بدھ , 19 شوّال 1447 ہجری
/ Wednesday, 08 April,2026

پسنديدہ شخصيات

خواجہ بہاری

                خواجہ بہاری: عالم علومِ فقہ و حدیث و تفسیر اور واقفِ اسرار حقانی تھے۔ اوائل میں اپنےشہر حاجی پورے نکل کر واسطے تحصیل علوم کے قصبۂ کودہ پور میں آئے اور شیخ جمال الاولیاء سے عرصہ تک پڑھتے رہے،پھر لاہور  میں آکر ملا محمد فاضل لاہور سے مخصلیت کی دستار باندھی اور انہی کے گھر میں سکونت اختیار کی۔ آخر کو حضرت میاں میرے کے مرید ہوکر ان کے اعظم خلفاء میں سے ہوئے۔ وفات آپ کی ۱۰۶۰؁ھ میں ہوئی اور لاہور میں دفن کیے گئے۔’’معدن فیوض‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مولاناحکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی

مولاناحکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی مرزا غلام قادر بیگ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت خواجہ عبداﷲ احرار علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حضرت احرار رحمتہ اﷲ علیہ نسلاً" فاروقی "تھے۔ اس طرح آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ملتا ہے۔ تاریخ ومقامِ ولادت: حضرت مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ لکھنوی رحمتہ اﷲ علیہ یکم محرم الحرام 1243ھ/1827ء کو محلہ جھوائی، ٹولہ لکھنؤ (یوپی، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے ترک سکونت کرکے بریلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ سیرت وخصائص: حضرت مرزا غلام قادر بیگ رحمۃ اللہ علیہ مایہ ناز عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ومشفق استاد بھی تھے۔ اپنی خدا دادصلاحیتوں کی وجہ طالبِ علم کو دیکھتے کے ساتھ ہی اس کی قابلیت کا اندازہ لگالیتے۔ آپ  نے مولانا نقی علی خان  اور ان کے والد رحمۃ اللہ علیہما کے ساتھ۔۔۔

مزید

احمد پاشا بن خضر بیگ

                احمد پاشا بن خضر بیگ بن جلال الدین رومی: علم اصول و فروع میں بڑے ماہر متجر اور پرہیز گار و متواضع بھی کامل درجہ کے تھے۔جب سلطان محمد خاں بن سلطان مراد خاں نے قسطنطیہ میں آٹھ مدارس بنوائے تو ایک مدرسہ آپ کو بھی تدریس کے لیے دیا گیا مگر جب آپ کے بھائی سنان پاشا یوسف دعہدۂ قزارت سے معزول ہوئے توآپ کو شہر اسکوب کے مدرسہ پر تبدیل کیا گیا۔پھر جب سلطان با یزید خاں بن محمد خاں تخت نشین ہوا تو اس نے آپ کو ادرنہ کے مدرسہ پر مقرر کیا، بعد ازاں آپ کو بوسا کا قاضی بنایا گیا اور باقی عمروہیں رہے یہاں تک ۹۲۷؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شیخ احمد بیگ قادری نوشاہی

حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے اکابر خلفأ سے تھے۔ بارگاہِ مرشد سے نور محمّد نوری کے خطاب[1] سے ممتاز تھے۔ پہلے علم ظاہری میں حضرت نوشاہ عالی جاہ کے شاگرد تھے بعد ازاں مرید ہوکر کمال کو پہنچے۔ بڑے بذرگ، صاحبِ علم و عمل اور زاہد و عابد تھے۔ نقل ہے ایک روز موضع نوشہرہ کا یک معلّم بلاول نام حضرت نوشہ گنج بخش کی خدمت میں حاضر ہوا اور نذرانہ دیا اور عرض کیا کہ حضرت توجہ فرمایئے اور دُعا کیجئے کہ میری حالت شیخ احمد بیگ کی سی ہوجائے۔ آپ نے متبسّم ہو کر فرمایا: ہر ایک کو مرتبہ اس کے حوصلے اور ظرف کے مطابق دیا جاتا ہے، تو اچھا اگر تیری یہی مرضی ہے تو ایسا ہی ہوجائے گا۔ معلّم اسی وقت بے ہوش ہوکر گِر پڑا اور تڑپنے لگا۔ حتیٰ کہ تڑپتے تڑپتے مکان کی ایک منزل سے نیچے صحن میں آگِرا اور کئی روز کے بعد ہوش میں آیا۔ اس پر ایسی حالت وارد ہوئی کہ اپنے گھر میں بیٹھا ہوتا یک لخت انتہائے اضطراب و بے چینی میں اُٹھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین بن صالح جمل اللیل شافعی مکی

حضرت شیخ حسین بن صالح جمل اللیل شافعی مکی رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی سیدی شیخ  حسین بن صالح شافعی مکی تھا اور جمل اللیل کے نام سے معروف ومشہور ہوئے۔ سیرت وخصائص: حضرت شیخ سیدی حسین بن صالح جمل اللیل علوی فاطمی قادری مکی قدس سرہ حرم مکہ میں شافعیہ کے مشہور ترین امام و خطیب تھے۔ آپ عجیب خوش اوقات اور بابرکت بزرگ تھے۔ بلاد عرب میں آپ کا حلقہ ارادت بہت وسیع تھا۔ امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ جب پہلی بار حج بیت اﷲ کے لئے تشریف لے گئے تو ایک دن مقام ابراہیم میں نماز مغرب کے بعد حضرت شیخ حسین بن صالح نے بلا تعارف سابق آپ کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر اپنے دولت کدہ لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کوپکڑ کر فرمایا:"بے شک میں اس پیشانی میں اﷲ کا نور پاتا ہوں"۔ اور تاقیام مکہ معظمہ حاضری کا تقاضا و اصرار فرمایا۔ آپ کو صحاح ستہ اور سلسلہ قادریہ کی اجازت اپنے دست مبارک سے۔۔۔

مزید

حضرت سیدی شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی

حضرت سیدی شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی احمد بن زینی دحلان مکی ۔کنیت: ابو العباس تھی۔لقب: امام الحرمین،فقیہ المکہ،فقیہ الشافعیہ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: شیخ احمد بن زينی بن احمد بن عثمان بن نعمت الله بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله بن عثمان بن عطايا بن فارس بن مصطفى بن محمد بن احمد بن زينی بن قادر بن عبد الوهّاب بن محمد بن عبد الرّزاق بن احمد بن احمد بن محمد بن زكريا بن يحيى بن محمد بن غوث الاعظم شیخ  عبد القادرجيلانی۔(رضوان اللہ عنہم اجمعین) تاریخ ومقامِ ولادت: سیدی احمد بن زینی دحلان مکی کی ولادت 1232ھ مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: حضرت سیدی شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی رحمۃ اللہ علیہ نے کئی اساتذہ سے علم حاصل کیا   جن میں محمد سعيد المقدسی، علی سرور، عبد الله سراج الحنفی، بشرى الجبرتی ا ورالشيخ حامد العطار وغيرهم کا نام۔۔۔

مزید

مرجع الکاملین حضرت خواجہ محمد عثمان نقشبندی قدس سرہٗ

            شیخ المشائخ حضرت خواجہ محمد عثمان نقشبندی قدس سرہ ۱۲۴۴ھ؍۱۸۰۹ء میں بمقام لونی تحصیل کلانچی ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد (نام معلوم نہیں ہوسکا)نہایات متقی اور پرہیزگارتھے،انہوں نے آپ کو علوم دینیہ کی تحصیل پر لگادیا۔تکمیل علوم کے بعد حضرت خواجہ دوست محمد قندھاری(م۱۲۸۴ھ؍۱۸۶۷ئ) موسیٰ زئی شریف (ڈیرہ اسمٰعیل خاں) خلیفہ حضرت شاہ احمد سعید دہلوی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ۹جمادی الاخریٰ(۱۲۶۶ھ؍۱۸۵۰ئ) کو بیعت ہر کر مدارک سلوک طے کرنے کے علاوہ علم اخلاق،علم سیر،علم تصوف اور علم حدیث کی تحصیل کی اور سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ احمد یہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ کبرویہ مداریہ قلندریہ شطار یہ م یں ماذون مجاز ہوئے ۔           آپ نے جس محنت و جانگدازی سے اپنے شیخ کی خدمت کی،کو۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید  حافظ شاہ حنفی قادری نو شاہی ساہنپالوی ﷫

            فاضل اجل حضرت مولانا سید محمد شاہ ابن حضرت مولانا سید امین مختار السالکین(م۱۳۱۰ھ) ابن سید حافظ قل احمد نوشاہ ثانی(م ۱۲۸۶ھ) بمقام ساہنپال شریف (ضلع گجرات) ۱۲۸۱ھ؍۱۸۶۵ء میں پیدا ہوئے آپ شیخ الاسلام حضرت سید حافظ شاہ حاجی محمد نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیز کی اولاد امجاد میں سے تھے۔ آباء واجداد فضیلت علم ظؓاہری اور ولایت باطنی میں ممتاز چلے آتے تھے۔مولانا سید محمد شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید حفظ کیا اور ظاہری علوم کی تحسیل اپنے والد ماجد، عم حقیقی حضرت مولانا سید محمد شفیع(م۱۳۱۱ھ) اور مولانا سید غلا قادر (م۱۳۰۶ھ) سے کی آخر میں موضع گا کھڑہ کلاں ضلع گجرات م یں جمال الدین حنفی سے اکتساب فیض کیا فقہ، حدیث اور طب میں سند فضیلت حاصل کی۔آپ کا سلسلۂ تلمذ آفتاب پنجاب مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔۔۔

مزید

سلیمان زماں حضرت خواجہ محمد  سلیمان تونسوی قدس سرہ العزیز

            شاہ شاہاں،فخر دوراں،پیر پٹھان حضرت خواجہ محمد سلیمان توسنوی ابن محمد زکریا ابن عبد الوہاب بن عمر خاں قدست اسرارہم کی ولادت ۴۸۱۱ھ؍۰۷۷۱ء کوہ سلیمانگر گوجی نامی وادی میں ہوئی جو تونسہ شریف سے کچھ فاصلے پر واقع ہے خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ جعفر سے تھا جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا،والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔چار سال کی عمرمیں ملا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان س پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور۔۔۔

مزید

شیخ طریقت مولانا الحاج پیر محمد سعید قادری ﷫

            حضرت مولانا محمد سعید قادری ابن حضرت حافظ فتح محمد قادری،ماہ شعبان المعظم ۱۳۰۷ھ؍۱۸۹۰ء میں جلال پور پیر والا میں پیدا ہوئے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم مولانا غلام قادر جلال پوری رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی،بعد ازاں اپنے برادر مکرم مولانامحمد عبد الغفار رحمہ اللہ تعالیٰ سے ظاہری وباطنی کا اکتساب کیا۔والد ماجدکے حکم سے براد بزرگو ار سے بیعت کی اور خلافت سے مشرف ہوئے اور ستائیس سال تک مسند فقر پر فائزرہ کر تنشگان شریعت و معرفت کی پیاس بجھاتے رہے،آپ معقولات پر گہری دسترس حاصل تھی،کتب بینی مطالعہ کا ا س قدر شوق تھا کہ آپ کے کتب خانہ میں ایسی کوئی کتاب نہ تھی جس کا آپ نے مطالعہ نہ کیا ہو۔           آپ کو تبلیغ دین سے خاص طور پر شغف تھا،سفر و حضر میں آپ کی ہر مجلس پندو نصائح، بزرگان دی۔۔۔

مزید