ازدی۔ بغوی وغیرہ نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ عبد الحمید بن جعفر نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو الخیر سے انھوںنے جنادہ ازدی سے انھوںنے حذیفہ ازدی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نبی ﷺ کے حضور میں قبیلہ ازد کے آٹھ آدمیوں کے ہمراہ جمعہ کے دن حاضر ہوا میں ان میں کا آٹھواں شخص تھا ہم لوگ روزہ دار تھے حضرت نے ہمیں کھانے کے لئے بلایا جو آپ کے سامنے رکھا ہوا تھا میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم لوگ روزہ دار ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمنے کل بھی روزہ رکھا تھا ہم لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو کیا کل روزہ رکھو گے ہم لوگوں ن عرض کیا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو آج بھی نہ رکھو وہ کہتے تھے کہ پھر سب لوگوں نے روزہ توڑ ڈالا۔ اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے یزید سے روایت کیا ہے انھوں نے جنادہ کو حیفہ پر مقدم کر دیا ہے جنادہ کو صحابی قرار دیا ہے اور حذیفہ کو راوی قرار دیا ہے اور اسی ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو فوزہ۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو فروہ سلمی ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں اسلمی ہیں۔ صحابی ہیں ان سے علاء بن حارث اور بشیر مولائے معاویہ نے روایت کی ہے۔ عثمان بن ابی العاتکہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے میرے ایک بھائی نے جن کا نام زیاد تھا بیان یا کہ نبی ﷺ جب نیا چاند دیکھتے تھے تو یہ فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمیں اس مہینے میں برکت دے۔ زیاد کہتے تھے کہا س دعا کو اصحاب نبی ﷺ میں سے چھو شخصوں نے متفق اللفظ روایت کیا ہے اور ساتویں شخص تیز گھوڑے کے شہسوار اور تیز نیزہ کے باندھنے والے ابو زرہ سلمی ہیں۔ اس حدیث کو اعزاز دی نے بشیر مولای معاویہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں نے اصحاب نبی ﷺ میں سے دس آدمیوں کو دیکھا منجملہ ان کے ایک حدیر یعنی ابو فوزہ تھے کہ یہ لوگ جب نیا چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے ان کے ذکر میں حضرت ابو الدرداء سے بھی روایت ہے وہ روایت ہمس ے ابو محمد ق۔۔۔
مزید
ان کا ذکر صحابہ میں ہے۔ ابن ابی رواء نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر سے رایت کی ہے ہ رسل خدا ﷺ نے ایک لشکر کسی طرف بھیجا اس لشکر میں ایک شخص نے جن کا نام حدیر تھا اور انھوں نے پوری حدیث ذکر کی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی حدرد۔ ان کا نام سلامہ بن عمیر بن ابی سلامہ بن سعد بن شباب بن حارث بن عنبس بن ہوازن بن اسلم بن افصی بن حارثہ اسلمی ہے۔ کنیت ان کی ابو خراش۔ جندل بن والق نے یحیی بن یعلی اسلمی سے انھوں نے سعید بن مقلاس سے انھوں نے ولید بن ابی الولید سے انھوں نے عمران بن انس سے انھوں نے حدرد اسلمی سے رویت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ ن فرمایا ادمی کا اپنے بھائی (مسلمان) کو ایک سلا تک چھوڑ دیتا مثل اس کی خونزریزی کے ہے۔ اس حدیث کو عباد بن یعقوب نے یحیی بن یعلی سے انھوں نے عمران بن ابی انس سے انھوں نے ابو خراش روایت کیا ہے اور اس حدیث کو ابن وہب اور مقربی نے حیوۃ سے انھوں نے ولید بن ابی الولید سے انھوں نے عمران سے انھوں نے ابو خراش سمی سے انھوں ن ینبی ﷺ سے اسی طرح رایت کیاہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مالک۔ ان کا ذکر ان کے بھائی کے ذکر میں ہوچکا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
بزیادت ہاء کنیت ان کی ابو یزید۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان سے ان کے بیٹے یزید نے روایت کی ہے ان کا صحابی ہونا چابت نہیں۔ حسن بن سفیان وغیرہ نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ یزید ابن حجیرہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ فائدہ نہیں حاصل کرتے صحت اور فارغ البالی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی حجیر۔ کنیت ان کی ابو مخشی ہلالی ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں حنفی ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں ربیعہ بن نزار کے خاندان سے ہیں ان سے ان کے بیٹے مخشی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کو خطبہ پڑھتے دیکھا آپ فرما رہے تھے کہ تم لوگوں کے خون اور آبروئیں آپس میں ہمیشہ کے لئے اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن اس مہینے میں اس شہرمیں ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن بیان۔ ان کا شمار اہل عراق میں ہے۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ صحابہ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے مگر صحیح نہیں ہے ان سے ابو قزعہ نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے (ایک مرتبہ) یہ آیت پڑھی ولا یحبن الذین یخلون بما ان اھم اللہ من فصلہ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
بضم حائ۔ تصغیر ہے حجر کی۔ یہ حجر بیٹے ہیں ابو اباب تمیمی کے حلیف ہیں بنی نوفل کے صحابی ہیں۔ ان سے ان کی لونڈی ماریہ نے زید بن عمرو بن ثقیل کا قصہ نقل کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آخر میں نون ہے۔ بیٹے ہیں مرتع بن سعد بن عبد الحارث بن حارث بن عبد الحارث ازدی غامدی کے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے اور اسلام لائے تھے یہ ہشام کلبی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید