لیلی دختر اطنابہ بن منصور بن معیص بن جَثم انصاریہ از بنو حبلی،بقولِ ابنِ حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
جمیلہ دختر ابی بن صعصعہ انصاریہ از بنو مازن،بقولِ ابن حبیب انہو ں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
جذامہ دخترِ حارث،ہمشیرہ حلیمہ جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضاعی ماں تھیں،ہم حلیمہ ترجمے میں ان کا نسب بیان کریں گے،شیما ان کا لقب نہیں تھا،کیونکہ شیما حضور کی رضاعی بہن تھیں نہ کہ خالہ۔ ۔۔۔
مزید
جہدمہ،بشیر بن خصاصہ کی بیوی تھیں،انہیں حضورِ اکرم کی زیار ت نصیب ہوئی،ابو جناب یحییٰ بن ابو حبہ نے اباد بن لُقیطہ سے انہوں نے جہدمہ سے روایت کی کہ ان کے شوہر کا نام زحما تھا،جسے آپ نے بدل کر بشیر بنادیا،نیز ان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے حجرے سے نکلتے ،آپ نے غسل فرمایا تھا،سر کو حرکت دے رہے تھے،اور بالوں پر حنا کی تہ جمی ہوئی تھی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
جمیلہ دختر عبداللہ بن ابی سلول،یہ خاتون اوّل الذکر کے بھائی کی بیٹی تھیں،جس سے حنظلہ نے نکاح کیا،جب وہ غزوۂ احد میں مارا گیا،تو پھر ثابت بن قیس کے نکاح میں آئی،اس کے وفات کے بعد مالک بن دخشم سے نکاح کیا،اس کے بعد حبیب بن یساف سے جو بنو حارث بن خزرج سے تھے،ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور محمد بن سعد،واقدی کے کاتب سے روایت کی۔ ابو نعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اس خاتون جمیلہ کو عبداللہ بن ابی بن سلول کی بیٹی قرار دیا ہے کہ حنظلہ کے قتل کے بعد ان سے ثابت نے نکاح کرلیا تھا،اور ان کے حالات محمد بن سعد واقدی سے لئے ہیں،اور اس خاتون سے جس نے اپنے شوہر سے خلع کرلیا تھا، انہیں غیر شمار کیا ہے،اور مبتلائے وہم ہو کر علمأ کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،حالانکہ اس سے بیشتر ذکر کردہ ترجمے میں وہ جمیلہ کو ابی کی بیٹی لکھ آئے ہیں۔ اس کے بارے میں ابن اثیر کی رائے ی۔۔۔
مزید
جمیل دخترِ سعد بن ربیع انصاریہ ،ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،اور حضور سے حدیث روایت کی،ان سے ثابت بن عبید انصاری نے روایٔت کی،کہ ان کے والد اور چچا غزوۂ احد میں قتل ہوگئے اور ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے،یہ خاتون زید بن ثابت کی زوجہ تھیں،ثابت بن عبید سے مروی ہے کہ وہ ایک دفعہ جمیل دختر سعد بن ربیع کے گھر گئے،تو انہوں نے انہیں کھجوریں پیش کیں،انہوں نے جناب جمیلہ سے پوچھا،کیا یہ کھجوریں تمہیں اپنے والد کی میراث سے ملی ہیں،خاتون نے جواب دیا،نہیں،اس وقت تک وراثت کا حکم نازل نہیں ہؤا تھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
جمرہ دختر قحافہ کندیہ،کوفی شمار ہوتے ہیں،شبیب بن غرقدہ نے جمرہ دخترِ قحافہ سے روایت کی،کہ وہ حجتہ الوداع میں ام المومنین ام سلمہ کے ساتھ تھیں،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سُنا،یا امتاہ (اے میری امت) کیا میں نے خدا کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے،یہ سُن کر جناب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے کہا،حضور اکرم اپنی والدہ کو کیوں بُلا رہے ہیں،جناب ام سلمہ نے کہا،حضور نبیٔ کریم اپنی امت سے خطاب فرمارہے ہیں،اے لوگو! تمہارے مال،عورتیں اور خون تم پر اس طرح حرام کردئے ہیں،جس طرح آج کا دن،اس شہر میں اور اس مہینے میں قابلِ احترام بنا دیا گیا ہے،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے،لیکن ابو عمر کہتے ہیں کہ اس حدیث کا اسناد ناقابلِ اعتماد ہے۔ ۔۔۔
مزید
فریعہ دختر معوذ بن عفراء انصاریہ،ان کا نسب ربیع دختر معوذ کے ترجمے میں بیان ہوچکاہے،انہیں صحبت نصیب ہوئی،اور یہ مستجاب الدعوات تھیں،ان سے شادی کے موقعہ پر گانے اور دف بجانے کی اجازت کے بارے میں اہلِ بصرہ کو ایک حدیث یا دہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
فریعہ دختر وہب زہریہ،حضورِ اکرم نے انہیں اپنے ہاتھ پر اُٹھا لیا،اور فرمایا کہ جو شخص میری خالہ کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے دیکھ لے،ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے کہ جعفر نے اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے،اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ۔۔۔
مزید
حبیبہ دختر حجش،سب کا یہی خیال ہے،اور انہوں نے کنیت ام حبیب بتائی ہے،لیکن مشہور یہ ہے کہ ان کی کنیت ام حبیبہ تھی، اور وہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھیں،ہم کنیتوں کے تحت ان کا ذکر ذراتفصیل سے کریں گے،ابوعمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید