بن شدادفہری۔بنی ضبہ بن حارث بن فہربن مالک کے خاندان سے ہیں قرشی فہری ہیں ان کی کنیت ابوشدادہے بدر میں شریک تھے۔یہ واقدی کا قول ہے اورانھون نے کہاہے کہ یہ جب غزوہ بدر میں شریک ہوئےتھے توان کی عمربتیس برس کی تھی۔اور۳۶ھ ہجری میں بعہد خلافت حضرت علی وفات پائی یہ جعفر مستغفری کاقول ہے۔اورسعید نے واقدی سے روایت کرکے بیان کیا کہ یہ عمروجنگ جمل میں حضرت علی کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ اورابوعمر نے لکھاہے۔اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ بعض نے ان کو عمروبن ابی عمیر بیان کیاہےابوزبیرنے کہا کہ میں نے جابربن عبداللہ سے پوچھاکہ کیاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص بحالت مومن ہونے کے زنا نہیں کرتاتوکہاکہ میں نے خود نہیں سنا۔مگرمجھ کو عمروبن ابی عمیر نے خبردی ہے کہ انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سناہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
عجلانی کنیت ان کی ابوعبدالرحمن تھی اوربعض نے ابوعبداللہ بیان کی ہے۔ان کی حدیث ان کے بیٹے عبداللہ سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے اپنے باپ سے روایت کیاہے کہ عبدالرحمن بن عمروعجلانی نے اپنے والد سے روایت کرکے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائخانہ یاپیشاب کے لیے قبلہ رخ بیٹھنے کو منع فرمایاہے اوراس کو ایک جماعت نے ایوب سے انھوں نے نافع سے روایت کیاہے کہ انھوں نے کہامیں نے ایک شخص کوسناکہ ابن عمرکواپنے والد سے وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے ایسی ہی حدیث سنارہاہے کہ انھوں نے اس کو عاصم بن بلال نے اپنے والدایوب سے انھوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمرسے پہلاقول روایت کیاہے مگر ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہےمیں کہتاہوں کہ ان کاتذکرہ ابونعیم نے دودفعہ لکھاہے اوردوسرے تذکرہ میں ان کوعمروعجلانی نے لکھاہےاور نسب ان کا نہیں بیان کیاہے۔اوران سے بھی حدیث اسی سند کے ساتھ۔۔۔
مزید
جاہلیتہ میں ان کا حریف تھاجو ان کو اسلام سے روکتاتھا۔یہاں تک کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا جیساکہ سعید نے بیان کیاتھا۔اوران کی ایک حدیث روایت کی ہے۔اوریہی ابن اقش ہیں اور بعض نے وقش کہاہے اوربعض نے ابن ثابت ابن وقش کہاہے۔ابوموسیٰ نے مختصراً ان کاتذکرہ لکھاہے ۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کا ذکرسعیداورجعفر مستغفری نے کیاہے شبابہ نے خالد بن ابی عثمان سے انھوں نے سلیط اورایوب فرزندان عبداللہ بن بشارسے۔ان دونوں نے عمروبن زلی عقربہ سے روایت کیا ہےکہ ان دونوں نے عمروبن ابی عقربہ کوکہتےسنا کہ واللہ نہیں پایامیں نے کچھ ان عہدوں سے جن پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررکیاتھاسوادو کپڑوں کے جوازقسم معقد تھے وہ دونوں کپڑے میں نے اپنے مولیٰ کیسان کو دے دئے اس کو شبابہ نے اسی طرح روایت کیاہے اوران کو حرمی بن حفص نے خالد سے انھوں نے ایوب سےانھوں نے عمروسے انھوں نے عتاب بن اسیدسے روایت کیاہےاوریہی صحیح ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے ۔اوراپنی سند کے ساتھ مکحول سے روایت کی ہے کہ عمرو بن عقبہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جوشخص اللہ کی راہ میں ایک دن بھی چلے گاآگ سے ایک سال کی مسافت پردورکردیاجائے گا۔سعیدنے کہاہے کہ میں ان کو عمرو بن عنبسہ خیال کرتاہوں اورجعفر مستغفری نے کہاہے کہ عمروبن عقبہ بن یسارانصاری بدرمیں شریک ہوئےتھےان کی کنیت ابوسعید ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوعطبہ ہے سعدی ہیں ان سے ان کے بیٹے عبطہ نے روایت کی ہے۔کہ انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قیامت میں (معاملات کے متعلق)سب سے پہلے مال کے متعلق سوال ہوگا(کہ اس کوجاصرف کیایابےجا)آپ نے مجھ سے میری قوم کی زبان میں گفتگو فرمائی تھی ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
طبرانی ان کوصحابہ میں ذکرکیاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن لہیعہ سے انھوں نے سلیمان بن عبدالرحمن سے انھوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے انھوں نے عمروبن عطیہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ عنقریب تمھارے ہاتھ پر بہت سے ملک فتح ہوں گےاورمحنت و مشقت کی تمھیں ضرورت نہ رہےگی۔اورتیراندازی محض کھیل کے طورپر رہ جائے گی ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
طبرانی ان کوصحابہ میں ذکرکیاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن لہیعہ سے انھوں نے سلیمان بن عبدالرحمن سے انھوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے انھوں نے عمروبن عطیہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ عنقریب تمھارے ہاتھ پر بہت سے ملک فتح ہوں گےاورمحنت و مشقت کی تمھیں ضرورت نہ رہےگی۔اورتیراندازی محض کھیل کے طورپر رہ جائے گی ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابوزکریانے ان کاتذکرہ اپنے داداپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے حالانکہ ان کے دادا اس تذکرہ کولکھ چکےہیں ابونعیم اورابوموسیٰ نے بھی ان کا تذکرہ لکھاہے۔عبدالرحمن بن عمرو عجلانی نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے کہ آپ نے قبلہ روہو کرپائخانہ یاپیشاب کے لیے بیٹھنے سے منع فرمایا۔پھر ان کابیان عمروبن ابی عمرکے نام میں آئے گاانشاءاللہ تعالیٰ۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب قرشی تیمی ۔ا ن کی ماں ہندہ بنت بیاع بن عبدیالیل بن عنزہ ابن سعد بن لیث بن بکر ہیں۔یہ مہاجرین حبشہ میں سے تھےاورانہیں دونوں کشتیوں میں سوار ہوکرلوٹے تھےبعداس کے سعدبن ابی وقاص کے ہمراہ قادسیہ میں ۱۵ھ ہجری میں بعہد خلافت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ شہیدہوئے ان کے کوئی اولاد نہ تھی۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید