نہ ان کا نام معلوم ہے نہ قبیلہ۔شام میں رہتے تھے۔ ابو نعیم نے کہا ہے ہ متقدمیں یں سے کسی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں نہیں کیا ان کو بعض متاخرین نے ابن ابی عبلہ کی حدیث کی وجہس ے ذکر کیا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کے اصحاب میںایک شخص کو دیکھا جن کو لوگ افطس کہتے تھے ایک ریشمی لباس پہنے ہوئے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ ان کے تذکرہ میں ابو عمرنے بھی ابن مندہ ی موافقت کی ہے انھوں نے بھی ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے ور ابن ابی عاصمنے بھی احاد و مثانی میں ان کو اسی طرح ذکر کیا ہے ان دونوں نے کہا ہے کہ ابن ابی عبلہ نے ان سے رویت کی ہے انھوں نے کہا ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے اصحاب میں ایک شخص کو دیکھا جو ریشمی لباس پہنے ہوئے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ ابن مندہ ان کے ذکر میں متفرد نہیں ہیں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار سے شمال کی جانب ذرا اونچائی پر ایک قبر ہے جسے خواجہ بست کی قبر کہتے ہیں، لوگوں میں مشہور ہے کہ دہلی فتح ہونے سے پہلے آپ یہاں دفن کیے گئے تھے، یہ اس وقت کی بات ہے جب خواجہ بختیار کاکی کا مزار تعمیر نہ ہوا تھا، بہرحال خواجہ بست کے حالات (بڑی جستجو اور محنت کے باوجود) ہمیں معلوم نہ ہوسکے واللہ اعلم بالصواب اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
راجز عجلی۔ یہ اغلب جشم بن عمرو بن عبید و بن حارثہ بن دلف بن جشم بن قیس بن سعد بن عجل بن لخم کے بیٹے ہیں ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ انھوں نے اسلام کا زمانہ پایا ہے اور یہ اسلام لائے اور بہت اچھے مسلمان ہوئے انھوں نے ہجرت بھی کی تھی پھر بعد اس کے سعد بن ابی وقاص کے ہمراہ عراق گئے ر کوفہ میں سکونت ختیر کی اور جنگ نہاوند میں شہید ہوئے ان کی قبروہیں ہے۔ ان کا تذکرہ اشیری نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ینسار جھنی۔ یہ صحابی ہیں۔ ان سے ابو بردہ بن ابی موسی وغیرہ نے روایت کی ہے ان کا شمراہل کوفہ میں ہے ان سے عمرو بن مرہ نے انھوںنے ابی بردہ سے انھوں نے اغر سے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ہمیں ہر روز ستر مرتبہ اللہ سے استغفار کیا کرتا ہوں یہ ابن مندہ کی تقریر کا ماحصل ہے۔ اور ابو عمر نے ان کو اور اغر مزنی کو ایک کر دیا ہے ان سے اہل بصرہ میں ابو بردہ وغیرہ نے رویت کی ہے ور بعض لوگوںکا بیان ہے کہ انس ے ابن عمر نے بھی رویت کی ہے ابو عمر نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض لوگوںکا بیان ہے کہ سلیمان بن یسار نے بھی انس ے روایت کی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ ابو عمر نے ان کو اور ان اغر کو جن کا ذکر ان سے پہلیہوا ایککر دیا ہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ اغر بن یسار مزنی اور بعض لوگ ان کو جھنی بھی کہتے ہیں ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ ان سے ابوبردہ وغیرہ نے رویت کی ہے ور انھوں نے ان سے وہ حدیث ب۔۔۔
مزید
غفاری۔ ان کا نسب ابو عمر نے تو غفاری بیان کیا ہے ور ابن مندہ ور ابو نعیم نے کہا ہے کہ اغر صحابہ میں ایک شخص تھے اور انھوںنے ان سے وہ حدیث رویت کی ہے جو شبیب بن روح نے اغر سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو آپنے سورہ روم پڑھی تھی اور ابو نعیم کا بیان اغر بن یسار کے تذکرہ میں انشاء اللہ آئے گا۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عتبیعہ بن ناجیہ بن عقال بن محمد بن سفیان بن مجاشع بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم۔ درمی ہیں پھر مجاشعی ہیں۔ یہ اور فرزوق شعر ناجیہ میں جاکے مل جاتے ہیں کیوں کہ فرزوق کا نام ہمام بن غالب بن صعصعہ ابن ناجیہ ہے اور یہ اور اقرع بن حابس بن عقال عقال میں اکے مل جاتے ہیں۔ یہی تھے جنھوں نے جنگ جمل میں اس اونٹ کے پیر کاٹے تھے جس پر عائشہ رضی اللہ عنہا سور تھیں۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ اور جب حضرت معاویہ نے عبداللہ بن حضرمی کو بصرہ بھیجا تاکہ بصرہ پر قبضہ کر لیں اور یہ خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انھوںنے عین بن ضبیعہ کو ان سے لڑنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بصرہس ے نکال دیں مگر دفعۃ عین قتل کر دیے گئے یہ واقعہ سن۳۸ھ کا ہے۔ ہم نے س حادثہ کو تاریخ کامل میں بیان کیا ہے پھر علی رضی الہ عنہ نے ان کے بعد حارثہ بن قدامہ تمیمی سعدی کو بھیجا تو انھوںنے ابن حضر۔۔۔
