محمودبن احمدابی الحسن[1]:ابو المحامد کنیت،عماد الدین لقب تھا۔بڑے عالم فاضل،جامع معقول و منقول استاذ شمس الائمہ کردری تھے۔کتاب سلک الجواہر اور نشر الزواہر اور خلاصۃ المقامات تصنیف کیں،علاوہ ان کے ۵۹۷ھ میں ایک بڑی کتاب مستٰمی بہ خلاصۃ الحقائق در باب آثار ومواعظ و حکایات پچاس ابواب پر تصنیف کی،اس کتاب کے حق میں ابن قطلو بغانے کہا ہے کہ میں نے اس کو دیکھا ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ زمانہ کی آنکھیں اس کے ثانی سے مکمل نہیں ہوئیں۔ وفات آپ کی ۶۰۷ھ میں واقع ہوئی۔’’صاحب ارشاد‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔فاریانی’’دستور الاعلام‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن قاضی زادہ: قطب الدین لقب تھا۔علم خواجہ زادہ اور اپنے نانا علی قوشجی سے پڑھا اور خواجہ زادہ کی بیٹی سے نکاح کیا اور بروسا کے مدرس مقرر ہوئے اور جوانی کی حالت میں فوت ہوئے۔کئی ایک رسالے تصنیف کیے مگر موت نے ان کو کامل کرنے کی اجازت نہ دی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حسین حامد تبریزی: حسام الدین لقب تھا،شہر تبریز کے جو آذر بائجان کے شہروں میں سے ایک شہر ہے،رہنے والے تھے،بڑے صالح و متیدن تھے،ہر وقت عبادت اور علم میں مصرور رہتے تھے۔بیشمار کتابیں مطالعہ کیں اور ان کو صحیح کیا۔سلطان محمد خان نے آٹھ مدارس میں سے ایک مدرسہ کا آپ کو مدرسکیا۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ جہاد کے لیے بہمراہی علماء قسطنطیہ سے نکلے اور نقارے آپ کے پیچھے پیچھے بجتے جاتے تھے،کسی عالم نے آپ سے پوچھا کہ مومنوں کو جو آیۃ یا ایہا الذین آمنو آمنو باللہ ورسولہ میں ایمان لانے کا حم ہوا ہے اس کی کیا حکمت ہے؟ یہ سوال سن کر بادشاہ نے بھی آپ سے کہا کہ آپ اس کی وجہ بیان کریں۔آ پ نے فرمایا کہ وہ دم دم کی آواز ہے جس کی مرادیہ ہے کہ اے ایمان والو! دو مو علی الایمان،یعنی ہمیشہ رہو ایمان پر،بادشاہ نے اس جواب کو نہایت پساند کیا۔صاحب شقائق کا قول۔۔۔
مزید
محمد بن عبید اللہ بن صاعد بن محمد شیخ الاسلام علاءالدین حارثی مروزی: مذہب و خلاف میں ائمۂ کبار و فضلائے نامدار میں سے تھے،سر خس میں[1]پیدا ہوئے اور مختلف علوم میں اشتعال کیا۔فقہ قاضی نسفی عبدالعزیز بن عثمان فضلی تلمیذ برہان الدین کبیر عبدالعزیز بن عمر بن مازہ سے پڑھی اور فقہ میں ایک کتاب مستمے بہ ’’عون‘‘ تصنیف کی۔وفات آپ کی مرو میں ۶۰۶ھ میں واقع ہوئی۔’’جامع کمالات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ولادت ذی الحجہ ۵۴۱ھ’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن عبید اللہ بن صاعد بن محمد شیخ الاسلام علاءالدین حارثی مروزی: مذہب و خلاف میں ائمۂ کبار و فضلائے نامدار میں سے تھے،سر خس میں[1]پیدا ہوئے اور مختلف علوم میں اشتعال کیا۔فقہ قاضی نسفی عبدالعزیز بن عثمان فضلی تلمیذ برہان الدین کبیر عبدالعزیز بن عمر بن مازہ سے پڑھی اور فقہ میں ایک کتاب مستمے بہ ’’عون‘‘ تصنیف کی۔وفات آپ کی مرو میں ۶۰۶ھ میں واقع ہوئی۔’’جامع کمالات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ولادت ذی الحجہ ۵۴۱ھ’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن ابی سعد احمد بن ابی الخطاب محمد بن ابراہیم بن علی کعبی طبری: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کام۔،جامع علوم مختلفہ اور مرد میدان مباحتہ تھے،جب مجلس علماء میں حاضر ہوتے تو حل مشکلات میں انہی کی طرف اشارہ کیا جاتا۔آپ نے فتاویٰ ملحض تصنیف کیا اور بخار میں ۶۰۴ھ میں وفات پائی چشمہ نور آپ کی تاریخ وفات ہے کعبی کعب بن ربیعہ بن عامر اور کعب بن عوف بن انعم اور کعب خزاعہ اور آپ کے دادا کے نام کی طرف منسوب ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
الیاس بن ابراہیم: بڑے عالم فاضل،تیز طبع،نہایت ذکی،نرم دل، ہشاش بشاش اور متعدد علوم و معقول میں ماہر باہر تھے،سریع الکتابۃ اس درجہ کے تھے کہ مختصر قدوری ایک دن اور سید شریف کے حواشی شمسیہ ایک رات میں لکھ لیا کرتے تھے۔سلطان مراد خاں کے دہد میں شہر بروسا کے مدرس مقرر ہوئے اور اسی جگہ وفات پائی،امامِ اعظم فقہ اکبر کی بہت عمدہ شرح تصنیف کی۔(وفات ۸۹۱ھ مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن ابراہیم بن محمد بن عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ عقیلی حلبی المعروف بہ ابن عدیم: اپنے اپنے وقت کے فقیہ محدث اور عالم متجر تھے۔مدت تک حلب کے قاضی رہے،حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ میں نے ۸۳۵ھ میں آپ سے حلب میں ملاقات کی اور حدیث کو سماعت کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبدالکریم بن محمد بن احمد مدینی: رکن الائمہ لقب تھا،فقیہ فاضل،عالم بے مثل تھے فقہ صدر الاسلام محمد بن محمد بزدوی سے حاصل کی اور ایک کتاب طلبۃ الطلبہ نام ان الفاظ کی لغت میں تصنیف کی جو کتب اصحاب حنفیہ میں آئے ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
فخر الدین العجم[1]: سید شریف کے شاگردوں میں سے بڑے عالم متجر، معقول و منقول کے ابرز تھے،عربیت،ادب کلام،حکمت میں آپ کو مشارکت تامہ حاصل تھی۔۸۲۰ھ میں عہد سلطان محمد کاں میں روم میں آئے اور سلطان مراد خاں بن محمد خاں کے عہد میں مفتی مقررہوئے اور شہر اورنہ میں وفات پائی۔سلطان محمد کے لیے ایک کتاب مشتمل الاحکام تصنیف کی لیکن صاحب کشف الظنون کہتے ہیں کہ اس کو مولیٰ برکلی نے منجملہ کتب متدالہ واہیہ غیر معتبرہ کے شمار کیا ہے۔ 1۔ فخر الدی یحییٰ بن عبداللہ متوفی ۸۶۴ھ ’’ہدایہ العارفین‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید