شیخ کمال بن شیخ کبیر ملامتی نے اپنے والد سے تربیت حاصل کی او رملا متیہ مشرف رکھتے تھے۔ بلکہ وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بیباک تھے۔ باپ کی وفات کے بعد وہ گجرات چلے گئے۔ وہاں حضرت شاہ محبوب عالم اُن سے عزت واحترام سےپیش آئے۔ جس سے انکی شہرت میں اضافہ ہوا۔شیخ کمال کا مزار احمد آباد میں ہے۔ دیوار کا چلنا مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ ایک دن حضرت شیخ احمد عبدالحق حجرہ کی دیوار بنارہے تھے خود دیوار پر یتھے تھے اور مرید کام کر رہے تھے۔ اس اثنا میں یخ جمالگوجرہ ایک گھوڑی پر سوار ہوکر وہاں تیزی سے پ ہنچے۔ اور کہنے لگے کہ آیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ دیوار چلنے لگے۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ کیا مشکل ہے یہ کہنا تھا کہ دیوار چل پڑی۔ آپ نے فرمایا جمال آؤ۔ لیکن شیخ جمال کی گھوڑی وہیں رُک گئی۔ شیخ جمال نے جتنے تازیانے لگائے گھوڑی اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھی۔ اس سے شیخ جمال بہت ناد۔۔۔
مزید
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ کبیر نے شروع میں مخدوم شیخ تقی بن رمضان حائک سہروردی کےمرید ہوئے جنکا مزار قصبہ جھونسی میں ہے جوالہ آباد سے متصل ہے۔ اسکے بعد وہ رامانند بیراگی کی صحبت میں چلے گئے اور کافی ریاضت ومجاہدہ کے بعد جب ان پر توحید کا غلبہ ہوا تو ظاہری آداب چھوڑ کر بے ریا موحد کہتے ہیں۔ آپکا مسلک رندانہ ملا متیہ تھا۔ آخر انہوں نے خرقہ خلافت سلسلۂ فردوسیہ میں حضرت مخدوم بھیکہ سے حاصل کیا۔ شیخ کبیر کا طریق صلح کل تھا۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے ک ہ شیخ کبیر اگر چہ نشاج (روئی دھننے والے) تھے لیکن زبان ہندی میں توحید کے موضوع پر انہوں نے بہت شعر کہے ہیں۔ مسلمان آپکو مسلمان اور کافر آپکو کافر کہتے تھے۔ لیکن ؟آپ نے جواب دیا کہ اگر مجھے پاسکو تو۔ چنانچہ آپنے حجرہ کا دروازہ بند کردیا اور رحلت کر گئے۔ جب دروازہ کھولا گیا تو چند پھولوں کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔ لی۔۔۔
مزید
یہ شیخ جمال گوجرہ جو شیخ اولیا بھی کہلاتے ہیں شیخ مظفر بلخی کے خلیفہ ہیں۔ اور آپ شیخ شرف الدین یحییٰ منبری قدس سرہٗ کے خلیفہ ہیں۔ جنکا سلسلہ پانچ واسطوں سے حضرت شیخ نجم ا لدین کبریٰ قدس سرہٗ تک جا ملتا ہے شیخ جمال گوجرہ کو حضرت مخدوم احمد عبد الحق قدس سرہٗ سے فیض ملا ہے۔ آپکا مزار اودھ میں آج تک خلقت کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ شیخ کبیر حائک ملامتی مخدوم شیخ بھیکہ کے خلیفہ تھے۔ اور شیخ بھیکہ شیخ جمال گوجرہ کے خلیفہ تھے۔ شیخ بھیکہ کا مزار شہر اودھ سے چار کوس دور موضع ملہری میں واقعہ ہے۔ شیخ جمال گوجرہ سلسلہ کبرویہ ردوسیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ شیخ نور کے چھوٹے صاحبزادے، بڑے سخی اور بزرگ تھے، بکریاں خرید کر ان کو پالتے،جب وہ خوب فربہ اور موٹی تازہ ہوجاتیں تو ذبح کر کے فقیروں کو کھلادیتے تھے اور اس میں سے خود کچھ بھی نہ کھاتے، شیخ حسام الدین اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ مخدوم زادہ شیخ انور سے میں نے ایک دن پوچھا کہ عشق کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جو لوگ آنکھوں والے ہیں وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں کہ دوست یا خیال دوست یا پیام دوست آرہا ہے، فی الواقع آنکھوں والے یہی لوگ ہیں وگرنہ وہ اپنی آنکھوں کو کس لیے کھولتے ہیں۔ دل سرد ہے اپنی لو لگادے اے شمعِ جمالِ مصطفائی صلی اللہ علیہ وسلم آنکھون میں چمک کے دل میں آجا اے شمعِ جمال مصطفائی حدائقِ بخشش اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آمدم برسر مطلب۔ جب حضرت شیخ احمد عبدالحق قبر سے باہر آئے تو حاجت مند لوگ روٹی کو گھی سے تر کر کے اور اس پر کچھ شکر رکھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ آپ اس میں سے قدرے تناول فرماتے تھے اور باقی حاضرین مجلس میں تقسیم کردیتے تھے اور یہ بھی فرماتے تھے کہ جو شخص ہمارا توشہ ہماری اجازت کے بغیر کھائیگا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ یہ سنت آج تک جاری ہے اور حضرت اقدس کےجانشینوں اور مریدین کی اجازت کے بغیر کوئی شخص نانِ توشہ نہیں کھاتا۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ احمد عبدالحق کا توشہ نذر کرنے سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ بہت مجرب ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ مقصد حاصل ہونے سے پہلےنذر ادا کی جائے اگر بعد میں دی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ توشہ دینے کا طریقہ توشہ تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پانچ پاؤ ارد گندم، پانچ چھٹانک سفید شکر، پانچ چھٹانک ۔۔۔
مزید
آپ شیخ نورالدین قطبِ عالم کے بڑے صاحبزادے تھے آپ بڑے منکسر المزاج اور صاحب حال بزرگ تھے، شیخ حسام الدین مانک پوری شیخ رفقۃ الدین کو یہ مقولہ نقل کیا کرتے تھے کہ ’’واللہ میں ایک بازاری کتے سے بھی بدتر ہوں۔‘‘ ایک دفعہ میں (مولٔف اخبار الاخیار)نے یہ واقعہ اپنے والد بزرگوار سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے بھی اپنی تمام عمر اسی کلمہ کے موافق گزاری ہے اللہ تعالیٰ ان پر اور عارِف باللہ لوگوں پر اپنی رحمتیں فرمائے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ کا مزار شہر کے مشرق کی طرف نزدیک محل رانی ہے۔ جو شخص آپ کے مزار سے کوئی اینٹ اٹھاکر لے جاتا ہے اسکی مراد فوراً حاصل ہوجاتی ہے۔ اور بعد میں اُس اینٹ کےہموزن شیرینی لاکر تقسیم کرتا ہے اور پھر اینٹ کو جہاں سےاٹھایا تھا وہاں رکھدیتا ہے۔ انکے علاوہ تین خلفاء کے مزارات شہر پانی پت کے اندر محلہ قضات میں ہیں۔ ان حضرات کے علاوہ راقم الحروف کو آپکے دیگر خلفاء کے اسمائے گرامی کہیں سے معلوم نہیں ہوسکے۔ وصال مراۃا لاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ جلال الدینکا وصال بتاریخ ۱۶؍ربیع الاول کو وقع پذیر ہوا۔ لیکن سن وصالکہیں نظر نہیں آیا لیکن آپ سلطان محمود بادشاہ دہلی کے ہمعصر تھے۔ سلطان محمود ابن سلطان فیروز شاہ بیس سال اور دو ماہ حکومت کر کے بتاریخ پنجم ماہ ذیقعد ۸۱۵ھ فوت ہوا۔ حضرت شیخ جلال الدین کا مزار مبارک پانی پت میں ھاجت روائے اخلائق ہے۔ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر ۱۷۰ سال س۔۔۔
مزید