ابن ایاس۔ دادا ہیں صفیہ اور دحیہ دختران علیہہ کے۔ بغوی نے ان کے اور حرملہ بن عبداللہ جدضر غامہ کے درمیان میں فرق بیان کیا ہے اور حافظ ابو نعیم وغیرہ نے ان دونوں کو ایک کر دیا ہے اور سب لوگوں نے ان دونوں کا ذکر لکھا ہے ابو احمد عکسری نے ابن مندہ اور ابو نعیم اور ابو عمر کی طرح لکھاہے حرملہ بن ایاس عنبری اور بعض لوگ ان کو حرملہ بن عبداللہ ابن ایاس کہتے ہیں بنی مجفر بن کعب سے ہیں جو قبیلہ عنبر کی ایک شاخ ہے۔ اور یہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن زہیر سعدی۔ طبری نے ان کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر مزان فارسی والی خوزستان کافر ہوگیا اور اس نے اپنے یہاں کا جزیہ موقوف کر دیا اور قوم کرو سے مد لی اس کی جرعت بڑھ گئی پس سلمی نے اور ان کے ساتھ والوں نے یہ خبر عتبہ بن غزوان کو لکھ بھیجی عتبہ نے حضرت عمر بن خطاب و لکھ بھیجا حضرت عمر نے عتبہ کو ہرمزان سے لڑنے کا حکم دیا اور حرقوص بن زہیر سعدی کو جو رسول خدا ﷺ کے صحابی بھی تھے مسلمانوںکی مدد کے لئے بھیج دیا اور انھیں سردار جنگ بنایا پس مسلمانوں سے اور ہرمزان سے جنگ ہوئی ہرمزان کو شکست ہوئی حرقوص نے اہواز کے بازاروں کو فتح کر لیا اور وہیں فزکش ہوئے ہرمزان کی لڑائی میں انھوں نے بڑا کار نمایاں کیا۔ حرقوس حضرت علی مرتضی کے زمانے تک باقی تھے اور ان کے ستھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ پھر خوارج میں سے ہوگئے اور ان سب سے زیادہ حضرت علی بن ابی طالب کے لئے سخت تھے جب حضرت علی نے خوارج سے قتال کی۔۔۔
مزید
ابن ابی حرب۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ عبدان نے ان کا ذکر کیا ہے اور اس میں اختلاف ہے عبدان نے ابو سعید اشج سے انھوں نے وکیع سے انھوں نے سفیان سے انھوں نے عطاء بن سائب سے انھوں نے حرب بن ابی حرب سے انھوں نے نبی ﷺ سے رویت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں پر عشر نہیں ہے عشر یہود و نصاری پر ہے۔ اس حدیث کو ابو نعیم یعنی فضل بن وکین نے سفیان سے انھوں نے عطاء سے انھوں نے حرب بن عبید اللہ سے انھوں نے انے ماموں سے جو بکر بن وائل کے ایک شخص تھے روایتکی ہے اور جریر نے عطا سے انھوں نے حرب بن ہلال ثقفی سے انھوں نے ابو امیہس ے جو بنی ثعلبہ کے ایک شخص تھے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ مں کہتا ہوں کہ حرب بن ابی حرب اگر قبیلہ بکر کے ہیں تب تو کچھ بھی اختلاف نہ رہے گا کیوں کہ قبیلہ بکر سے ہونا اور بنی ثعلبہس ے ہونا ایک بت ہے اس لئے کہ ثعلبہ بیٹِ ہیں عکابہ بن صعب بن علی بن۔۔۔
مزید
ابن حارث محاربی۔ ان سے ربیع بن زیاد نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عورتوں کو درس (نام خوشبو) کے استعمال کا حکم دے دیا ہے درس (اس زمانے میں) یمن سے آگیا تھا۔ ان کا تذکرہابو عمر اور ابو نعیم اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ملحان۔ ملحان کا نام مالک بن خالد بن زید بن حرامبن جنیدب بن عامر بن غنم ابن عدی بن نجار ہے۔ انصاری ہیں نجاری ہیں پھر بنی عدی بن نجار سے ہیں۔ حضرت انس بن مالک کے ماموںہیں۔ بدر میں اور احد میں شریک تھے اور بیرا معونہ کے دن شہید ہوئے۔ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے انس بن حام بن لمحان سے روایت کی ہیک ہ حرام بن لمحان حضرت انس کے ماموں تھے جب بیر معونہ کے دن ان کے نیزہ لگا تو اپنا خون لے کے انھوں نے اپنے چہرہ برادر اپنے سر پر چھڑک لیا اور کہا کہ میں تو قسم عرب کعبہ کی پہنچ گیا ہمیں ابو محمد بن ابی القاسم یعنی علی بن حسن بن ہتبہ اللہ دمشقی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الرحمن بن ابراہیم یعنی ابو محمد نے خبر دی وہ کہتے ھے ہمیں ابو الفرج یعنی سہل بن بشر بن احمد بن سعید نے خبر دی وہ کہتے تھے میں ابوبکر یعنی خلیل بن ہتبہ اللہ بن خلیل نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الوہاب بن حسن کلابی نے ۔۔۔
