حضرت عبداللہ محمد بن ابراہیم قریشی بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ ابو عبداللہ محمد ؑ بن ابراہیم القریشی الہاشمی علیہ الرحمۃ آپ امام العارفین ،دلیل الساکین ، صاحب احوال فاخرہ اور کرامات میں روشن ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔العالم من نطق عن سرک واطلع علی عواقب امرک یعنی دراصل عالم وہ ہے کہ و تیرے دل کی باتیں کرے اور تیرے انجام پر مطلع ہو۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دن منا میں تھا۔کہیں مجھے پانی نہ ملا اور میرے پاس کچھ بھی نہ تھاکہ جس سے پانی مول لوں۔میں جارہا تھا کہ کہیں کنواں ملے،جس سے پانی پئیوں ۔آخر میں ایک کنواں پایا۔جس پر عجمی لوگ جمع ہورہے تھےاور پانی کھینچتے تھے۔میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا کہ قدرے پانی اس لوٹا میں ڈال دو۔مجھ کو مارا اور لوٹے کو میرے ہاتھ سے چھین لیااور پھینک دیا۔یہاں تک کہ میں نے لے لیا اور بہت شکتہ خاطر ہوا۔میں نے دیکھا ۔۔۔
مزید
حضرت محمد شاہ دولہا سبزواری کندی والا بخاری علیہ الرحمۃ نام ونسب:آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی محمد شاہ تھا۔ اور آپ کا سلسلۂ نسب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتاہے۔ تحصیلِ علم:آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم بخارا میں حاصل کی۔ سیرت وخصائص: صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پر آنے والے بزرگوں میں ایک شخصیت آپکی ہے۔دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اسلام کی تبلیغ کی خاطر وطن سے "سبزوار" علاقے کا قصد فرمایا اور یہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ اپ کے دست حق پرکئی ہزار کافر دولت اسلام سے سرفراز ہوئے۔سبزوار سے آپ نے ہندکا قصد فرمایا اور کئی علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے سندھ میں تشریف لائے۔ اور کراچی کے علاقے کھارا در میں مستقل قیام فرمایا اور کھارا در کے علاقے جعفر فدو ٹاور کے قریب جہاں آپ کا مزار ہے وہیں ایک جھونپڑی میں مشغول عبادت۔۔۔
مزید
حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: آپ کا اصل نام میراں محمد شاہ تھا۔ عرفِ عام میں حضرت موج دریا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کہاجاتا ہے،بخاری سادات میں سے تھے۔ سلسلۂ نسب یوں ہیں: میراں محمد شاہ بن سید صفی الدین بن سید نظام الدین بن سید علم الدین ثانی بن سید جلال الدین بن سید علم الدین اول سید ناصر الدین بن سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید شیر شاہ جلال الدین الا عظم امیر سرخ بخاری رحمتہ اللہ علیہم۔ تاریخ ِولادت: آپ رحمۃ اللہ علیہ1533ءمیں" اوچ شریف" میں پیدا ہوئے۔ سیرت وخصائص: لاہور میں آمد تذکرۃ الا ولیاء،کرام میں لکھا ہے کہ جب شہنشا ہ اکبر سے قلعہ چتو ڑ فتح نہ ہوسکا تو اس نے دربا ریوں کے کہنے پر آپ سے دعا کےلیئے استد عا کی چنا نچہ آپ کی دعا سے قلعہ فتح ہوگیا تو بادشاہ نے آپ سے لاہور۔۔۔
مزید