عبدی (یعنی قبیلہ عبدالقیس کے) ان کا تزکرہ صرف ابن مندہ نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ اپنی قوم کی طرف سے رسول خدا ﷺ کے پاس آئے تھے اور یہی محمد بن سعد واقدی سے مروی ہے حالانکہ یہ وہم ہے اور س تذکرہ میں جو س کے بعد جو اس کی بحث آئے گی۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
سعید بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی قرشی اموی کے فرزند ہیں اور انکی والدہ ہند بنت مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ صفیہ بنت مغیہ جو حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ کی پھوپھی تھیں حضرت ابان اور رسول خدا ﷺ عبد مناف میں جاکے ملتے ہیں۔ یہ اپنے دونوں بھائیوں خالد اور عمرو کے بعد اسلام لائے اور جب وہ اسلام لائے تو انھوں نے کہا (ترجمہ اشعار) کاش (٭یہ اشعار اس زمانے کے ہیں جس زمانہ میں حضرت ابان رضی اللہ عنہ دور کافر تھے وہ اپنے نو مسلم بھائیوں کی ان اشعار میں ہے کرتے ہیں کہ کاش میرے (باپ جو مر چکے ہیں اور یہ میں مدفون ہیں زندہ ہوتے اور) عمر و خالد کی افتراپرداز زبان (یعنی یہ کہ وہ ایک ہم جیسے بشر کو نبی کہتے ہیں اور بتوںکی پرستش وغیرہ کی ممانعت خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں دیکھتے (تو ان دونوں کو مزا بتاتے)) (مقام) ظریہ میں (جو)۔۔۔
مزید
قبیلہ غفار کے ہیں قدیم الصحبت ہیں یہ عمیر کے غلام ہیں اوپر سے (یعنی) ان کے بپ ددا کے وقت سے یہ غلامی چلی آرہی ہے ان کے نام میں لوگوں کا اختلاف ہے باوجود اس امر پر اتفاق کے کہ وہ قبیلہ غفار سے ہیں خلیفہ بن خیاط نے کہا ہے کہ ان کا نام عبداللہ بن عبدالملک ہے اور کلبی نے کہا ہے کہ آبی اللحم کا نام خلف بن مالک بن عبداللہ بن حارثہ بن غفار ہے ان کی اولاد میں سے حویرث بن عبداللہ بن مابی للحم ہیں کلبی نے حویرث کو آبی اللحم کی اولاد میں قرار دیا۔ اور ہیثم کہتے ہیں کہ ان کا نام خلف بن عبدالملک تھا اور بعض لوگ کہتیہیں کہ ان کا نام حویرث بن عبداللہ بن مالک بن عبداللہ بن ثعلبہ بن غفار تھا۔ اور ان کو آبی اللحم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ (آبی اللحم کے معنی ہیں گوشت سے انکار کرنے والا ار وہ) جو جانور بتوںکے نام پر ذبح کیا جاتا تھا اس کا گوشت نہ کھاتے تھے اور بعض لوگ کہتیہیں کہ وہ بالکل گوشت نہ کھاتے تھے۔۔۔۔
مزید
سندھی مدنی یہ دو عزیز مدینہ طیبہ کے فقیہوں اور صوفیاء میں سے تھے جو وہاں سے ہندوستان آئے اور علم حدیث پڑھاتے تھے یہاں کے طالب علم وغیرہ ان دونوں کو شیخین کہتے تھے۔ خواجہ عبدالشہید عبید اللہ فرماتے تھے کہ یہ دونوں شیخین حقیقت میں حضرت ابوبکر و حضرت عمر فاروق شیخین کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ دونوں علم و عمل اور تقویٰ کا مجسمہ تھے، ان جیسے اشنحاص مدینہ منورہ سے آج تک نہیں آئے، یہ دونوں شیخ علی متقی کے خصوصی دوست اور خلیفہ تھے۔ سلطان روم کی جانب سے جو حاکم مکہ مکرمہ میں آتا وہ شیخ علی متقی کی خدمت میں ضرور حاضری دیتا اور آپ کا معتقد ہوجاتا شیخ علی متقی کی خدمت میں جو کچھ بھی ازقسم جنس و مال آتا وہ سب اپنے دوستوں خادموں اور فقیروں کو تقسیم کردیتے، اور اس میں سے کوئی چیز ان دونوں شیخین اور شیخ عبدالوہاب کو اس لیے نہ دیتے کہ شاید یہ مال کسب حلال کا نہ ہو۔ شیخ رَحَمت اللہ کے والد ماجد قاضی عبداللہ۔۔۔
مزید
مجھ مصنف کتاب اخبار الاخیار کے والد ماجد تھے، آپ اپنے پیرومرشد شیخ امان سے نہایت درجہ محبت و اعتقاد رکھتے تھے، اکثر اوقات اُن کے ذکر سے رطب اللسان رہتے تھے اور فرماتے کہ ہمارے پیرومرشد کسی حالت میں بھی وجد و حال گریہ و زاری اور جوش سے خالی نہیں رہتے تھے، آپ کے تمام دوست احباب آپ سے اس طرح ملتے تھے، جس طرح شاگرد اپنے استاد سے ملتے ہیں بخلاف اس کے والد بزرگوار کو آپ سے محبت کے ساتھ ارادت بھی تھی، والد بزرگواز فرماتے تھے کہ میری عمر سات برس کی تھی اس وقت سے مجھ کو درویشوں کا درد طلب اور شوق بندگی ہے، فرماتے تھے کہ میں بہت سے درویشوں کے پاس پہنچا لیکن شیخ امان کے یہاں مقصد پورا ہوا اور پیرومرشد کے ذریعہ سے جو قلبی لگاؤ حاصل ہوا وہ کسی اور سے میسر نہیں ہوا اس وجہ سے پیرومرشد نے والد بزرگوار کو اپنی عنایات کے ساتھ مخصوص کرکے خرقہ خلافت پہنادیا اور پہلے اپنے ہاتھ سے ایک خط لکھا جس میں مسودۂ خلافت۔۔۔
مزید
قبیلہ طے کے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ارطاۃ کے والد تھے نبی ﷺ کے پاس ۰مقام) ذی الخلصہ کے فتح کی بشارت لے کے آئے تھے اس وقت آپ نے ان کا نام بشیر رکھا تھا۔ قیس بن ربیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس بن ابی حازم سے انھوں نے حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت کی کہ نبی ﷺنے انھیں ذی (٭ذوالخلصہ ایک شیوالہ تھا یمن میں اس میں ایک بت تھا جس کا نام خلصہ تھا مشرک اس کی پرستش کیا کرتے تھے اور اس شیوالہ کو وہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے(خیر جاری شمع صحیح بخاری)) الخلصہ کے گرا دینے کے لئے بھیجا تھا (چنانچہ حسب ارشد اس کو منہدم کرچکے) تو انھوںنے نبی ﷺ کی کدمت میں ایک قاصد بھیجا جنکا نام ارطاۃ تھا چنانچہ وہ آئے اور انھوں نے حضرت کو بشارت دی نبی ﷺ (اس بشارت کو سن کے) سجدے میں گر گئے اس حدیث کو محمد بن عبداللہ نے نمیر سے انھوں نے اسماعیل سے روایت کیا ہے اور انھوں نے انھیں ابو ارطاۃ کہا ہے۔ اور اسماع۔۔۔
مزید
ابن مخشی اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام سوید بن مخشی ہے۔ یہ صحابی ہیں قبیلہ طے کے ان کا ذکر ابو معشر وغیرہ نے ان لوگوں میں کیا ہے جو بدر میں شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ سوید کے بیان یں کیا ہے ان کا تذکرہ ابو احمد عسکری نے بھی کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
رسول خدا ﷺ کے خادم ہیں۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے کہ اربد رسول خدا ﷺ کے خادم ہیں ان کا تذکرہ ابو عبداللہ بن مندہ نے (اپنی) تاریخ میں کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حدیث اصبغ بن زیدنے سعید بن راشد سے انھوں نے (حضرت امام) زید ۰شہید۹ سے انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ (یعنی امام زین العابدین) سے انھوں نے اپنی دادی حضرت فاطمہ زہراسے روایت کی ہے اس حدیث میں کچھ ان کا ذکر ہے۔ انکا تذکرہ ابو موسینے لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
ابن حیر اور بع لوگ کہتے ہیں کہ ابن حمزہ۔ وہب بن جریر نے اپنیوالد سے انھوں نیابن اسحاق سے نقل کر کے بیان کیا ہے کہ انھوں نے کہا جن لوگوںنے نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں اربد بن حمیر بھی ہیں اور ابن سعد نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ جن لوگوں نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی اور جنگ بدر میں شریک ہوئے ان میں اربد بن عمیر بھی ہیں حمیر کے حاکو پیش اور میم کو زبر اور یے کو تشدید ہے اور اخیر میں رے ہے۔ یہ امیر ابو نصر بن ماکولا کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
ابن حارث بن یعمر۔ ان کا نام شداخ بن کعب بن مالک بن عامر بن لیث بن بکر بن عبد مناۃ ابن کنانہ بن خزیمہ کنانی لیثی۔ کنیت ان کی ابو عبدالرحمن۔ یہ نسب ابن مندہ اور ابو نعیم تو بخاری سے نقل کیا ہے۔ اور ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ ان کا نام اذینہ بن معنر ہے پھر ابن عبدالبر نے ان کا نسب کنانہ تک پہنچایا جیسا کہ گذر چکا اور اس کے بعد انھوں نے کہا ہے کہ پہلا ہی قول زیادہ صحیح ہے۔ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ بعض لوگوںنے ان کو قبیلہ شنوہ سے بیان کیا ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ ابودائود طیالسی نے اپنیمسند میں سلام کہتے ابو الاحوص سے انھوں نے ابو اسحاق سے انھوں نیعبدالرحمن بن اذینہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے مگر اس قسم کا جانب خلاف اس سے بہتر ہو تو اسے چاہئے کہ اسی بات کو کرے جو بہتر ہو اور اپنیق سم کا کفارہ دے دے۔ اس حدیث کو سوا ابو الاحوص یعنی سلام بن سلیم کے اور کسی نے ابو اسحاق ۔۔۔
مزید