بدھ , 20 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 08 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) احوص (رضی اللہ عنہ)

  ابن سعود انصاری۔ محیصہ اور حویصہ فرزندان مسعود انصاری کے بیٹے ہیں ان کا نسب ان کے بھائیوں کے بیان میں آئے گا یہ احد میں اور تمام ان غزوات میں جو احد کے بعد ہوئے شریک تھے۔ ان کا تذکرہ ابن دباغ اندسلی نے عدوی سے نقل کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احنف (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس۔ احنف سے (ان کا لقب ہے احنف کے معنی وہ شخص جس کے پیر میں کجی ہو) ان کے پیر میں کچھ کجی تھی۔ ان کا نام ضحاک ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام صحر بن معاویہ بن حصین بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید بن حارث بن عمرو بن کعب بن زید مناۃ بن تمیم ہے۔ کنیت ان کی ابو بحر۔ تمیمی سعدی۔ انھوں نے نبی ﷺ کازمانہ پایا تھا مگر آپ کو دیکھا نہیں۔ اور چونکہ نبی ﷺ نے انھیں دعا دی تھی اس وجہ سے لوگوںنے ان کا تذکرہ (صحابہ میں) کیا ہے ان کی والدہ قبیلہ باہلہ کی ایک ختون ہیں۔ ہم سے ابو الفرح یحیی بن محمود بن سعد ثقفی نے اجازۃ اپنی اسناد سے ابن ابی عاصم تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمس ے محمد بن مثنی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں حجاج نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے ابن سلمہ نے علی بن زید سے انھوںنے حسن (بصری) سے انھوں نے حضرت احنف بن قیس سے نقل کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے اس حالت میں کہ ین حضرت عچمان کے زمانہ خ۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن معاویہ بن سلیم بن لای بن صریم بن حارث۔ اور حارث کا نام مفاعس بن عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم۔ کنیت ان کی ابو شعبل۔ نبی ﷺ نے ان کے لئے اور ان کے بیٹے کے لئے ایک پروانہ امان کا لکھ دیا تھااور یہ قبیلہ بنی تمیم کے وفد تھے ان کے نام میںاختلاف ہے۔ ابو الفتح ازدی کہتے ہیں ان کا نام مرہ ہے ان کا شمار کوفیوں میں ہے ان کی حدیث ان کی اولاد کے پاس ہے اس کی رویات محمد بن عمر بن حفص بن سکن بن سواء بن شعبل بن احمر بن معاویہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ احمر نبی ﷺ کے پاس گئے اور وہ بنی تمیم کے وفد تھے تو نبی ﷺ نے ان کے اور ان کے بیٹے شعبل کے لئر پروانہ لکھ دیا تھا۔ ان کی کنیت ابو شعبل (زیادہ مشہور۹ ہے (آپ نے اس پروانے میں یہ لکھ دیا تھا کہ) یہ تحریر ہے احمر بن معاویہ کے لئے اور شعبل بن احمر کے لئے ان کے مکانات اور مالوںکی حفاظت کے بابت جو شخص ان کو تکلیف دے اللہ کاذم۔۔۔

مزید

سیدنا) اخمر (رضی اللہ عنہ)

  ابن قطن ہمدانی فتح مصر میں شریک تھے بعض لوگ ان کو صحاب کہتے ہیں اس کو امیر ابو نصر ابن ماکو لانے ابن یونس سے نقل کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر (رضی اللہ عنہ)

  (ان کی کنیت) ابو عسیب نبی ﷺ کے غلام ہیں۔ ان سے عمران جونی اور حازم بن قاسم نے روایت کی ہے ان کے نام میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ یزید بن ہارون نے ابو نصیرہ مسلم بن عبید سے انھوں نے ابو عسیب مولی رسول خدا ﷺ سے انھوں نے رسول خدا ﷺ سے رویات کی ہے کہ آپ نے فرمایا جبریل میرے پاس بخار اور طاعون لے کے آئے تو میں نے بخار کو مدینہ میں روک لیا اور طعاون کو شام بھیج دیا اور وہ میری امت کے لء رحمت ہے اور کافروںکے لئے عذاب ہے ان کا تذکرہ تینوں نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر (رضی اللہ عنہ)

  ابن سواء ابن عدی بن مرہ ابن حمران بن عوف بن عمرو بن حارث سدوس سدوسی۔ انکا شماراہل کوفہ میں ہے ان سے صرف ایاد بن لقیط رویت کرتے ہیں۔ ابن مندہ نے اپنی اسناد کے ساتھ حسن بن محمد بن علی ازدی سے رویت کی ہے۔ انھوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا انھوں نے کہا م سے علاد بن منہال نے ایاد بن لقیط سے انھوں نے حضرت احمر بن سواء سدوسی سے نقل کر کے بیان  کیا کہ ان کے پاس ایک بت تھا جس کی پرستش کیا کرتے تھے پھر اسے لے کر انھوں نے کنویں یں ڈال دیا بعد اس کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے بیعت کر لی۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان کی حدیث اس سند سے غریب ہے اور علاء بن منہال کوفی ہیں وہی ان کی حدیثوں کو جمع کرتے ہیں انھوں نے اس حدیث کو اسی سند سے لکھا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلیم اور بعض لوگ کہتے ہیں سلیم بن احمر انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے ور ان سے یزید بن شخیر نے روایت کی ہے اس کو ابن مندہ نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر (رضی اللہ عنہ)

  حضرت (ام المومنین۹ ام سلمہ کے غلامہیں۔ جنادہ بن مغلس نے شریک سے انوھں نے عمران نخلی سے انھوں نے احمر مولی ام سلمہ سے روایت کی وہ کہتے  ہیں ایک جہاد میں نبی ﷺ کے مراہ تھا (اس سفر میں) ہم لوگوںکا گذر ایک وادی پر یا (یہ کہا کہ) ایکنہر پر ہوا تو میں لوگوںکو (اپنی پشت پر سوار کر کے) پار اتارنے لگا نبی ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا کہ تم نے تو آجکشتی (٭یعنی جس طرح کشتی کے ذریعے سے لوگ دریا کے ار اتر جاتے ہیں اسی طرح تمہارے ذریعے سے لوگ پار پہنچ گئے) کا کام دیا یہ حدیث جسارہ کی روایت سے مشہور ہے اور دوسرے لوگوںنے شریک سے روایت کر کے اس کی مخالفت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ ور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) احمر (رضی الہ عنہ)

  ابن جزمی بن شہابن جزء بن ثعلبہ بن زید بن مالک بن سنان ربعی سدوسنی اس کو ابن مندہ اور ابو نعیم نے بخاری سے نقل کیا ہے اور ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ (ان کا نسب یوں ہے) احمر بن جزی بن معاویہ بن سلیمان حارث سدوسی کے مولی ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ دارقطنی نے بیان کیا جزمی میں جیم اور زے کو کسرہ ہے۔ میں کہتا ہوں ان سے صرف حسن بصری نے روایت کی ہے۔ ہمیں ابو الفضل منصور بن ابو الحسن مخزومی نے اپنی سندکے ساتھ ابو یعلی احمد بن علی مثنی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو موسینے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے عبدلرحمن بن مہدی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عباد بن عاشد نے خبردی وہ کہتے تھے میں نے حسن بصریس ے سنا وہ کہت یتھے ہمس ے رسول خدا ﷺ کے صحابی احمر نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم لوگ رسول خدا ﷺ کے بیٹھنیکے لئے اس قدر جگہ چھوڑ دیا کرتے تھے جس میں آپ کے دونوں کہنیاں دونوں پہلوئوں سے جدا رہیں (یعنی بفراغت بیٹھ س۔۔۔

مزید

سیدنا) احمد (رضی اللہ عنہ)

  ابن حفض بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کنیت ان کی ابو عمرو مخزومی۔ یہ چچازاد بھائی ہیں حضرت خالد بن ولید کے اور ابوجہل بن ہشام کے ور خثیمہ بنت ہاشم بن مغیرہ کے جو حضرت عمر بن خطاب رضیاللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ (اس رشتے سے یہ حضرت عمر رضیاللہ عنہ کے چچیرے ماموں ہوئے) ابو عبدالرحمن نسائی نے ابراہیم بن یعقوب جو زجانی سے نقل کیا ہے کہ انھوںنے ابو ہشام مخزومی سے جو نبی مخزوم کے نسب کے بڑے عالم تھے ابو عمرو بن حفص کا نام پوچھا انھوں نے کہا احمد اور ان کی والدہ درہ بنت خزاعی بن حارث بن حویرث ثقفی ہیں۔ علی بن رباح نے ناشزہ بن سمی یزنی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جابیہ (٭جابیہ ایک شہر ہے ملک شام میں اضلاع دمشق سے) والے دن خطبے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اے مسلمانو) میں تم سے خالد بن ولید کی بابت عذر خواہی کرتا ہوں میں نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ یہ ۔۔۔

مزید