بن خزیمہ۔ابن کلبی نے کہاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےتھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ابن ہنداسلمی۔ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ان کی حدیث عبداللہ بن عامر اسلمی نے فضالہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمأ بن حارثہ کو ان کی قوم قبیلۂ اسلم کی طرف بھیجااورفرمایاکہ جاؤاوران لوگوں کو یوم عاشورہ کے روزے کاحکم دے اورابونعیم نے کہاہے کہ اس روایت میں عبداللہ بن عامر نے غلطی کی ہے صحیح وہی ہے جو حاتم بن اسمعیل اوروہب نے عبدالرحمن بن حرملہ سےانھوں نے یحییٰ بن ہند بن حارثہ سے روایت کی ہے یہ ہنداسمأ بن حارثہ کے بھائی ہیں۔یحییٰ بن ہندنے اسمأ سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ ان کو فضالہ بن عبداللہ کہتےہیں اوربعض فضالہ بن وہب بحرہ بن بحیرہ بن مالک بن عامر۔بنی لیث بن بکر بن عبدمناۃ سے ہیں لیثی ہیں اوربعض لوگ ان کوفضالہ بن عمیر بن ملوح لیثی کہتےہیں۔فتح مکہ کے دن بتوں کو توڑنے کے متعلق یہ اشعار انھیں کے ہیں ۱؎ لومارأیت محمد اوجنودہ بالفتح یوم تکرالاصنام لرأ یت لوز اللہ اصبح بینا ۔۔۔
مزید
ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ ابوبکربن ابی علی نے ان کانام لکھاہے اورانھوں نے حسن سے انھوں نے صعصعہ ابن معاویہ سے انھوں نے فرزوق سے روایت کی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیاتوآپ نے یہ آیت میرے سامنے پڑھی۱؎فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہمیں نے عرض کیاکہ بس یہی مجھ کافی ہے۔ابو موسیٰ نے کہاہے کہ اس میں غلطی ہے غالباً یہ واقعہ صعصعہ بن معاویہ کاہے جو فرزوق کے چچاتھے۔ میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ نے صعصعہ بن معاویہ کوفرزوق کاچچابیان کیاہے اس صورت میں معاویہ فرزوق کے داداہوں گےحالانکہ ایسانہیں ہے یہ فرزوق غالب بن صعصعہ بن ناجیہ کے بیٹے ہیں ان کے نسب میں معاویہ کانام کہیں نہیں ہے ہاں اگر وہ یہ کہتےکہ صعصعہ بن ناجیہ کایہ واقعہ ہے تو بے شک صحیح ہوتا۔ابوموسیٰ نے اس غلطی میں ابن مندہ کی پیروی کی ہے۔واللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ۔جوکوئی ذرہ برابرنی۔۔۔
مزید
ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ ابوبکربن ابی علی نے ان کانام لکھاہے اورانھوں نے حسن سے انھوں نے صعصعہ ابن معاویہ سے انھوں نے فرزوق سے روایت کی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیاتوآپ نے یہ آیت میرے سامنے پڑھی۱؎فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہمیں نے عرض کیاکہ بس یہی مجھ کافی ہے۔ابو موسیٰ نے کہاہے کہ اس میں غلطی ہے غالباً یہ واقعہ صعصعہ بن معاویہ کاہے جو فرزوق کے چچاتھے۔ میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ نے صعصعہ بن معاویہ کوفرزوق کاچچابیان کیاہے اس صورت میں معاویہ فرزوق کے داداہوں گےحالانکہ ایسانہیں ہے یہ فرزوق غالب بن صعصعہ بن ناجیہ کے بیٹے ہیں ان کے نسب میں معاویہ کانام کہیں نہیں ہے ہاں اگر وہ یہ کہتےکہ صعصعہ بن ناجیہ کایہ واقعہ ہے تو بے شک صحیح ہوتا۔ابوموسیٰ نے اس غلطی میں ابن مندہ کی پیروی کی ہے۔واللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ۔جوکوئی ذرہ برابرنی۔۔۔
مزید
بن مالک بن کنانہ سے ہیں۔ان کی حدیث اہل مصرسے مروی ہے۔ہمیں ابواحمد بن سکینہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد یعنی سلیما ن بن اشعث سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے لیث نے جعفر بن ربیعہ سے انھوں نے بکربن سوادہ سے انھوں نے مسلم بن مخشی سے انھوں نے ابن فراسی سے انھوں نے اپنےوالد سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں لوگوں سے کچھ مانگ لیاکروں حضرت نےفرمایا نہیں اوراگربہت ہی ضرورت ہو تو نیک لوگوں سے سوال کیاکرو۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبدمناف بن عبدالدار بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی عبدری۔انھوں نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی اس کو ابن اسحاق نے ذکرکیاہے اورابن عقبہ نے نہیں ذکرکیا۔یہ فراس واقعہ یرموک میں شہید ہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہےمگرابوموسیٰ نے ان کے نسب میں کلدہ کانام علقمہ سے پہلے بیان کیاہے اورابوعمرنے ایساہی بیان کیاہے جیساہم نے بیان کیااورابن کلبی اورابن حبیب اورابن ماکولا نے بھی ایساہی لکھاہے زید بن بکار نے بھی ایساہی لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبدمناف بن عبدالدار بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی عبدری۔انھوں نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی اس کو ابن اسحاق نے ذکرکیاہے اورابن عقبہ نے نہیں ذکرکیا۔یہ فراس واقعہ یرموک میں شہید ہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہےمگرابوموسیٰ نے ان کے نسب میں کلدہ کانام علقمہ سے پہلے بیان کیاہے اورابوعمرنے ایساہی بیان کیاہے جیساہم نے بیان کیااورابن کلبی اورابن حبیب اورابن ماکولا نے بھی ایساہی لکھاہے زید بن بکار نے بھی ایساہی لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
لیثی۔انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھااوران کے والد شرف صحبت سے مشرف تھے۔ابوالطفیل نے روایت کی ہے کہ ایک شخص قبیلۂ لیث کے جن کولوگ فراس بن عمرو کہتےتھے دردسرمیں مبتلاہوئے توان کے والد ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں لے گئے اورآپ سے دردسرکی حالت بیان کی پس آپ نے فراس کو بلایااوراپنے پاس بٹھایااوران کی آنکھوں کے درمیان کی کھال کو پکڑکرآپ نے کھینچااس مقام پر ایک بال نکل آیا اوردردسرجاتارہا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بحرہ کے چچاتھے صفیہ کہتی تھیں کہ میرے چچافراس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک پیالہ جس میں انھوں نے آپ کو کھاتے ہوئے دیکھاتھامانگاحضرت نے وہ پیالہ انھیں دے دیاصفیہ کہتی تھیں کہ حضرت عمرجب ہمارے یہاں آتے تھے تو فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ ہمارے پاس لاؤ چنانچہ ہم اس کو نکالتےتھے پس وہ اس میں آب زم زم بھرکرپیتے تھےاوراپنے چہرہ پرملتے تھےایک روز ایک چورآیا اوروہ پیالہ چرالے گیاپھرجو حضرت عمرآئے اورانھوں نے پیالہ مانگا توہم نے بیان کیاکہ اس کو کوئی چرالے گیاحضرت عمر نے فرمایاکہ خداکے لیے بس اتناکہہ کررہ گئے کوئی بددعاکاکلمہ اس چورکی نسبت نہ فرمایا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید