آپ قصبہ سرسی کے رہنے والے تھے خواجہ نظام الدین فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص جنید نامی غزل خواں تھا اس کی زبانی میں نے سنا کہ شیخ کرمانی نے ایک دن مجلس سماع میں ایک شعر سن کر ایک آہ کی اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ ورد میرا ہو تیر کلمۂ پاک جبکہ دُنیا سے ہو سفر یارب (قبلۂ بخشش) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
عالم یگانہ ، عارف کامل حضرت مولانا مفتی عطا محمد رتوی ابن حضرت مولانا مفتی امام الدین قدس سرہما ۱۳۰۱ھ/۴۔۱۸۸۳ء میں بمقام رتہ شریف(تحصیل چکوال ) میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد جید عالم دین صاحب حال بزرگ اور حضرت مولانا خواجہ غلا م نبی قدس سرہ ( للہ شریف ) کے خلیفۂ مجاز تھے ۔ مولانا مفتی عطا محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد والد ماجد سے سکندر نامہ تک فارسی کی کتابیں پڑھیں،بعدازاں کچھ دن موضع یوسف شاہ ( سرگودہا) اور کچھ دن بیربل شریف رہے پھر گوٹہ ضلع ملتان میں صرف وحو کے امام مولانا حافظ جمال اللہ (خلیفۂ مجاز حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تین سال کے عرسے میں متن متین اور قطبی تک کتابیں پڑ ھ لیں ، ازاں بعد استاذ محترم کی اجازت سے دہلی گئے اور کوچہ بلی ماراں میں قیام کیا ل یکن۔۔۔
مزید
آپ کا شمار بہت بڑے مشائخ میں سے ہے، آپ شیخ شہاب الدین سہروردی کے مرید تھے، سلطان قطب الدین بن علاؤ الدین خلجی آپ کے مرید اور خلیفہ تھے، منقول ہے کہ آپ کے انتقال کے تین روز بعد شیخ نظام الدین اولیاء آپ کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تو اس وقت سلطان قطب الدین خلجی بھی وہاں موجود تھے انہوں نے خواجہ نظام الدین کی نہ تعظیم کی اور نہ ہی سلام کا جواب دیا، شیخ نظام الدین سے منقول ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے شیخ ضیاء الدین رومی سے خود سنا ہے وہ فرمایا کرتے تھے میرے ایک دوست کو سماع کا بہت شوق تھا اور محفل سماع میں ان کو حال آیا کرتا تھا ان کے انتقال کے بعد میں نے ان کو دیکھا کہ انہیں جنت میں ایک بہت بلند مقام ملا ہے لیکن اس مقام اعلیٰ پر رسائی کے باوجود مغموم و پریشان بیٹھے ہیں، میں نے انہیں جنت مل جانے پر مبارکباد دی اور پوچھا کہ آپ مغموم کیوں ہیں، شیخ رومی نے فرمایا کہ مجھے یہ سب کچھ مل گیا ہےم۔۔۔
مزید
ادب عربی کے بے نظیر فاضل ،مولف کتب کثیرہ مولانا ابو البرکات محمد عبد المالک کھوڑوی المعروف نہ علامہ صادقی بن مولانا محمد عالم بن گوہر خاں رحمہم اللہ تعالیٰ موضع کھوڑی متصل ڈنگہ (ضلع گجرات ) میںخاندان گورج چو ہان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد مولانا محمد عالم اپنے دور کے مقتدر عالم دین تھے اور فقہ ، منطق حساب اور خوش نویسی میں کامل دستر س رکھتے تھے، حضرت مولانا جان محمد قادری لاہوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے مرید اور مجاز تھے۔ مولانا محمد عبد المالک نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی اور برادر مکرم مولانا غلام غوث سے حاصل کی ، اعلیٰ تعلیم کے لئے استاذ الکل مولانا شیخ عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں چک عمر ( نزدلالہ موسیٰ) حاجر ہوئے اور نو دس برس تک اکتساب علوم کیا ۔تکمیل علوم۔۔۔
مزید
آپ ’’ملک یار پرآں‘‘ سے مشہور اور کامل درجے کے ولی تھے، آپ کا اصلی وطن لار تھا، وہاں سے اپنے مرشد کی اجازت سے دہلی تشریف لائے تھے، آپ سلطان غیاث الدین بلبن کے زمانے کے شیخ وقت تھے، خواجہ نظام الدین اولیاء آپ کے مزار پر کبھی کبھی تشریف لایا کرتے تھے، خیال ہے کہ ان دونوں بزرگوں کی عین حیات میں ملاقات ہوئی ہوگی مگر اس پر کوئی خارجی ثبوت موجود نہیں، سیرالاولیاء میں خواجہ نظام الدین اولیاء سے نقل کیا گیا ہے کہ میں کیلو کہری کی جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے جایا کرتا تھا، چنانچہ میں ایک روز جامع مسجد کو جا رہا تھا اور اتفاق سے اس دن میں روزے سے تھا، سخت گرم لو چل رہی تھی گرمی کا مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ مجھے چکر آنے لگے اور میں ایک دوکان میں بیٹھ گیا اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ آج اگر میرے پاس سواری ہوتی تو اس پر بیٹھ کر چلا جاتا پھر شیخ سعدی کا یہ شعر مجھے یاد آیا ماقدم ۔۔۔
مزید
مولانا حافظ عبد اللہ ابن مولانا سید چراغ شاہ ۱۲۷۴ھ/۱۵۷ء میںکشمیری محلہ ، سیالکوٹ شہر میںپید ہوئے،قرآن مجید اور کچھ درسی کتب مولانا علم الدین سیالکوٹی سے پڑھیں ۔منبق ،فلسفہ اور ریاضی کی منتہی کتب حضرت خواجہ عبد العلیم ملتانی ایسے فاضل سے پڑھیں ۔آپ کو کتب علمیہ سے بیت حد لگائو تھا چنانچہ آپ نے اس دور کی متعدد و غیر مطبوعہ کتب کی نقل کی تھی ، ان مخطو طات سے آپ کے قابل قدر علمی ذوق کا نشان ملتا ہے ۔ یہ مخطوطات آپ کے خلف رشید مولانا سید نور محمد قادری مد ظہ کے پاس محفوظ ہیں۔ آپ نے سرہٗ آل عمران کی چند آیات کی تفسیر فارسی میں لکھی تھی جو بڑے سائز کے دو سو صفھات پر مشتمل ہے۔ آپ نو جوانی میں ۱۳۰۰ھ/۱۸۸۲ء میں حضرت مولانا قاضی سلطان محمود (آونی) قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلۂ ۔۔۔
مزید
آپ کمال، ورع، تقویٰ اور دیانت داری میں مشہور تھے، شیخ نظام الدین اولیا نے آپ ہی سے ’’مشارق‘‘ کے حصوں کی سند حاصل کی اور ان سے مولانا برہان الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے استفادہ کیا اور ان سے میں نے فیض پایا۔ مولانا کمال الدین زاہد۔۔۔ مشارق کو شیخ نظام الدین اولیا نے سنا تھا آپ نے ان کا اجازت نامہ اپنے ہاتھ سے خود لکھا ہے جو سیرالاولیا میں موجود ہے۔ سلطان غیاث الدین بلبن کی یہ آرزو تھی کہ مولانا کمال الدین زاہد کو امام مقرر کرکے ان کے پیچھے نماز پڑھا کریں، چنانچہ اسی غرض سے مولانا موصوف کو اپنے ہاں بلایا اور کہا کہ مجھے آپ کے علمی کمالات، دیانت، حفاظت پر پختہ اعتقاد ہے مہربانی فرماکر اگر آپ امامت کا عہدہ قبول فرمالیں تو میں آپ کا رہین منت ہوں گا اور مجھے اپنی نماز کے قبول ہونے پر پورا یقین ہوجائے گا، مولانا نے جواب دیا کہ میرے پاس تو پہلے نماز ہی نماز باقی رہ گئی ہے ا۔۔۔
مزید
فاضل متجر،مرجع الفضلائ، بے مچل تاریخ گو ، مولانا شیخ عبد اللہ ابن مولانا صدر الدین ( م ۱۲۶۹ھ/۲۔۱۸۵۱ئ) سکھوں کے عہد حکومت میںاپنے ننہیال موضع دینہ( ضلع جہم ) میں ۵۰۔۱۲۴۹ھ/۱۸۳۴ء میں پیدا ہوئے ، بچپن کے چند سال اپنے عابد زاہد نانا حافظ نورجی[1] رحمہ اللہ تعالیٰ (م۱۲۷۰ھ/۵۴ ۔ ۱۷۸۳ئ) کے زیر سایہ گزارے ۔ ساڑھے چار سال کی عمر میں حافظ نور دین ، چک عمر کی خدمت میں حاضر کئے گئے اور حافظ صاحب کی توجہ سے جلد ہی قرآن پاک یاد کر لیا بعد ازاں علوم متادولہ کی تحصیل والد ماجد سے کی جو اپنے دور کینامور اساتذہ میں شمار ہوتے تھے ، ان کے علاوہ مولانا گلام یحیٰ ( میکی ڈھوک )استاذ حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ اور اپنے عم محترم مولانا میاں مخدوم عالم سے بھی استفادہ کیا ۔ تکمیل علوم کے بع۔۔۔
مزید
آپ بڑے ولی اللہ اور برگزیدہ آدمی تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی فرماتے ہیں کہ اودھ میں ایک بزرگ رہتے تھے وہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے اور با نیجا رسید کہ لوگوں نے یقین کرلیا کہ اب ان کا بچنا امرِ محال ہے اور تجہیز و تکفین کے انتظامات مکمل کرلیے گئے، اسی اثناء میں مولانا داؤد پالٰہی اور مولانا رضی الدین منصور ان کے ہاں پہنچے اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں تو گفتگو کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، چنانچہ مولانا رضی الدین نے مولانا داؤد پالٰہی سے فرمایا کہ مریض کو ایک طرف سے آپ سنبھالیں اور دوسری طرف سے میں، مولانا داؤد سرہانے بیٹھ گئے اور مولانا رضی الدین پانتی، اس کے بعد دونوں بزرگوں نے کچھ پڑھنا شروع کیا اور پھر کھڑے ہوکر اس بزرگ کے ہاتھ پکڑے اور کہا اٹھ بیٹھو چنانچہ وہ بیمار بزرگ اسی وقت اٹھ کر بیٹھ گئے اور صحت مند ہوگئے۔سبحان اللہ عزوجل چاہیں تو اِشاروں سے اپنے کایا ہی پ۔۔۔
مزید
فاضل جلیل مولانا محمد عبد الکریم ابن مولانا فضل احمد ابن مولانا حافظ خان محمد رحمہم اللہ تعالیٰ بمقام بستی قلعدار ضلع گجرات مین پیدا ہوئے ، آ قریشی خاندان کے چش م و چراغ تھے۔ آپ کے اکابر ااعن جد علم و فضل اور خدمت دین م یں بلند مقام رکھتے تھ ے ۔مولانا نے اپنے آباء و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے دور کے اجلہ فضلاء سے اکتساب فیض کیا جن میں سے مولانا کیلم اللہ مچیانوی، مولانا محمد عد اللہ ٹونکی ( محشی حمد اللہ شرح سلم ) مولانا عبد الحکیم کلا نوری خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ آپ نے السنٔہ شرقیہ کے امتحانات امتیازی پوزیشن میں پاس کئے سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں حضرت خواجہ پیر سید حیدر شا جلالپوری قدس رہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے۔ تحصیل علوم سے فراغت کے بعد ۱۳۱۴ھ/۱۸۹۶ء میں مشن ہا۔۔۔
مزید