آپ کےدیگر خلیفہ حضرت قاضی محمد اولیا ہیں۔ جنکا مزار سلطان پور میں ہے جوکرنال کے مصافات میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے ایک خلیفہ حضرت شیخ موسیٰ بہاری ہیں۔ جنکا مزار بہار میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے اور خلیفہ حضرت شیخ احمد قلندر ہیں۔ جن کا مزار قلعہ ملتان کی پشت پر ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپکے اور خلیفہ شیخ المشائخ حضرت شیخ زینا ہیں۔ جن کے دادا حضرت شیخ جلال الدین کے دادا کے ہمراہ گازرون سے آئے تھےاور باغباتی کرتے تھے۔ آپ کا مزار قصبہ کے اندری ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے اور خلیفہ آپ کے فرزند کلاں حضرت خواجہ عبدالقادر ہیں۔ جنکا مزار حضرت سید محمود کے روضہ کے متصل ہے آپ کے دیگر فرزند خواجہ ابراہیم ہیں جو آپکے روضہ کے اندر بائیں جانب دفن ہیں۔ آپ کے اور فرزند حضرت خواجہ شبلی ہیں جو حضرت اقدس کے روضہ میں دائیں جانب دفن ہیں۔ آپ کے اور فرزند خواجہ کریم الدین ہیں جو اپنے بڑے بھائی خواجہ عبدالقادر کے مزار کے متصل دفن ہیں۔ آپکے اور فرزند حضرت خواجہ عبدالوحد ہیں حضرت شیخ کے روضہ سے باہر دروازہ کے پاس دفن ہیں۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے تیسرے خلیفہ کا اسم گرامی حضرت شیخ نظام الدین جو قصبہ سنام میں دفن ہیں۔ انہوں نے حضرت شیخ جلال الدین کی خدمت میں تیس سال رہ کر فیض حاصل کیا۔ اور خلافت کے بعد آپ کو سنام جانے کا حکم ملا۔ آپ حضرت شیخ جلال الدین کی زندگی میں فوت ہوئے۔ آپ کے مزار مقدس پر ایک مدت تک ایک شعلہنور مانند چراغ روشن رہا۔ اور ہر شخص نے اسکا مشاہدہ کیا۔ ایک دفعہ جب حضرت شیخ جلال الدین کسی تقریب کے سلسلہ میں وہاں تشریف لےگئے اور قبر پر فاتحہ پڑھا اور شعلہ نور کا مشاہدہ فرمایا تو شیخ نظام کی روح سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے شیخ نظام الدین تمہارے کمال میں کوئی شک نہیں ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ نور جو تمہاری قبر پر ظاہر ہے قبر کے اندر ہونا چاہئے اور خلق خدا سے پوشیدہ ہونا چاہئے تاکہ ادب شریعت بحال رہے اگر نور کا ہمیشہ ظاہر ہونا ضروری ہوتا تو حضرت رسالت پناہﷺ کے روضہ اقدس پر بھی ہوتا۔ یہ بات کہتے ۔۔۔
مزید
جن سے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو بڑی استقامت حاصل ہوئی آپکا ذکر اسکے فوراً بعد آرہا ہے۔ آپ کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ بہرام ہیں جنکا مزار قصبہ بیڈولی میں ہے۔ پہلے آپ حضرت شیخ کی اجازت سے قصبہ برناوہ میں رہتے تھے۔ جب دریائےجنا کا رُخ پنڈولی کی طرف ہوا تو لوگوں نے خوف زدہ ہوکر حضرت شیخ جلال الدین کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور وہاں تشریف لے چلیں تاکہ آپکے قدموں کی برکت سے دریا سے امان ملے۔ حضرت اقدس شیخ بہرام کو خط لکھ کر یہ معاملہ انکےسپرد کردیا اور فرمایا یہ فقیر وہاں جا سکتا ہے۔ تم برنا وہ چلو اور شیخ بہرام کو لے جاکر وہیں اسکی سکونت کراؤ۔ تم کو اس مصیبت سے نجات حاصل ہوگی۔ چنانچہ ان لوگون نے وہ خط شیخ بہرام کو دیا۔ شیخ بہرام نے خط پڑھتے ہی فوراً پنڈولی کی طرف روانہ ہوگئے۔ اور دریا کے کنارے پہنچ کر اپنا عصا زمین میںنصب کردیا۔ جس سے دریا چند دنوں کے اندر دو میل دور چلا گیا۔ اور آج ۔۔۔
مزید
آں غریق بحر وصال، آں بیرون از افہام رجال، آں منزہ از عوارض کیف و کم، ناظر جمال وھو معکم، ہمگی دلش مصبوغ بہ صبغۃ اللہ، جملگی روحش مشغوف، فثم وجہ اللہ جلیں مسند حق الیقین قطب اقلیم، حضرت شیخ جلال الدین قدس سرہٗ کا شمار اس طائفہ صوفیاء کے محبین اور محبوبین میں ہوتا ہے۔ آپ شان عظیم، طبع کریم، لطف عمیم اور حالت مستقیم کے مالک تھے۔ آپ نے اپنے اوپر اس قدر ریاضات ومجاہدات لازم کر رکھے تھے کہ شدت بھوک کی وجہ سے آپکا نفس امارہ جسم مبارک سے رخصت ہوچکا تھا۔ لیکن استقامت میں ذرا بھر فرق نہ آیا۔ آپ کشف و کرامات میں بےنظیر تھے۔ تربیت مریدین میں آپ ید طولیٰ رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ ایک نظر سے ساکنان ملک ناسوت (دنیا) کو مشاہدۂ ملک جبروت ولاہوت سے مشرف کراکر عالم بے رنگی (ذاتِ بحت) سے آشنا کرادیتے تھے۔ آپ حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی کے مرید وخلیفۂ جانشین ہیں۔ آپکا اسم شریف خواجہ محمد اور۔۔۔
مزید
آپ قریشی تھے، اور گوالیر میں رہتے تھے، سید محمد گیسودراز کے مرید اورخلیفہ تھے، ظاہری اور باطنی علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے، سیّد محمد گیسو دراز کو جب فراست سے آپ کے باطنی حالات معلوم ہوئے تو آپ کو ترک دنیا اور مخلوق سے جدا رہنے کا حکم دیا، چنانچہ آپ آخر وقت تک خلوت نشین رہے، اور مخلوق سے علیحدگی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے خادِم کو اس بات پر مامور کردیا تھا کہ وہ تمام گھر کا کچرا، کوڑا کرکٹ اکٹھا کرکے دروازے پر پھینک دیا کرتے تاکہ لوگوں کو یہاں آبادی کا وہم و گمان تک بھی نہ ہوسکے اور ان کے آنے سے شیخ کے اوقات خراب نہ ہونے پائیں محمد آباد عرف کالپی میں آپ کا مزار ہے جس کی زیارت کرکے لوگ برکت حاصل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آمین اخبار الاخیار۔۔۔
مزید