علم و عشق جہانِ صدق زہدو ورع تقوی و طہارت میں معروف، کثرت گریہ کے ساتھ اعلیٰ یاروں میں موصوف و مشہور مولانا برہان الملۃ والدین غریب رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ایک عزیز کہتا ہے۔ غریب ست این بحب حق بدنیا حبیب اللہ فی الدنیا غریب (یہ محبّ حق دنیا میں غریب ہے اور حبیب دنیا میں غریب ہوا کرتا ہے۔) محبت و اعتقاد جو مولانا برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ سے رکھتے تھے کاتب حروف عرض کرتا ہے کہ جو اعتقاد و محبت مولانا برہان الدین کو سلطان المشائخ سے تھا۔ عجب اعتقاد تھا کہ مرتے دم تک اپنی پشت مبارک غیاث پور کی طرف کبھی نہیں کی۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو بڑے بڑے عزیزوں میں سے کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ آپ اعتقاد و محبت کی فہرست میں تمام یاروں سے ممتاز اور سب کے مقتدا مانے جاتے تھے اور بہت سے اعلیٰ درجہ کے یاروں سے ارادت میں سابق تھے۔ محبت و عشق کے گھائلوں اور زخمیوں کے لیے زود اثر ۔۔۔
مزید
ذات پسندیدہ تمام عزیزوں اور یاروں میں جیسے نور دیدہ عالم علوم سبحانی حافظ کلام ربانی بادشاہ عالم باز، علماء میں تقریر خوب کے ساتھ ممتاز مولانا علاؤ الدین نیلی رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ کے معزز خلیفہ تھے۔ آپ ایسے مقرر و فصیح تھے کہ بڑے بڑے زبر دست علماء آپ کی تقریر کے شیدائی تھے اور جب آپ کلام کرتے تھے تو تقریر کا جادو تمام حاضرین کو خود بخود اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ آپ اعلیٰ درجہ کے یاروں میں اعلیٰ سخن اور علم سلوک میں سب سے زیادہ ممتاز و نامور شمار کیے جاتے تھے اور کشاف و مفتاح کے غوامض بیان کرنے میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔ مولانا فرید الدین شافعی جو اودھ کے شیخ الاسلام تھے اور مروجہ علوم میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے ان کی مجلس میں آپ کشاف کی قرأت کرتے تھے اور مولانا شمس الدین یحییٰ اور علماء اودھ سامع تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ کو دیکھا ہے ظاہر می۔۔۔
مزید
عالم ربانی عاشق سبحانی مولانا فخر الملۃ والدین زرّادی قدس اللہ سرہ العزیز کثرتِ علم لطافتِ طبع شدت مجاہدہ ذوق مشاہدہ کے ساتھ مشہور اور انتہا درجہ کی ترک و تجرید اور کثرتِ گریہ میں اعلیٰ درجہ کے عزیزوں میں معروف تھے۔ آپ سلطان المشائخ کے نہایت اولولغرم اور ممتاز خلیفوں کی فہرست میں مندرج تھے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔ یہ بزرگوار عشق کے مجسم تصویر اور محبت الٰہی کے پورے فوٹو تھے۔ جو شخص آپ کی نصیبہ در پیشانی کو دیکھتا یقیناً معلوم کرلیتا کہ یہ بزرگ و اصلان درگاہ حق تعالیٰ میں سے ہیں۔ مولانا فخر الدین زرادی کے جناب سلطان المشائخ نظام الحق والدّین کی خدمت میں ارادت لانے کا بیان شیخ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ سے سنا گیا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس زمانہ میں میں شہر میں تعلیم پاتا تھا۔ مولانا فخر الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہدایہ پڑھتے تھے اور ساری مجلس میں ان دونوں شاگر۔۔۔
مزید
کانِ صفا معدنِ وفا ظاہر و باطن محبت و عشق سے آراستہ۔ عشق و محبت کے ذوق میں دنیا و عقبیٰ کی لذت سے دل برخاستہ موافقت دوست میں عزت باختہ شیخ قطب الدین منور ہیں (خدا تعالیٰ ان کی قبر کو انوار قدس سے منور و روشن کرے) شیخ قطب الدین منور نور اللہ مرقدہ کے اوصاف اور کثرتِ بُکا اور درونی ذوق و شوق آپ علم و عقل وفا و عشق ورع و بکا کے ساتھ موصوف و مشہور اور اسقاط تکلف کے ساتھ مخصوص تھے۔ غوغائے خلق کا مطلقاً خیال نہ رکھتے تھے اور اپنے آبا و اجداد کے اس گوشہ میں جہاں انہوں نے اپنی عزیز عمریں خدا کی محبت و عبادت میں صرف کی تھیں انتہائے عمر تک نہایت خوشی کے ساتھ بسر کردی اور کسی وقت کسی طرح دنیا اور اہل دنیا کی طرف میل نہیں کیا۔ جو کچھ غیب سے تھوڑا بہت پہنچتا تھا اسی پر قناعت کرتے کسی کے دینے لینے کی کبھی کچھ پروانہ کرتے کسی بزرگ نے کیا ہی اچھا کہا ہے۔ شیر نر بوسد بحرمت مرد قانع راقد۔۔۔
مزید
دریاے علم و زہادت کے چمکدار موتی اہل محبت و کرامت کے مقتدا ہیں۔ یہ ضعیف کہتا ہے۔ دریایٔ علم و گنج زھادت باتفاق اعنی کہ شمس ملت و دین در علوم طاق مولانا شمس الدین یحییٰ کا سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہونا اور مرید ہونا منقول ہے کہ مولانا شمس الدین اور مولانا صدر الدین ناولی دونوں خالہ زاد بھائی تھے اور تعلیم پانے کے زمانہ میں تعطیل کے دنوں میں کپڑے دھونے کے واسطے غیاث پور کے حوالی میں دریائے جون کے کنارے آیا کرتے تھے اس زمانہ میں سلطان المشائخ کی عظمت و کرامت کا آوازہ ان کے مبارک کان میں پہنچ گیا تھا کہ علما اور شہر کے امرا سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوکر زمین بوسی کیا کرتے اور اس دریا کی خاک بوسی کو سعادت و نیک بختی جانتے ہیں چونکہ یہ دونوں بزرگ ابتدائی زمانہ میں اہل تصوف کے چنداں معتقد نہ تھے اس لیے سلطان المشائخ کی ملاقات کا زیاد۔۔۔
مزید
سادات کرام کے شرف برگزیدہ مخلوق کے خلاصہ خاص و عام کے مقبول سید السادات منبع البرکات شمس الملۃ والدین سیدخاموش ابن سید محمد کرمانی کاتب حروف کے چھوٹے چچا ہیں جو علم و فضل اور فیاضی و سخاوت و لطافت طبع اور خاص و عام کو کھانا دینے میں بے مثل اور یگانہ روز گار تھے۔ آپ نے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی۔ اور مجلس خلوت میں سلطان المشائخ کے سامنے نظامی کا خمسہ نہایت خوش الحانی اور درد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص اور بے اندازہ جمال اور بے حد لطافت رکھتے تھے۔ یہ ضعیف عرض کرتا ہے۔ در زات مبارک تو پید است وصف تو حد بیان من نیست ھر جاکہ لطافتے است ای جان حسنِ تو بس است دلیل و برھان (تیری ذات مبارک سے جہان کہیں کہ لطافت اور خوبی ہے پیدا ہے۔ تیرے اوصاف کا بیان کرنا میری قدرت سے باہر ہے تیرا کمال ہی تیرے ۔۔۔
مزید
سید با صفا جگر گوشۂ مصطفے حسن و ملاحت کی کان لطافت و ظرافت کے سر چشمے دریاے پیغمبری کے چمکدار موتی قصر حیدری کے شب چراغ گوہر سید السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق والدین حسین ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے منجھلے چچا تھے یہ بزرگ علم و فضل و ایثار ظاہر و باطن کی طہارت اور لطافت طبع میں بے نظیر زمانہ تھے اور عقل کامل فراست وافر رکھتے تھے جب تک زندہ رہے مجردانہ زندگی بسر کی اور متعلقین و نیز تزویج کے تعلق سے مبرار ہے آپ نے سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی کی خدمت میں علوم دینی کی تحصیل کی اور ہمیشہ مکان کا دروازہ کھلا رکھا جو شخص چاہتا بلا تامل آپ کے مکان میں چلا آتا اور غریب الوطنوں اور حاجتمندوں اور شہر کے باشندوں کو آمد و رفت کرنے سے کوئی مانع و مزاحم نہ ہوتا کیونکہ آپ کے مکان پر کوئی چوبدار اور دربان مقرر نہ تھا حتی کہ لوگ اس مقام تک بڑی جرأت و دلیری سے چلے۔۔۔