مزید
ابن معاویہ۔ عبدان نے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔ معمر نے زید بن رفیع سے انھوں نے حرام بن معاویہس ے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص سلطان کے یہاں مرب ہو اور وہ اس کا درواز حاجت والوں اور فاقہ و فقر والوں کے لئے کھولد ے اللہ اس کے لئے آسمان کے دروازے اس کی حاجت اور فاقہکے واسطے کھول دیتا ہے اور جو شخص اس کا دروازہ حاجت والوں وار فقر و افقہ والوں کے لئے بند رکھے گا اللہ آسمان کے دروازوں کو اس کی حاجت اور فقر کے وقت بند کر دے گا۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ عبدان کی کتابم ین ان کا نما زے کے ساھ ہے اور ابن ابی حاتم نے حرام بن معاویہ کے نام میں لکھاہیک ہ انھوںنے نبی ﷺ سے مرسلا روایت کی ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو حرام رے کے ساتھ کہتے ہیں اور خطیبنے کہا ہے کہ حرام بن معاویہ ہی حرام بن حکیم دمشقی ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی بن کعب۔ انصاری سلمی۔ بعض لوگ ان کو حزم کہتے ہیں بعض لوگوںکا بیان ہے کہ یہی حضرت معاذ بن جبل کے پیچھے نماز عشاء میں شریک تھے اور جماعت کو چھوڑ کر خود تنہا نماز پڑھ کر چلے آئے تھے پھر ایک نے دوسریکی شکایت نبی ﷺ سے کی اور رسول خدا ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ اے معاذ کی تم فتنہ میں ڈالنے والے ہو۔ اس حدیث کو عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کاہ ان کا نام حرام بن ابی بن کعب ہے اور عبد الرحمن بن جابر نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان کا نام حزم بتایا ہے اور بعض لوگوں نے ان کا نام سلیم بتایا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عوف بلوی۔ ایک شخص سے اصحاب نبی ﷺ سے فتح مصر میں شریک تھے اس کو ابن ماکولا نے ابن یونس سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ مجھے ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن امیہ کعبی۔ ان سے ان کے بیٹے عبداللہ بن حراش نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ کو دیکھا کہ آپ وادی محسر میں فروکش تھے ان کا تذکرہ ابو موسی نے حے کی ردیف میں لکھاہے اور کہا ہے کہ ابن طمخان نے بھی ان کو حای مہمملہ کی ردیف میں لکھا ہے اور ابن ابی حاتم نے خاے معجمہ کی ردیف میں انکا نام لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مالک بن عامر بن حذیفہ بن عامر بن عمرو بن ججمیا۔ غزوہ احد میں شریک تھے۔ یہ طبری کا قول ہے کہ ان کے نام میں حای مہملہ ہے اور ابن ماکولا نے کہا ہے کہ ان کا نام جزء بن مالک جیم اور زے اور ہمزہ کے ساتھ جزء کے نام میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسینے ابن شاہین سے ہے اور رے کے کنام میں نقل کیا ہے ابو عمرنے بھی ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ طبری نے ان کو حر بن مالک بیان کیا ہے احدم یں شڑیکت ھے ہم نے ان وک جزء کے نام میں ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید