بدھ , 20 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 08 April,2026

پسنديدہ شخصيات

خواجہ مبارک رحمۃ اللہ علیہ

  صوفی با صفا۔ زاہد با وفا۔ شیخ مبارک گوپا موی رحمۃ اللہ علیہ بذل و ایثار اور امر المعروف و نہی عن المنکر میں تمام یاران اعلی میں مشہور تھے آپ  کو امیر داد بھی کہا جاتا تھا سینۂ مصفا اور ہئیت دلکشا رکھتے تھے آپ جمال ولایت پیر کے عاشق اور جناب سلطان المشائخ کے سابق مریدوں میں سے تھے سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز نے پورے سو رقعے اپنے خط  مبارک سے مزین و آراستہ کر کے اور  طرح طرح کے کرم و بخشش کا اظہار کر کے آپ کی طرف بھیجے ہیں۔ جب یارانِ اودھ جیسے مولانا شمس الدین یحییٰ اور شیخ نصیر الدین محمود اور مولانا علاؤ الدین نیلی اور دوسرے عزیز  سلطان المشائخ کی خدمت واپس جاتے تو ان کی نسبت حضور کی درگاہ سے حکم صادر ہوتا کہ جب تم گو پاؤ میں پہنچو تو خواجہ مبارک سے ضرور ملنا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کاتب حروف شیخ نصیر الدین محمود کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں خواجہ مبارک تشر۔۔۔

مزید

مولانا بہاؤ الدّین علیہ الرحمۃ

  عابد اہل طریقت۔ افضل اہل حقیقت مولانا بہاؤ الملۃ والدین ادہمی رحمۃ اللہ علیہ کو اس زمانہ کے لوگ دار الامانی بھی کہتے تھے علم میں کافی حصہ رکھتے تھے اور تقوی کامل سے آراستہ تھے۔ دنیائے غدار میں بہت دن تک زندہ رہے اگرچہ آپ عالمانہ تزک و احتشام رکھتے تھے لیکن حقیقت میں اہل تصوف کی صفت سے موصوف تھے جب آپ اپنے قدیم وطن ملتان سے شہر دہلی میں تشریف لائے تو سلطان المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک ہوئے اور  صرف جناب سلطان المشائخ کی محبت و عشق کی وجہ سے شہر میں سکونت اختیار کی۔ اس کے بعد آپ کا ہمیشہ یہ دستور رہا کہ جب سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو دن کو وہاں رہتے اور شب  کو کاتب حروف کے والد بزرگوار کے مکان پر رونق افروز ہوتے اور وہیں سوتے۔ آپ انتہا درجہ کے تقوی و ورع کے سبب ہر روز غسل کرتے اور ترک و تجرید میں انتہا سے زیادہ  کوشش کرتے۔ آخر الامر چند روز بیمار رہ کر کر ا۔۔۔

مزید

قاضی شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ

  قاضی شرف الدین مولانا حسام الدین ملتانی کے یار تھے جو سلف کی سیرت و صورت رکھتے اور فخر خلف تھے آپ کو قاضی شرف الدین فیروز گہی بھی کہتے تھے۔ آپ وفور علم اور زہد و تقوی کے ساتھ آراستہ اور ترک تکلف سے پیراستہ تھے قرآن مجید کے حافظ اور درگاہ سبحانی کے عاشق تھے۔ اگر کوئی شخص آپ کو دیکھتا تو بے ساختہ بول اٹھتا کہ یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے جو اس ہئیت سے زمین پر چلتا ہے یہ بزرگوار علوم کا کافی حصہ رکھتے اور فضل و بزرگی میں ایک آیت تھے۔ کاتب حروف نے دیوانِ احسن حسن بزرگ کے سامنے رکھا ہے ار اس کے دقائق و حقائق دریافت کیے ہیں۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے گھر کی ضروری اور مایحتاج چیزیں مثلاً غلہ لکڑی وغیرہ خود اٹھا کر گھر میں لاتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کھچڑی اور لکڑیاں ہاتھ میں لیے ہوئے رستہ میں چلے آ رہے تھے کہ سامنے سے قاضی کمال الدین صدر جہان مرحوم نے آپ کو دیکھا باوجود اس کروفر اور حشمت و شوکت ۔۔۔

