حضرت شیخ ابو بکر بن عبد الرحمن المخزومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا مخدوم قاضی محمد عاقل رابع عباسی کھہڑا ضلع خیر پور میرس علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید
حضرت مخدوم محمد جعفرثانی عباسی بوبک تحصیل سیوہن شریف علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید
حضرت یر سید مرتضیٰ علی شاہ لکیاری (پیر صاحب کے برادر) علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا استاذ الا سا تذہ احمد حسین چشتی صاحب علیہ الرحمہ۔۔۔
مزید
سلطنت مغلیہ کا آخری دور تھا۔ ہندو مسلم اختلاط اور اکبر بادشاہ کے پھیلائے ہوئے دین الٰہی کی وجہ سے دین اسلام کی ضیاء پاشی ماند پڑچکی تھی حالانکہ سلطان اورنگزیب عالمگیر نے بڑی حد تک دین الٰہی کے پیدا کردہ فتنوں پر قابو پالیا تھا اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ جیسی بلند پایہ کتاب معرض وجود میں آچکی تھی۔ اسی دور پر فتن میں حضرت مولانا جلال الدین کے آبائو اجداد نے احیاء دین کی خاطر ہندوستان کی جانب نقل مکانی کی اور ضلع بجنور کے قصبہ سہسپور مین آباد ہوئے۔ آپ کے خاندان میں کافی علماء و مشائخ گزرے ہیں۔ آپ کے نانا جان حضرت مولانا سید فرید الدین اور ماموں جان حضرت مولانا سید اصغڑ علی کا شمار وقت کے جید علماء و مشائخ مٰں ہوتا تھا۔ آپ کے والد ماجد حضرت صوفی سید عبدالشکور ایک عابد و زاہد شخص تھے۔ شریعت مطہرہ کے پابند تھے، انہوں نے اپنے کاندان کی ایک نہایت متقی پرہیزگار و ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا خواجہ شاہ محمدسراج الحق گوردارسپوری چشتی صابری علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید