پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

حضرت شیخ ابو بکر بن عبد الرحمن المخزومی

حضرت شیخ ابو بکر بن عبد الرحمن المخزومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی

حضرت شیخ مخدوم محمد کبیر صدیقی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی

حضرت مخدوم محمد قاسم صدیقی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مخدوم قاضی محمد عاقل رابع عباسی

حضرت مولانا مخدوم قاضی محمد عاقل رابع عباسی کھہڑا ضلع خیر پور میرس  علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم محمد جعفرثانی عباسی بوبک تحصیل سیوہن شریف

  حضرت مخدوم محمد جعفرثانی عباسی بوبک تحصیل سیوہن شریف علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت یر سید مرتضیٰ علی شاہ لکیاری

حضرت یر سید مرتضیٰ علی شاہ لکیاری (پیر صاحب کے برادر) علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مجیب الدین چشتی

حضرت مولانا مجیب الدین چشتی علیہ الرحمہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا استاذ الا سا تذہ احمد حسین چشتی صاحب

حضرت مولانا استاذ الا سا تذہ احمد حسین  چشتی صاحب علیہ الرحمہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید جلال الدین چشتی

  سلطنت مغلیہ کا آخری دور تھا۔ ہندو مسلم اختلاط اور اکبر بادشاہ کے پھیلائے ہوئے دین الٰہی کی وجہ سے دین اسلام کی ضیاء پاشی ماند پڑچکی تھی حالانکہ سلطان اورنگزیب عالمگیر نے بڑی حد تک دین الٰہی کے پیدا کردہ فتنوں پر قابو پالیا تھا اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ جیسی بلند پایہ کتاب معرض وجود میں آچکی تھی۔ اسی دور پر فتن میں حضرت مولانا جلال الدین کے آبائو اجداد نے احیاء دین کی خاطر ہندوستان کی جانب نقل مکانی کی اور ضلع بجنور کے قصبہ سہسپور مین آباد ہوئے۔ آپ کے خاندان میں کافی علماء و مشائخ گزرے ہیں۔ آپ کے نانا جان حضرت مولانا سید فرید الدین اور ماموں جان حضرت مولانا سید اصغڑ علی کا شمار وقت کے جید علماء و مشائخ مٰں ہوتا تھا۔ آپ کے والد ماجد حضرت صوفی سید عبدالشکور ایک عابد و زاہد شخص تھے۔ شریعت مطہرہ کے پابند تھے، انہوں نے اپنے کاندان کی ایک نہایت متقی پرہیزگار و ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا خواجہ شاہ محمدسراج الحق گوردارسپوری چشتی صابری

حضرت مولانا خواجہ شاہ محمدسراج الحق گوردارسپوری چشتی صابری  علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید