پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

سیّدنا عبدالرحمن خطمی رضی اللہ عنہ

  ۔موسیٰ کے والد ہیں۔حعید بن عبدالرحمن نے موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے محمد بن کعب قرظی کواپنے والد سے پوچھتے ہوئے سنا کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے قماربازی کی بابت کیاسناہے ان کے والد نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱؎یہ ایک نہایت لطف وکرم کاخطاب ہے تمام گناہوں کی بخشش کاپروانہ ہے ایسالطف وکرم کا خطاب صرف اسی شخص کے ساتھ ہوتاتھاجسکی آئندہ زندگی کی حالت اللہ ورسول نے جانچ لی ہوتی تھی اہل بدرکے لیے بھی اس قسم کاجملہ ارشادہواہے کہ اب جوچاہے کرو میں تمھیں بخش چکا۱۲۔ فرمایاجس آدمی نے جواکھیلا پھرنمازاداکرنےکےلیےکھڑا ہواتو اس کی حالت مثل اس شخص کے ہے جوپیپ سے وضوکرے اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ نماز اس کی مقبول نہ ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے اورابوموسیٰ نے عبدالرحمن بن حبیب خطمی کا تذکرہ لکھا ہے حالاں کہ  ان کا تذکرہ اوپرہوچکا مگر ان کے تذک۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن خراش انصاری رضی اللہ عنہ

   ہیں ان کی کنیت ابولیلی ہے۔علی مرتضیٰ کے ساتھ واقعہ صفین میں موجود تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن خبیب جہنی رضی اللہ عنہ

   ہیں ان کی حدیث عبداللہ بن نافع زرگرکے واسطے سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے انھوں نے معاذ بن عبدالرحمن جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ بیشک رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا اپنادایاں بایاں پہچاننے لگے تواس کو نماز کا حکم کرو۔یہ حدیث کسی دوسری سند سے معلوم نہیں ہوتی اس کو ابوعمرنے بیان کرکے کہاہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تومیں ان عبدالرحمن کو عبداللہ بن حبیب کابھائی سمجھتاہوں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰن ابن خبّاب سلمی رضی اللہ عنہ

   اور بعض نے ابن خباب بن ارت بیان کیا ہے یہ اہل بصرہ میں شمارکیے گئے ہیں اور ان کا صحابی ہوناثابت نہیں ہم کواسمعیل بن علی اورابراہیم بن محمد نے اپنی سند سے جوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچتی ہے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا انھوں نے سکن بن مغیرہ سے جوآل عثمان کے غلام تھے انھوں نے ولید ابن ہشام سے انھوں نے فرقد ابی طلحہ سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن خباب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس حاضرہوا اس وقت آپ غزوہ جیش العسرت(یعنی غزوہ تبوک یہ جیش العسرت کے نام سےاس وجہ سے مسمی ہواکہ نہایت قحط سالی اور بے سروسامانی میں ہواتھا) کا سامان مہیافرمارہے تھےتوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یارسول اللہ اس کی مدد کے واسطے)سواونٹ مع نمدہ وکاٹھی کے اللہ کی راہ میں میں نے دیے پھرآپ نے اوررغبت دلائی تو حضرت ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰن ابن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

   بن مغیرہ قریشی مخزومی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاتھا اور آپ کودیکھابھی تھا ان کے والد بھی صحابی تھے۔ان کی والدہ اسماء بنت اسد بن مدرک خیثمی تھیں۔ ان کی کنیت ابومحمد تھی قریش کے شہسوار اور بہادروں میں سے تھے اور صاحب فضل وہ کرم و نیک سیرت تھے۔لیکن حضرت علی مرتضیٰ اوربنوہاشم سے منحرف تھے بوجہ اس کے کہ یہ اپنے بھائی مہاجر بن خالد کے مخالف تھے اور مہاجرحضرت علی کے محب تھے۔ان کے ساتھ واقعہ جمل و صفین میں شریک تھے (پس ضرورہوا کہ یہ حضرت علی مرتضیٰ سے احترازکریں)یہ عبدالرحمٰن واقعہ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔اورحمص میں سکونت اختیارکی تھی واقعہ یرموک میں اپنے والد کے ساتھ تھے اور حضرت معاویہ نے ان کو غزوۂ روم میں عامل بنایاتھا اہل روم کے ساتھ انھوں نے خوب جنگ کی ۔جب عباس ابن ولید حمص میں حاکم ہوئے توانھوں نے اہل حمص کے سرداروں سے کہا کہ جس قدر تم عبد۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰن بن حنبل رضی اللہ عنہ

  ا۔کلدہ بن حنبل کے بھائی ہیں یہ اور ان کے بھائی کلدہ اور یہ دونوں صفوان بن امیہ کے اخیانی بھائی ہیں ا ن کی والدہ صفیہ بنت معمر ابن حبیب بن وہب ہیں قبیلۂ جمح کے تھے۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ دونوں صفوان کے بھانجے تھے ان دونوں کی والدہ صفیہ بنت امیہ بن خلف تھیں اسی وجہ سے کلدہ صفوان کے پاس رہتے تھے ان کی خدمت کیاکرتےتھے کبھی ان سے جدا نہ ہوتے تھے ان دونوں کے والدیمن سے مکہ میں آکے رہے تھے انشاءاللہ تعالیٰ ان کے بھائی کلدہ کے تذکرہ میں یہ سب حال بیان کیاجائے گا عبدالرحمٰن کی کوئی روایت معلوم نہیں انھوں نے حضرت عثمان کی شان میں یہ اشعارکہتے تھے یہ حضرت عثمان سے کچھ منحرف تھے اگرچہ اس انحراف پر یہ قائم نہیں رہے(وہ اشعار یہ ہیں)   ؎ ۱؎        اقسم باللہ رب العباد              ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰن حمیری رضی اللہ عنہ

   ہیں حمید کے والد ہیں۔ابن مندہ نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا ان سے ان کے بیٹے حمید نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ ۱؎پس کیا تم ہماری حالت کاتدارک کرسکتے ہو اور٘اپنی رعیت سے فساد دورکرسکتے ہو ٘اورایسے شخص کومعزول کرسکتےہو جوہمیشہ اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتاہے ٘اوراپنی کج فہمی سے شہروں کوویران کئے ڈالتاہے٘ جب اس سے کہو کہ اپنی خواہش نفسانی کوترک کر ٘تواس کی گمراہی اوربڑھ جاتی ہے٘۱۲۔ ۲؎ ترجمہ اے نبی جب یہ لوگ کوئی تجارت یاکھیل دیکھتے ہیں تو تم کو(خطبہ پڑھتے ہوئے)کھڑاچھوڑکرچلے جاتے ہیں۔ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوشخص پکاریں تو اس کے پاس جاؤ جوبہ نسبت دوسرے کے تم سےقریب ہو اس وجہ سے کہ جس کا دروازہ قریب ہو وہی پڑوس کا زیادہ حق دار ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

عبدالرحمٰن ابن ام الحکم

  ۔ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریعقوب ب۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ

  ا۔شرحبیل بن حسنہ کے بھائی ہیں حسنہ ان کی والدہ کا نام وہ عمربن حبیب بن حذافہ بن جمح کی لونڈی تھیں ان کے والد کے نام میں اورنسب میں اختلاف ہے اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ وہ کس کے غلام تھے ہم یہ سب باتیں شرحبیل کے نام میں بیان کرچکے ہیں۔ان سے زیدبن وہب نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ہمیں ابوالفضل منصوربن ابی الحسن مخزومی نے اپنی سند سے (جو) احمد بن علی بن مثنی تک (پہنچتی ہے)خبردی وہ کہتے تھے ہمیں خثیمہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے وکیع نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اعمش نے زید بن وہب سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن حسنہ سے روایت کرکےبیان کیاوہ کہتےتھےہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں تھے اتفاقا ہماری گذرایک ایسی سرزمین پرہواجہاں کفتاربہت تھےچنانچہ ہم نے چند کفتارشکارکئے ان کاگوشت دیگوں میں پک رہاتھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ یہ کیاچیز (پک رہی)ہےہم نے کہا کچھ کفتار ہم نے پائی۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمٰنابن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ

   ان کا نسب ان کے والد کے ذکر میں بیان ہوچکا ہے اور یہ انصاری خزرجی ہیں۔ انھوں نےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔ان کی کنیت ابومحمد تھی اور بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ابوسعید تھی یہ عبدالرحمٰن شاعر تھے۔ان کی والدہ سیرین قبطیہ مریہ قبطیہ کی بہن تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت کوہبہ کردیا تھا انھیں سے عبدالرحمٰن پیدا ہوئے اسی وجہ سے کہا گیاہے کہ یہ عبدالرحمٰن حضرت ابراہیم فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خالہ زاد بھائی ہیں اور بعض لوگوں کابیان ہے کہ یہ (صحابی نہیں ہیں بلکہ)تابعی ہیں۔محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یہ اہل مدینہ کے طبقہ ثانی کے تابعین سے ہیں۔محمد بن اسحاق نے سعید بن عبدالرحمٰن بن حسان سے انھوں نے اپنے والد حسان سے روایت کی ہے کہ حسان (ایک دن) راستے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے(اس وقت) آپ کے ساتھ حارث مزنی تھے جب حسان نے حارث۔۔۔

مزید