مزید
ابن بشامہ عنبری۔ ابو موسی نے بیان کیا ہے کہ عبدان بن محمد نے ان کا تذکرہ کیا ہے ور کہا ہے کہ ہم سے محمد بن مرزوق بصری نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں سالم بن عدی بن سعید بن جااوہ بن شعثم نے اپنے دادا بکر بن مرداس سے انھوں نے اعور بن بشامہ اور وردان بن مخرمہ اور ونیع بن رفیع عنبری سے نقل کر کے خبر دی کہ یہ لوگ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے اور وقت آپ اپنے حجرے میں سو رہے تھے ہم نے آپ کا انتظار کیا اتنے میں عینیہ بن حصن فزاری قبیلہ عینیہ کے کچھ قیدیوںکو لے کے آئے ہم لوگوں نے عرض کیا کہ یارول اللہ یہ کیا وجہ ہے ہ ہمرے لوگ قید کر لئے گئے حالانکہ ہم مسلمان ہو کے آگئے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ تم لوگ قسم کھائوکہ تم مسلمان ہوک ے آگئے ہو تو میں اور وردان قسم کھانے سے رکا اور ربیعہ نے کہا کہ یارسول اللہ میں قسم کھاتا ہوںکہ ہم آپ کے پس اس وقت آئے ہیں جبکہ ہم نے اپنی مسجدیں قبلہ رو کر لین اور اپن۔۔۔
مزید
مازنی۔ مازن بن عمرو بن تمیم کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کا نام عبداللہ بن اعور ہے اور بعض لوگ اور کچھ بھی بیان کرتے ہیں۔ بصرہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ہمیں ابو الفضل منصور بن ابی عبداللہ طبری نے اپنی اسناد سے ابو یعلی یعنی احمد بن علی بن مثنی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمس ے مقدمی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابو معشہ یوسف ابن یزید نے بیان کیا وہ کہتے تھے م سے صدقہ بن طیلسہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے معن بن ثعلبہ مازنی نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے اعشی مازنی نے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں گیا اور میں نے آپکے سامنے یہ اشعار پڑھے۔ یا مالک الناس و دیان العرب انی لقیت ذربۃ من الذرب غدوت ابغیہا الطعام فی رجب فخلقتنی فی نزاع و ہرب اخلفت العہد ولطت بالذنب دہن شر غالب لمن غلب (٭ترجمہ۔ اے ل۔۔۔
مزید
ابن عمرو یشکری۔ ان کا شمار بصرہ والوں میں ہے ان کی حدیث عبداللہ بن یزید بن اوس نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نبی ﷺ کے پاس کچ ہدیہ لے کے گیا آپ نے قبول فرما لیا اور ہمارے لئے چراگاہ میں برکت کی دعا مانگی اور اسی سند سے ان کی کئی حدیثیں مروی ہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
بزرگوں کے وہ تمام ملفوظات جو ہمارے مطالعہ سے گزرے مولانا مجدالدین حاجی کا ان میں سے کسی ایک میں بھی ذکر نہیں، البتہ بعض بزرگوں سے زَبانی سُنا ہے کہ مولانا مجدالدین حاجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ایک بزرگ تھے اور سلسلہ سہروردیہ میں شیخ شہاب الدین سہروردی کے مرید تھے، آپ نے بارہ حج کیے تھے اور دہلی میں رہتے تھے، اسی زمانہ میں سلطان شمس الدین التمش نے آپ کو دہلی کا وزیر انتظامات مقرر کردیا، چونکہ آپ نے اس عہدہ کو بطیّب خاطر اور برضاد رغبت قبول نہیں فرمایا تھا اس لیے دو سال تک وزارت متعلقہ کے جملہ کام احسن طریق اور بہترین نظم و نسق سے انجام دینے کے بعد سلطان کی خدمت میں عرض کیا کہ اب تو فقیر کو اس کام سے معذور تصور کرتے ہوئے معاف فرمائیں چنانچہ سلطان نے آپ کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کو عہدہ وزارت سے سبکدوش کردیا، بقرعید کے تین دن جو عام طور پر کھانا کھلانے کے ہیں اس علاقہ کے رہنے والے شہر سے۔۔۔
مزید