مازنی ان کوابن شاہین نے صحابہ میں ذکرکیاہے اوراپنی سند کے ساتھ مسلم بن خالد زنجی سے انھوں ابن جریج سے انھوں نے یزیدبن عبداللہ بن سفیان سےانھوں نے عقبہ بن طویع مازنی سے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا(جب)ایک شخص نے غلاموں میں سے ایک انصاری عورت کے ساتھ نکاح کیاتوجیسا کچھ ابن مندہ نے عتبہ کے نام میں ذکرکیاہےوہی فرمایا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاوراس میں شک نہیں ہے کہ ان دونوں میں کئی ایک نام کی تصحیف ہوگئی ہےکیوں کہ عتبہ عقبہ کے مشابہ ہے واللہ اعلم۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اسمِ گرامی:آپ کا نام حاتم بن اسمٰعیل تھا۔کنیت:ابو عبد الرحمٰن تھی۔حاتم اصم(بہرہ) کے نام سے مشہور ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ نے تمام مروجہ علوم شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحابِ امام ابو یوسف سے حاصل کیے۔ بیعت وخلافت: آپ نے بیعت اپنے استاذ شفیق بلخی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر کی اور استاذ نے ہی آپ کو خلافت بھی عطافرمائی۔ سیرت وخصائص:سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مشائخِ بلخ میں سے زاہدِ زمانہ، عابدِ یگانہ، معرض عن الدنیا و مقبل عقبیٰ، ریاضت وورع وصدق واحتیاط میں بے بدل تھے، حتٰی کےآپ کےحق میں شیخ جنید فرماتے تھے: کہ آپ ہمارے زمانہ کے" صدیق"(یہ ایک ولایت کادرجہ ہے) ہیں ۔آپ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے متبعین میں سے تھے ۔آپ کا قول ہے:"کہ جو شخص بغیر فقہ کے عبادت کرے وہ مثل خراس (یہ ایک پتھر ہوتاہے،پہلے وقت۔۔۔
مزید
زرقی ہیں ان سے ان کے بیٹے سعد نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان پرمیں قسم کھاتاہوں لوگوں نے کہا یارسول اللہ وہ کیاچیزیں ہیں آپ نے فرمایا کہ جو مومن اپنے مال میں سے کچھ کسی کونہ دے گاتواس کا مال ہمیشہ کم ہوتارہےگا۔پھرپوری حدیث بیان کی۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں بنی عوف بن خزرج کے حلیف تھے غزوۂ بدر میں شریک تھے یہ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے کہاہے کہ ابن رافع بن عبدالقیس بن لقیط بن عامر بن امیہ بن حارث بن عامربن فہرقریشی فہری ہیں فتح مصرمیں شریک تھے اور(ملک)مغرب پربادشاہ تھےاورافریقہ میں شہیدہوئےاس کو ابونعیم نے کہاہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ عقبہ بن رافع ہیں ابونعیم نے ان کو اور عقبہ بن نافع کوایک کردیاہے مگرظاہریہ ہے کہ یہ دونوں دوشخص ہیں ہم کوابوالفضل بن ابی الحسن طبری مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی احمد بن علی بن مثنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے کامل بن طلح جحدری نے ابن لہیعہ سے انھوں نے عمارۃ بن غزیہ سے انھوں نے عاصم بن عمرابن قتادہ سے انھوں نےمحمودبن لبیدسےانھوں نے عقبہ بن رافع سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب اللہ بندےکواپنامحبوب زیادہ سمجھتاہےتواس کو دنیاسے متنفرکردیتاہے جیسا کہ تم اپنے مریض سے پرہیزکراتے ہو کہ اچھاہوجائے اس حدیث کو ابوالفضل کے علاوہ لوگوں نے۔۔۔
مزید
