتھے ستعہ نے ابوایاس یعنی معاویہ بن قرہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میرے والد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئےاس وقت وہ کمسن بچے تھےتوحضرت نے ان کے سرپرہاتھ پھیرااوران کے لیے استغفار کیاشعبہ کہتےتھے میں نے ان سے پوچھا کہ وہ صحابی تھے انھوں نے کہانہیں وہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں؟ہم سے ابوداؤدنےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے معاویہ  بن فرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس وقت اہل شام میں خرابی آجائے اس وقت تم میں خیریت رہے گی میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ فتحیاب رہےگاجو شخص ان کی مخالفت کرے گاان کو کچھ ضرر نہ پہنچاسکے۔۔۔

مزید

سیّدنا قرظہ ابن  کعب رضی اللہ عنہ

   بن ثعلبہ بن عمروبن کعب بن اطنابہ۔انصاری خزرجی۔یہ ابوعمرکاقول ہے۔اورابونعیم نے کہاہے کہ (ان کا نسب اس طرح ہے)قرظہ بن کعب بن عمروبن عامر بن زید مناہ بن مالک بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج بن کلبی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے۔ان کی والدہ جندبہ بن ثابت بن سنان تھیں اوران کے اخیانی بھائی عبداللہ بن ایاس تھے۔یہ قرظی غزوہ احد میں اوراس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک تھے۔یہ انصارکے ان دس آدمیوں میں تھے جن کو حضرت عمرنے عماربن یاسرکے ہمراہ کوفہ بھیجاتھا۔بہت بزرگ آدمی تھےانھوں نے ۲۳ھ؁ ہجری میں بعہدخلافت حضرت عمررے کوفتح کیاتھااورحضرت علی نے ان کو کوفہ کاحاکم بنایاجب کہ وہ جنگ جمل کے لیے جانے لگے اورجب صفین کےلیے جانے لگےتوان کو اپنے ہمراہ لے لیاتھااورابومسعود بدری  کوکوفہ کاحاکم بنادیاتھا۔زکریابن ابی زائدہ نے ابواسحاق سے انھوں نے عامر بن سعد سے روایت کی ہے کہ وہ کہ۔۔۔

مزید