مزید
سید با وقار سرور ساداتِ روزگار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے عم بزرگوار تھے اور مردی وجوانمردی میں حیدر ثانی۔ صدق وافر اور فراستِ کامل رکھتے اور درویشوں اور لشکری محتاجوں کو چاندی سونے کی کافی مقدار سِکّے دیتے اگرچہ یہ بزرگ گاؤں اور زمین کے مالک تھے اور طبل و علم برداری کا عہدہ رکھتے تھے لیکن باوجود ان علائق کے تمام تصوفی اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ عقل کامل رکھتے اور اپنے تمام کاموں کا انجام بمقتضایٔ عقل دیتے تے۔ امیر خسرو خوب فرماتے ہیں۔ کارے نکرد جز بکمالات علم و عقل گوئی کہ صد عمامہ بزیرِ کلاہ داشت سبحان اللہ عجب قوت رکھتے تھے کہ بجز صدق و راستی کے زبانِ مبارک پر کوئی بات جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ تمام فضائل اس تربیت و پرورش کا ثمرہ تھا جو آپ کو سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں حاصل ہوئی تھی۔ س۔۔۔
مزید
فخر زہاد جمال عباد خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابو بکر مصلّے دار خاص ہیں جو اپنے زمانہ میں علم و تقوی اور ورع و احتیاط میں لاثانی اور عدیم النظیر تھے۔ اور سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف سے مشرف و ممتاز تھے۔ اس بزرگ نے سلطان المشائخ کے چند ملفوظات ایک جگہ مرتب کر کے ایک دیوان میں جمع کیے ہیں اور ان کا نام مجموع الفوائد رکھا ہے۔ اس تالیف میں آپ نے اپنا نام عبد العزیز ابن ابو بکر خواہر زادہ سلطان المشائخ لکھا ہے۔ سبحان اللہ سالہا سال گزر گئے ہیں یہ عزیز الوجود شخص راہ طریقت پر سیدھا چل رہا ہے اور پچپن سے بڑھاپے تک کسی فرض نماز کی تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی ہے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ مسجدوں میں گشت لگاتے پھرتے اور جب تک اولی نہ پاتے نیت نہ باندھتے جب آپ عین عالم شباب میں قدم رکھا اور تعلیم و تعلم میں غلو کیا تو جو کچھ آپ حاصل کرتے تھے اسے عمل کے ساتھ مقرون کرتے تھے یعنی آپ کا۔۔۔
مزید
مولانا قاسم جو سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کے بھانجوں میں سے ایک نہایت نامور بلند اقبال شخص ہیں۔ خواجہ عمر کے صاحبزادے اور خواجہ ابو بکر کے بھتیجے ہیں جو لطائف التفسیر کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ تفسیر کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ رحمت پرور دگار کا امید وار بندہ قاسم جناب سید السالکین برہان العاشقین نظام الحق والدین کے حقیقی بھانجے کا فرزند عرض کرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اس فقیر پر اپنی عنایت سابقہ کی اور اس بیچارہ کو عدم کے پردہ سے عالم وجود میں لایا تو طرح طرح کی نعمتوں کے ساتھ مخصوص کیا جس میں سے بعض نعمتیں جو فلاح دارین کی موجب اور دین و دنیا کی سعادت کے باعث ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اس خاکسار کو سلطان المشائخ قطب الاقطاب عالم کی نظرِ مبارک میں ملحوظ رکھا اور آپ نے اپنے طرح طرح کے باطنی انفاس سے جو حقیقت میں غیب کی کان اور لاریبی علوم کے قرار کی جگہ۔۔۔
مزید