ابن خلاد بن سوید قبیلہ خزرج کے ہیں یہ چھوٹی عمر میں نبی ﷺ کے پاس لائے گئے تھے۔ محمد بن اسحاق نے رویت کی ہے عبداللہ بن ابی لبید سے انھوں نے مطلب بن عبداللہ بن خطب سے انھوں نے ابراہیم بن خلاد بن سوید اشہلی سے کہ انھوں نے کہا جبریل نبی ﷺ کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ اے محمد آپ بکثرت حج اور قربانی کیا کیجئے میں کہتا ہوں کہ حافظ ابو نعیم نے بیان کیا ہے کہ یہ خزرجی (یعنی قبیلہ خزرج کے) ہیں اور ابن مندہ نے س حدیث کی اسناد میں ان کو اشہلی قرار دیا ہے حالانکہ یہ دونوں متناقض ہیں کیوں کہ اشہل جب بولا جاتا ہے تو عبد الاشہل کی طرف منسوب ہوتا ہے جو اس کا ایک مشہور قبیلہ ہے وہ خزرج میں سے نہیں ہے ہاں اگر انھوںنے ان کی نسبت عبدالاشہل بن دینار بن حارثہ بن دینار بن نجار کی طرف مراد لی ہو و یہ دوست جو کیوں کہ نجار خزرج کا ایک قبیلہ ہے مگر جب اشہلی بولا جاتا ہے تو اس سے پہلا ہی سمجھا جاتا ہے واللہ ا۔۔۔
مزید
ابن حارث بن خالد بن صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن یتم بن مرہ یتمی قریشی۔ (امام) بخاری کہتے ہیں کہ یہ ان لوگں میں ہیں جنھوں نے اپنے والد کے ہمراہ ہجرت کی اور (امام) احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ انھوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے والد مہاجرین میں سے تھے ابن عینیہ نے محمد بن منکدر سے انھوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے کہا ہمیں رسول خدا ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا اور ہمیں رسول خدا ﷺ نے حکم دیا کہ ہر شام اور صبح کو یہ پڑھ لیا کریں افحسبتم انما خلقناکم عبثا و انکم الینا لاترجعون چنانچہ ہم اس کو پڑھتے رہے ور مال غنیمت لے کر واپس آئے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو اسمعیل قبیلہ اشہل کے ہیں ان کی حدیث اسحاق فروی نے ابو غصن یعنی ثابت سے انھوں نے اسمعیل بن ابراہیم اشہلی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے کہا نبی ﷺ بنی سلمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہم ہے (یعنی ابراہیم اشہلی کوئی صحابی نہیں ہیں) ان کا تذکرہ ابن مندہ نے اور ابو نعیم نے لکھا ہے فروہ کی رے ساکن ہے اور سلمہ کا لام مکسور ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔
مزید
آں روندہ قدم بہ قدم رسول ، بہ نظر عنایت حق منظور و مقبول، دروشیوۂ فقرو فنا، یگانۂ روزگار در زہد وریاضت ہمتائےمشائخ کبار، واقف اسرار خفی وجلی مخفی از چشم اغیار حضرت شیخ محمد علی قدس سرہٗ اس کاتب حروف کے والد اور حضرت قطب المشائخ شیخ اللہ بخش کے چھوٹے بیٹے تھے۔ آپکو خلافت حضرت شیخ سوندہا قدس سرہٗ سے حاصل ہوئی تھی۔ زہد وریاضت اور تجرید وتوکل میں آپکا قدم بہت مضبوط تھا اور حضرت شیخ آپکو اپنے تمام اصحاب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ جب انکو دیکھتے تو تعظیماً کھڑے ہونے کا ارادہ کرتے تھے۔ اور جب تک آپ کے اندر کھڑا ہونے کی طاقت رہی۔ انکی تعظیم کیلئے کھڑے ہوجاتے تھے۔ میرے والد بھی اپنے والد ماجد کی طرح اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کیا کرتے تھے اور آپ کے باطنی کمالات سے ظاہر بیس لوگ واقف نہیں تھے۔ اَوْلَائی تَحْتَ قَبَائی لاَا یَعْرفۃھْم غی۔۔۔
مزید
آں متخلی از رسوم وعادات، متجلی بانوار وحدت، تاریک جمیع مرادات، مستغرقِ در مشاہدۂ ذات، در صفت ملکی گزشتہ از جبرائیل حضرت شیخ اللہ بخش بن اسمعٰیل قدس سرہٗ تمام کمالات ظاہری وباطنی سے مزین اور ریاضت ومجاہدات سے آراستہ تھے۔ آپ بڑے صاحب کشف و کر امات عالی ہمت اور سخی تھے۔ سید ایزاد بخش جو حضرت خواجہ مودود چشتی کی اولاد میں سے اور قصبۂ براس میں مقیم تھے فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بہت سے مشائخ دیکھے ہیں لیکن وہ کمالات ولایت جو میں نے آپ کے دادا میں دکھے ہیں کسی جگہ نہیں دیکھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے دادا امادر زاد ولی اور قط وقت تھے۔ روایت ہے کہ آپ ہر وقت خواہ دن ہو یا رات شغل باطن اور اوراد اور تلاوت میں بسر کرتے تھے۔ اور روزانہ ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ آپ اپنے آپکو بہت چھپاتے تھے۔ آپ بڑے درد مند اور صاحب ذوق وعرفان تھے۔ آپ نے اپ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ سوندہا کے اصحاب میں ایک شیخ عثمان کرنالی تھے۔ جو مادر زاد ولی تھے۔ اگر چہ وہ پہلے ہی سے کسی اور جگہ بیعت کر چکے تھے لیکن روحانی تربیت حضرت اقدس سے حاصل کی تھی۔ آپ کشف و کرامات میں بے نظیر اور ترک و تجرید میں یگانۂ روزگار تھے۔ آپ نے ساری عمر تقویٰ اور خلولت میں گذاردی اور اذکار ومشاغل کی وجہ سے مستفنی عن الناس ہوچکے تھے اور کسی شخص سے کوئی توقع نہیں رکھتے تھے۔ نقل ہے کہ ایک دفعہ کسی عالم نے آپ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ رات کو جب آپ نماز تہجد کے بعد شغل باطن میں مشغول ہوئے تو آپ کے سینہ مبارک سے دو صورتیں بر آمد ہوئیں اور ایک صورت نے دوسری صورت سے وہی مسئلہ دریافت کیا دوسری صورت نے اس سوال کے سات جواب دیدئیے۔ اسکے بعد وہ دونوں صورتیں آپ کے جسم میں گم ہوگئیں۔ دوسرے دن&nbs۔۔۔
مزید
آپ کے دوسرے اصحاب شیخ پیر محمد ساکن تھا نہ تھے جو بڑے مجاہدہ اور عبادت گذار تے۔ آپ فقر وفنا میں بے نظیر تھے اور آپ کے مجاہدہ کا حال یہ ہے کہ آپ تجلی صمدیت سے مشرف ہوچکے تھے۔ اور چار سال تک آپ نے آرام نہ کیا اور نہ کچھ کھایا پیا۔ اور نہ ہی آپ کو بول براز کی حاجت ہوئی۔ یاد رہے کہ تجلئ صمدیت وہ مقام ہے جہاں کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ نے اس تجلی میں انتقال فرمایا اور قصبۂ بہوہر میں دفن ہوئے۔ آپکی وفات کے بعد حضرت شیخ سوندہا بے حد مغموم تھے۔ ایک رات نماز تہجد کے بعدآپ شغل باطن میں مشغول تھے کہ شیخ پیر محمد کی روحانیت ظاہر ہوئی اور کہا کہ اگر آپ میری مفارفت میں بے چین ہیں تو میں دنیا میں واپس آتا ہوں آپ نے پوچھا کہ کس طرح واپس آؤگے۔ انہوں نے جواب دیا کہ حق تعالیٰ نے مجھے دنیا اور عقبیٰ میں رہنے کا اختیار دیدیا ہے۔ ا۔۔۔
مزید
آں کلید مخزن ذوالجلال، متصرف ہمہ اسماء وافعال، مبداء عروجش منتہاء عرش عظیم، م رجع نزولش انا احمد بلامیم، ہادئ سالکان صرط مستقیم، قتیل خجزِ رضا وتسلیم، از مستی شیراب عشق ہوشیار، در بزم یک رنگی ہمکنار دلدار، دربطن ام بہ واحدانیت حق موقن (یقن کرنے والا) قطب افراد حضرت شیخ سوندہا ابن عبدالمون قدس سرہٗ، آپکا شمار محتشمان بارگاہِ کبریا اور محبوبان درگاہ مولا میں ہوتا ہے۔ تربیت مریدین میں آپ ایسے صفت اکسیر اعظم کے مالک تے تھوڑی سی توجہ سے تا بنے کو سونا بنادیتے تھے۔ اور ایک رنگی کے بوتے میں ڈال دیتے تھے۔ آپ بوتان ہدایت کے ایسے خوشبو دار پھول تھے کہ جسکی ولایت کی مہک سے طالبان راہِ خدا کے دماغ معطر ہوجاتے تھے۔ واصل مرتبۂ جاں گدازری خواجہ حافظ شیرازی کا یہ شعر آپ پر صادق آتا ہے؎ یارب ایں نوگل خنداں کہ نمودی بہ منش (یا الٰہی تونے یہ۔۔۔
مزید
حضرت اقدس کے پانچویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالقادر ساکن قصبہ سنور تھے۔ جہاں آپکا مزار ہے۔ آپکے حالات راقم الحروف کو م علوم نہیں ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ انکے علاوہ حضرت شیخ داؤد کے بہت سے خلفا ہیں۔ جن سے خلق خدا کو فیض تربیت حاصل ہوا۔ لیکن ان سب کے حالالت اس مختصر کتاب میں گنجائز نہیں ہے۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد ٍوَالہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۔ ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد (قتباس الانوار) ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ داؤد کے چوتھے خلیفہ حضرت شیخ ابو المعالی ساکن اینبٹھ ہیں جو سہارنپور کے نواح میں واقع ہے کہتے ہیں کہ آپکی بیعت حضرت شیخ محمد صادق گنگوہی سے تھی اور تربیت وخلافت حضرت شیخ داؤد سے حاصل کی۔ آپکو وجد و سماع میں غلو تھا اور ریاضت ومجاہدہ میں بلند ہمت، فقرو فنامیں یگانۂ روزگار، خُلق وتواضع میں عدیم المثال اور عشق مجازی اور حقیقی میں بے نظیر تھے۔ آپ حسن مجازیکے شیدائی تھے۔ آپکی عمر طویل تھی اور ساری عمر آپ نے ذکر جہر اور استغراق باطن میں گذاردی۔ ایکدفعہ کا ذکر ہے کہ گنے کی فصل کے دوران آپ رات کے وقت تہجد پڑھ گڑ کے کڑاہا کے قریب بیٹھے تھے لوگ کڑاہامیں شیرہ ڈال کر گڑ بنارہے تھے اور شیرہ آگ کی تیزی سے جوش مار رہا تھا کہ آپ نے کسی سے ہندی زبان میں گیب سُنا؎ تو چلتا جا اکتارا تیری کھری نہ لاگی کارا آدھی رات ۔۔۔
مزید