صحابی تھے۔ان کے بھائی سہل کے نام میں ان کاتذکرہ ہوچکاہے۔ان کو دباغ نےذکرکیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن نصربن وہمان بن نصار بن سبیع بن بکراشجع اشجعی تھے۔ان کا لقب مذبح تھا کیوں کہ انھوں نے واقعہ رقم میں قیدیوں کوذبح کیاتھا۔یہ اول ہی زمانے میں اسلام لائےتھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔اس کو اب ہشام اورابن کلبی نےکہاہےاوران کے دادانضربن وہمان وہ شخص ہیں جن کی عمرزیادہ تھی اوران کے بال دوبارہ سیاہ ہوگئےتھےاوردانت بھی نکل آئے تھے ان کے حق میں کہاگیاہے ؎ ۱؎ ونصربن وہمان الہنیدۃ عاشہا وستین عاماثم قوم فانصاتا ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ۔نصربن وہمان بہت دنوں تک زندہ رہےساٹھ برس کی عمرکے بعدپھروہ جوان ہوگئے۱۲۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن عامربن نوفل بن عبدمناف بن قصی قریشی نوفلی ہیں ان کی کنیت ابوسروعہ تھی۔ ان کی والدہ بنت عیاض ابن رافع خاندان خزاعہ سے ایک عورت تھیں یہ بقول مصعب مکہ میں رہتے تھےاوریہی اہل حدیث کابھی قول ہے لیکن اہل نسب کہتے ہیں کہ عقبہ ابوسروعہ کے بھائی ہیں اور یہ دونوں فتح مکہ کے زمانے میں ساتھ ہی ایمان لائےتھے۔یہ قول بہت صحیح ہے زبیرنے کہاہے کہ انھوں نے ہی خبیب بن عدی یعنی ابوسروعہ کوقتل کیاتھا۔ہم کوابراہیم بن محمداور اسمعیل وغیرہمانے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے علی بن حجر نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن ابراہیم نے ایوب سےانھوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھےمجھ سے عبیدبن ابی مریم نے عقبہ بن حارث سے نقل کرکے بیان کیا(راوی نے) کہا اورمیں نےعقبہ سے سنالیکن عبیداللہ کی حدیث زیادہ یادہے وہ کہتےتھے میں نے ایک عورت سے نکاح کیاپس ہم۔۔۔
مزید
یہ جبیربن عتیک کے غلام تھے۔ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی یہ اپنے آقا کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کومنصوربن ابی الحسن مدینی نے اپنی سندکواحمدبن علی بن مثنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے داؤدبن صالح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یونس بن بکیر نے محمد بن اسحق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے داؤد بن حصین نے عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والد عقبہ سے جوجبری عتبک کے غلام تھے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ غزوۂ احد میں اپنے آقا کے ساتھ میں شریک تھااوراس میں مشرکوں کے ایک آدمی کومیں نےماراجب میں نے اس کوقتل کیا تواس سے میں نے کہاکہ ہے(یہ حملہ لیتاجا)اورمیں ایک فارسی کالڑکاہوں۔یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی توآپ نے فرمایاکہ تم نے یہ کیوں نہ کہاکہ(یہ حملہ)لے مجھ سے اورمیں انصاری کالڑکاہوں کیوں کہ جوغلام جس قوم کاہوتاہے اسی سے منسوب ہوتاہے اور اس کوجریربن حازم نے داؤد ۔۔۔
مزید
کندی ہیں بعض لوگ کہتےہیں کہ یہ عفیف بن قیس بن معدیکرب ہیں اوربعض نے کہاہے کہ عفیف بن سعد معدیکرب ہیں اوربعض لوگ کہتےہیں کہ عفیف کندی جوکہ صحابی تھے ان عفیف بن معدیکرب کے علاوہ ہیں جنھوں نے حضرت عمرسے روایت نقل کی ہے بعض نے کہاہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اس کو ابوعمر نے کہاہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ عفیف ابن معدیکرب قیس کندی اشعث بن قیس کے اخیانی بھائی تھے اورچچازاد بھائی تھے بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے کہاہے کہ ان کانام عفیف بن قیس ہے اس میں انھوں نے غلطی کی کیوں کہ وہ عفیف بن معدیکرب ہیں ۔ان سے ابویحییٰ اوران کے بیٹےایاس نے روایت کی ہے۔ہم کوابوالربیع یعنی سلیمان بن ابی البرکات یعنی محمد بن حسین بن خمیس نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونصر یعنی احمد بن عبدالباقی بن حسن بن طوق نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالقاسم یعنی نصر بن احمدابن مرجی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں ابویعلی یعنی احمد بن علی نے خبردی وہ۔۔۔
مزید