ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

علامہ ماجد علی حنفی جونپوری

حضرت علامہ ماجد علی حنفی جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

مستان شاہ مجذوب قدس سرہ

  آپ مجذوبان باکمال، اور سر مستانِ صاحب حال بزرگوں میں سے تھے تارک الدنیا مستغفی المراج تھے دنیا اور اہل دنیا سے کوئی سروکار نہیں تھا برہنہ سر اور برہنہ پا لاہور کے کوچۂ و بازار میں پھرا کرتے تھے کبھی کبھی ویرانوں میں نکل جاتے سخت سردیوں میں ایک بھورے (کمبل) میں بسر کرتے مگر سوال کا لفظ بھی زبان پر لاتے لوگ نذرانے پیش کرتے مگر آپ نگاہ میں نہ لایا کرتے تھے جو نذرانے سامنے ہوتے ضرورت مند حضرات خود ہی اٹھاکر لے جاتے اگر بچ جاتے تو خود اٹھاکر لوگوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے  بعض اوقات برتن ساز کلالوں  کے پاس چلے جاتے اور مٹی کے برتن بنتے دیکھتے رہتے تھے ایک وقت آیا کہ انہوں نے خود برتن سازی شروع کردی اور اس خوبصورتی سے برتن بناتے کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے خود ہی باتیں کرتے رہتے جو دوسروں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، ایک بات کو دس دس بار تکرار  کرتے تھے بھوگ مستانی تو درختوں ۔۔۔

مزید

فقیر نظام شاہ مجذوب﷫

  بڑے صاحب حال اور ذوق انسان تھے سُکر استغراق میں رہتے، لاہور میں قیام پذیر تھے، بے پناہ مخلوق عقیدت مند تھی، ولایت اور کرامت کاملہ کے مالک تھے عام طور پر کوچہ و بازار میں گھوما کرتے، مگر کبھی کبھی درزیوں کا کام بھی کرنے لگتے شراب پیتے اور مست رہتے منشیات کھاتے اورمدہوش ہوتے، بایں ہم کشف قلوب کے مالک تھے، بات عارفانہ کرتے اور اپنے وقت کے نبض شناس اور حساس فقیر تھے جو آتا غریبوں میں تقسیم کردیا کرتے۔ لاہور میں جس دن دلیپ سنگھ کا وزیر ہیرا سنگھ قتل ہوا، تو اس دن عیدالاضحیٰ تھی، علی الصباح نظام شاہ مجذوب لاہور میں مسجد محلہ سادھواں (اندرون بھاٹی گیٹ) میں تشریف لائے۔ یاد  رہے کہ یہ محلہ میرا (مولف کتاب) اپنا محلہ تھا  اور  تمام نمازیوں کو مخاطب کرکے فرمانے لگے کہ پرانی صفیں اٹھادو، اور نئی صفیں  بچھادو، یہ بات سنتے ہی نمازیوں نے اندازہ لگایا کہ آج کوئی انقلاب آنے والا ۔۔۔

مزید

تاجے شاہ مجذوب قدس سرہ

  آپ مست الست فقیر اور مجذوب تھے شہر کے بازاروں اور جنگلوں میں گھوما پھرتے، گفتگو مستانہ کرتے تھے شہر کے لوگ آپ کے معتقد تھے بعض اوقات خوارق و کرامات کا ظہور ہوتا، کشف کے ذریعہ بعض غائب کے اسرار بیان فرمایا کرتے تھے استغراق و مستی  میں کھانے پینے کی خبر نہ ہوتی اگر کوئی اپنے طور پر کھانا سامنے رکھتا تو کھالیتے ورنہ کئی کئی دن فاقہ مست رہتے تھے آپ ے سکھ سلطنت کے زوال کی خبر کئی سال پہلے ہی دے دی تھی، آپ کی وفات ۱۲۶۱ھ میں ہوئی تھی۔ رفت از دنیا چو در خلد بریں مست مجذوبے بگو تاریخ او ۱۲۶۱ھ   شیخ تاجی شاہ پیر راہنما نیز عاشق مست کامل راہنما ۱۲۶۱ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

مستقیم شاہ مجذوب لاہوری قدس سرہ

  آپ روشن ضمیر فقیر تھے، مجذوب تھے صاحب سُکر تھے جذب و محبت کے مالک تھے ابتدائی عمر میں حجاموں کا کام کیا کرتے تھے جذب حقیقی نے حضرت مستقیم  شاہ کو راہِ مستقیم دکھایا اور ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس سے آپ کی زندگی کا رخ پلٹ گیا ایک دن مستقیم شاہ ایک زمیندار کی حجامت بنانے اس کے کھیتوں میں گئے،  آپ حجامت بنانے میں مشغول تھے کہ ایک فقیر قلندرانہ اندا ز سے وہاں ہی آپہنچا،  آپ نے فرمایا مستقیم! میں پیاسا ہوں، مجھے پانی کا ایک پیالہ تو پلادو، مستقیم! اسی وقت اٹھے، اور دور سے ایک پیالہ پانی کا لائے اور اس فقیر کو پلادیا پانی ٹھنڈا تھا، فقیر خوش ہوگیا، ٹھنڈا  پانی پیا مگر گرم نگاہیں مستقیم شاہ کے چہرے پر ڈالیں نگاہ پڑتے ہی مستقیم شاہ تڑپے اور مدہوش ہوگئے اور زمین پر تڑپنے لگے، اور مجذوب بادہ الست ہوکر بیابانوں میں گھومنے لگے کئی سال تک دشت و صحرا میں گزارے پھر موضع فیض پو۔۔۔

مزید

حافظ طاہر کشمیری نوشاہی مجذوب ﷫

  صاحب تذکرہ نوشاہی لکھتے ہیں کہ آپ حضرت ملا شاہ قادری (جو حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ تھے) کے مرید ہوئے، مگر حضرت ملا شاہ سے آپ کو روحانی دولت نصیب نہ ہوئی بے اعتقاد ہوکر گلے میں زنار ڈالا منہ کالا کرلیا، اور قلندروں کی ایک جماعت میں جاملے، آزادانہ ان کے ساتھ شہر بہ شہر پھرتے رہتے اسی دوران حضرت نوشہ گنج بخش کے دروازے پر گداگر کی حیثیت سے جا پہنچے حضرت نوشہ قدس سرہ  نے تمام قلندروں  کو غلہ عنایت فرمایا مگر حافظ طاہر کو کچھ نہ دیا قلندر روانہ ہوئے تو حافظ طاہر  مایوس اٹھے اور دل سے پُر درد آہ کھینچی، حضرت نوشہ اس قلبی کیفیت سے واقف تھے آواز دی، طاہر تم کہاں جا رہے ہو؟ ہمارے پاس آؤ، حافظ طاہر نے آپ کی زبان سے اپنا نام سنا، تو حیرت زدہ ہوگئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، حضرت نوشہ نے اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ اٹھو! اور اس شخص کے پیراہن کے نیچے سے زنار اتار لو زنار۔۔۔

مزید

نانو مجذوب نوشاہی قدس سرہ

  آپ حضرت نوشہ گنج بخش کے مرید اور خدمت گار تھے، ایک دن آپ نے حضرت نوشہ سے سنا کہ جنت میں تمام لوگ بغیر داڑھی کے ہوں گے ، آپ نے موچنا پکڑا اور داڑھی کے تمام بال اکھاڑ دیے، حضرت نو شاہ گنج بخش کی وفات کے بعد آپ قلعہ رہتاس کی طرف چلے گئے وہاں کوہ بیابان میں گھومتے رہتے تھے پہاڑی  لوگوں کو آپ کے متعلق یہ غلط فہمی ہوئی کہ آپ کے پاس بڑا مال و دولت ہے چنانچہ آپ کو شہید کردیا گیا، سالِ شہادت ۱۱۳۲ ھ تھا۔ ز دنیا  رفت در فردوس اعلیٰ زرضواں سالِ ترحیلش بجستم   چونانو شاہ حق بیں عاشق مست بگفتا کعبۂ دین عاشقِ مست ۱۱۳۲ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