مزید

امیر حسین سنجری رحمۃ اللہ علیہ

  فضلاء کے ملک و الملوک لطافت طبع میں دریا امیر حسین علاء سنجری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کی جگر سوز غزلیات عاشقوں کے دلوں کی چقماق سے محبت کی آگ نکالتی تھیں اور دلپذیر اشعار سخنوروں کے دلوں کو راحت پہنچاتے تھے۔ آپ کے روح افزا لطائف اہل ذوق کا مایہ تھا اور آپ کا کلام شیخ سعدی کی چاشتی رکھتا تھا چنانچہ آپ نے ایک بیت اسی بارہ میں کہی ہے فرماتے ہیں۔ حسن گلے ز گلستان سعدی آور دہ است کہ اھل معنی گلچین آن گلستان اند (حسن یہ پھول گلستان سعدی سے لائے ہیں کہ اہل معنی اسی گلستان کے گلچین ہیں۔) مولانا حسن ہمیشہ نامدار شاعروں میں نہایت وقعت و عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور کوئی شخص لطیفہ اور نظم بالبداہتہ آپ سے بہتر نہ کہہ سکتا تھا اس عہد کے بادشاہ اور  شہزادے آپ کے لطائف و ظرائف گوش ہوش سے سننے کی رغبت رکھتے تھے اور ان تمام سعادتوں کے حصول کا سبب یہ تھا کہ آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک ۔۔۔

مزید

خواجہ کریم الدین سمر  قندی رحمۃ اللہ علیہ

  صورت صفا سیرت وفا خواجہ کریم الملۃ والدین سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو مکارم اخلاق میں دنیا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ کا ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف سے آراستہ تھا فضائل خاص اور علوم بے شمار  میں بے مثل تھے آپ کی فیاض طبیعت غایت درجہ کی لطافت اور  عقل کامل انتہا مرتبہ  کی فراست پر واقع ہوئی تھی اور یہ تمام باتیں حقیقت میں اس  کا ثمرہ تھا تھا کہ آپ سلطا المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک تھے اور اپنے صفائی اعتقاد  کی وجہ سے مخدوم جہان کی محبت میں نہایت راسخ قدم اور محکم تھے اور اس کے ساتھ ہی حضرت سلطان المشائخ کے ہمیشہ منظور نظر تھے یہاں تک کہ حضور کی بخشش و مہربانی آپ کے بارے میں حد درجہ تھی اور اس کا سبب یہ ہوا کہ آپ کے والد بزرگوار خواجہ کمال الملۃ والدین سمر قندی جو دولتِ خراسان کے وزیر اعظم تھے دیار ہندوستان میں تشریف لائے اور بادشاہ ہند  کی طرح ۔۔۔

مزید

مولانا جمال الدین رحمۃ اللہ علیہ

  مولانا جمال الدین کہ جمال زہاد۔ پیشوائے عباد سالک طریق و ورع و  تقویٰ۔ طالب وصلت مولی۔ مولانا جمال الملۃ والدین ہیں جو علوم ربانی میں مشغول اور مشاہدات جمال رحمانی میں اعلیٰ درجہ کے یاروں میں مشہور و معروف تھے۔ آپ کے باطن مبارک کی مشغولی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ سلطان المشائخ کی مجلس مبارک میں آپ اس درجہ مشغول ہوتے کہ اپنے آپ کی خبر نہ رکھتے تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ مولانا جمال الدین کے لیے ایک ایسا وقت ہوتا ہے جس میں وہ بجز حق تعالیٰ کے اور کسی کو یاد نہیں رکھتے سلطان المشائخ یارانِ اعلیٰ کی مشغولی کے بارے میں یہ بات مولانا جمال الدین کی بطور نظیر پیش کیا کرتے تھے اور مجلس مقدس میں اسی خطاب کے ساتھ مخاطب ہوتے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کے زمانہ حیات ہی میں جوار رحمت حق میں مل گئے تھے۔  رحمۃ اللہ علیہ۔ (سِیَر الاولیاء)   ۔۔۔

مزید

مولانا فصیح الدین رحمۃ اللہ علیہ

  مولانا فصیح الدین عالم علوم دینی صاحب اسرار یقینی کمال علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے آراستہ تھے آپ اکثر یاران اعلی سے ارادت و بیعت میں سابق و اول تھے اور سلطان المشائخ کی علمی مجلس میں اکثر سوالات علمی اور عالم حقیقت کے رموزات کا استکشاف کیا کرتے تھے اور  شافی جوابوں کے ساتھ مشرف ہوا کرتے تھے متعلمی کے زمانہ میں مولانا فصیح الدین اور مولانا قاضی محی الدین کا شانی دونوں ایک دوسرے کے بہت ساتھ رہے ہیں اور مولانا شمس الدین قوشچہ کی مجلس میں اعلیٰ طبقہ کے طلبا میں علم اصول فقہ کی تحقیق میں شاغل و مصروف رہ کر علماء کے جرگہ میں وفور علم اور ذکائے طبع میں مشہور و معروف تھے۔ جب فضل ربانی اور جذب رحمانی نے مولانا فصیح الدین کے دل میں ایک فوری جوش پیدا کیا تو آپ نے راہ حقیقت کو طے کرنا شروع کیا اور اس راہ میں نہایت کوشش کے ساتھ گام زن ہوئے اور علم کو عمل کے ساتھ مقرون کرنے کی خواہش دل میں ۔۔۔

مزید

مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ

    مولانا فخرالدین مروزی افضل زہاد زینت عباد مولانا فخر الملہ والدین جمال ورع اور کمال تقوی سے آراستہ تھے اور قطع نظر اس کے کلام ربانی کے حافظ تھے آپ سلطان المشائخ کے مصاحبان قدیم اور مریدان سابق میں شمار کیے جاتے تھے آخر عمر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں زندگی بسر کی اور غیاث پور تو طن اختیار کیا باوجود مبالغہ تقویٰ اور انتہا درجہ کی طہارت و تزکیہ کے ترک و تجرید میں بہت کوشش کی۔ آپ ہمیشہ کلام مجید کے لکھنے میں مصروف رہتے اور اختلاف خلق سے الگ زندگی بسر کرتے تھے عظمت و کرامت میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے اور مردانِ غیب سے ملاقات حاصل ت ھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کرنے لگے کہ ایک دن مجھ پر پیاس کا غلبہ ہوا اور میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا جس سے پانی مانگوں۔ دفعۃً پانی کا بھرا ہوا ایک کوزہ غیب سے پیدا ہوا۔ میں نے اس کوزہ کو فوراً۔۔۔

مزید

خواجہ ابو بکر مندہ رحمۃ اللہ علیہ

  پیشوائے اصحاب طریقت مقدم ارباب حقیقت خواجہ ابو بکر مندہ رحمۃ اللہ علیہ علم و زہد اور ورع و تقوی میں آراستہ اور سلف صالحین کی سیرت و صورت سے پیراستہ تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ خواجہ ابوبکر  مندہ سلطان المشائخ کے مصاحب قدیم تھے اور دونوں حضرات باہم ایک دوسرے کی صحبت میں بہت  رہے ہیں۔ ابھی سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم فریدالحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کی شرف خلافت سے ممتاز و  مشرف نہ ہوئے تھے کہ خواجہ ابوبکر مندہ نے آپ سے عرض کیا تھا کہ جب آپ شیخ شیوخ العالم شیخ کبیر کی سعادت خلافت سے مشرف ہوں گے میں آپ کی خدمت میں ارادت لاؤں گا اور حضور سے بیعت کروں گا چنانچہ جس وقت سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم کبیر کی دولت خلافت اور دوسری سعادتوں سے مشرف ہوئے اور شہر میں تشریف لائے تو ہر ایک شخص نے  چند روز کے بعد آپ سے بیعت ک۔۔۔

مزید

مولانا شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ

  کان ذوق مایۂ شوق زاہد با کمال عابد با جمال مولانا شہاب الملۃ والدین حضرت سلطان المشائخ کے امام ہیں۔ یہ بزرگوار بڑے پایہ کے شخص تھے اس سے زیادہ اور کون سی کرامت و عظمت ہوسکتی ہے کہ سلطان المشائخ کی امامت کے شرف سے مشرف ہوئے اور دن رات میں پانچ  وقت ایسے جلیل  القدر  بادشاہ کی سعادت بخش نظر کے منظور و ملحوظ ہوتے تھے جس کی نظر جان بخش کے محتاج تمام بادشاہانِ جہان تھے۔ جب مولانا شہاب الدین علیہ الرحمۃ سلطان المشائخ کی دولتِ ارادت سے مشرف ہوئے تو  حضور کا فرمان جاری ہوا کہ خواجہ نوح کو تعلیم و تربیت دینا شروع کریں (خواجہ  نوح کا ذکر سلطان المشائخ کے اقربا میں مذکور ہے) ایک چھوٹا سا حجرہ جماعت خانہ میں تھا آپ کے حوالہ  کیا گیا اور آپ جناب سلطان المشائخ کے یاروں اور خدمت گاروں میں پرورش پانے لگے۔ برسوں سے آپ کے دل میں یہ آرزو تھی کہ اگر کسی طرح ایک دفعہ سلطان ۔۔۔

مزید