سیّد شاہ عبداللہ مجذوب نوشاہی قدس سرہ

  آپ حضرت حاجی محمد نوشاہ قادری کے خاص مریدوں میں سے تھے مقبولان حق سے شمار ہوتے تھے ہمیشہ بے خود رہتے صاحب تذکرہ نوشاہی لکھتے ہیں کہ آپ نواب میر مرتضیٰ خان کے بیٹے تھے جو عالمگیری سلطنت کا ایک امیر کبیر تھا، آپ ہفت ہزاری منصب پر فائز تھے ایک بار حضرت نوشہ قادری کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ایک نگاہِ التفات سے تارک الدنیا ہوگئے، کثرت فرائض سے دست بردار ہوگئے، جذبہ و مستی نے مناصب اور علائق دنیا سے محفوظ کردیا، ان دنوں حضرت نوشہ گنج بخش مرضِ موت  میں صاحب فراش تھے حضرت شاہ عبداللہ آپ کے پاس حاضر ہوئے، خدمت میں رہے، مگر حضرت نوشہ کے رعب و جلال کے پیش نظر اظہار مدعا کرنے سے قاصر تھے آخر باہر آئے تو ایک رقعہ لکھا کہ اگرآپ کی توجۂ خاص سے مجذوب ہوجاؤں تو دنیا کے مصائب اور علائق سے چھوٹ جاؤں۔‘‘ حضرت نوشہ نے فرمایا کہ شاہ عبداللہ کو کہہ دو کہ اس حالت میں مخلوق خدا کا زیادہ فائدہ۔۔۔

مزید

شیخ مٹھا مجذوب نوشاہی قدس سرہ

  آپ حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش قادری قدس سرہ کے خاص مریدوں میں سے تھے، (ان کا ذکر خیر مخزن دوم سلسلہ عالیہ قادریہ اعظمیہ میں گزر چکا ہے) آپ بڑے عجیب و غریب حالات اور احوال کے مالک تھے، بسا اوقات حیوانات سے گفتگو فرمایا کرتے تھے، جس چیز پر توجہ فرماتے  اس میں فوراً تبدیلی آجاتی اگر کسی انسان پر نگاہ التفات ڈالتے  تو اسے مست بادۂ الست کردیتے جذب و استغراق میں رہتے، آپ کی وفات ۱۱۱۵ھ میں ہوئی۔ شیخ مٹھا پری دین مجذوب حق سالِ ترحیلش چو جستم از خرد   رفت از دنیا بجنت یافت جا گشت از ہاتف ندا شیر خدا ۱۱۱۵ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

بابو خویشگی ﷫

  آپ مادرزاد مجذوب تھے، اکثر ننگے پھرتے اور شہر قصور کے بازاروں میں گھومتے، جانوروں اور پرندوں سے بڑی محبت کرتے، جو بھی ملتا اسے فرمائش کرتے مجھے ایک طوطا لےدو،  حالت سُکر میں جو باتیں کرتے ان میں اسرار و معارف ہوتے، جس  بیمار پر ہاتھ ملتے شفایاب ہوجاتا۔ معارج الولایت کے مصنف فرماتے ہیں ایک شخص کا بیٹا سخت بیمار ہوگیا، اس کی بیوی نے اسے کہا کسی طرح بابو خویشگی مجذوب  کو گھر لے آؤ تاکہ بچے پر ہاتھ ملے اور اسے صحت حاصل ہوجائے وہ گیا اور خویشگی کو حیلہ بہانہ کرکے اپنے گھر لے آیا، مگر خویشگی دروازے پر آ کر رک گیا اور کہنے لگا میں اندر نہیں جاؤں گا، اور مردے پر ہاتھ نہیں لگاؤں گا، اور یہ کہتے ہوئے دروازے سے لوٹ گیا، دس  بارہ روز گزرے تھے کہ لڑکا فوت ہوگیا۔ دادو نامی پٹھان قصور سے بیجاپور چلا گیا، ایک عرصہ تک اس کی خیر خبر نہیں آئی تھی دادو کی والدہ نے بابو خویشگی کو بلا۔۔۔

مزید