ہفتہ , 15 شوّال 1447 ہجری
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شاہ احمد شرعی قدس سرہٗ

  آپ عظماء مشائخ اور کبریٰ علماء میں سے شمار ہوتے تھے چندیری کے نواح میں رہتے تھے۔ دعوت آیات قرآنی اور اسمائے الہیّہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ جمعہ کے دن اسی علم کی قوت سے بادشاہ وقت کو اپنی طرف متوجہ کیا کرتے تھے۔ اور اپنے پاس بٹھا کر مسلمانوں کے مسائل حل فرماتے آپ کے پاس ایک ایسی تسبیح تھی۔ اس کا ایک دانہ ہلاتے تو بادشاہ حرکت میں آجاتا۔ دوسرا دانہ گراتے تو بادشاہ سواری کا حکم دیتا۔ تیسرا دانہ گراتے تو بادشاہ سوار ہوجاتا۔ ہردانہ گراتے جاتے اور کہتے جاتے اب بادشاہ وہاں پہنچا ہے۔ اب وہاں آگیا ہے۔ چالیس دانے گرتے تو بادشاہ آپ کے دروازے کے سامنے ہوتا۔ ایک دن آپ وضو فرما رہے تھے آپ کا ایک غلام جو ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہتا تھا۔ اسی تسبیح کو صندوق سے نکال لایا۔اور جس طرح وہ شیخ کو دانے گراتے دیکھا کرتا تھا تسبیح کو چلانا چلانا شروع کردیا۔ نا گاہ بادشاہ آپ کے حجرے کے سامنے آپہنچا۔۔۔۔

مزید

شیخ جلال بن عبدالرحمٰن سیوطی﷫

 شیخ جلال بن عبدالرحمٰن سیوطی﷫ اپنے وقت کے بڑے عالم دین بلند پایہ فقہیہ فاضل محدث اور بہترین مفسر قرآن تھے۔ آپ کے ہمعصر فضلاء سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے آپ سے مناظرہ کرنے کی ہمت ہوتی آپ نے ہی جلالین کا نصف حصّہ اوّل تالیف کیا اور تفسیر دارلمنثور مکمل لکھی۔ آپ کی تصانیف کی تعداد چار سو سے بھی زیادہ ہے آپ نے اپنی تفسیر کے دیباچے میں لکھا ہے۔ قرآن پاک میں دو آیات ایسی ہیں جو حروف تہجی پر حاوی ہیں ایک تو اَنزَل عَلَیکُم الغمام۔ اور دوسری مُحمَدَ رسَول اللہ والذین مَعٗہ اشِدَّاء عَلَی الکفُارِ بزرگان دین ان دونوں آیاتِ کریمہ کو قطبین کہتے ہیں آپ نے ایک جگہ لکھا کہ حضورﷺ کے زمانے میں یہ اصحابہ کرام قرآن پاک کے جمع کرنے پر مقرر تھے معاذ بن جبل۔ عبادت بن صامت۔ اولیٰ بن کعب۔ اَبو درد ا انصاری اور حضرت ابو ایّوب انصاری رضی اللہ عنہم۔ اقول صحیح  کے مطابق آپ کا وصال ۹۱۱ھ میں ہوا تھا۔ ۔۔۔

مزید

مولانا حسین واعظ کاشفی قدس سرہٗ

  آپ علوم ظاہری اور باطنی میں بڑے بلند مقامات پر فائز تھے علوم شریعت و طریقت میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ کی ولایٔت پر تمام مخلوق اتفاق رکھتی تھی۔ دل میں ذوق تھا اور صاحبِ حال بزرگ تھے۔ قرآن پاک پڑھتے وقت حالت وجد میں رہتے۔ اور خود رفتہ ہوکر قرآن سناتے آپ بڑے صاحب تصنیف ہیں۔ اخلاق محسنی تفسیر حسینی جیسی کتابیں اب تک یاد گار زمانہ ہیں۔ یہ کتابیں علماء و مشائخ کی نگاہ میں ہمیشہ مقبول و مرغوب رہی ہیں۔ آپ ۹۱۰ھ میں واصل بحق ہوئے۔ آپ حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی صاحب نفحات الانس کے ہمعصر تھے آپ کی مجلس وعظ میں ہزاروں لوگ جمع ہوتے اور ہدایت پاتے۔ رہبر دین صاحب علم الیقین شیخ بود سالِ وصالش عیاں ۹۱۰ھ   عالم معصوم محمد سین نیز مخدوم محمد حسین ۹۱۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ علی صوفی قدس سرہٗ

  بڑے جلیل القدر بزرگ تھے وجام کے رہنے والے اور مولانا شیخ زین الدین خوانی قدس سرہٗ کے مرید تھے۔ ان کی توبہ کا واقعہ یوں لکھا ہے۔ کہ ایک دن لوگ کسی بزرگ کی زیارت کو جارہے تھے۔ آپ اس وقت کھیتی باڑی کے کام میں مصروف تھے۔ لوگوں کو جاتے دیکھا تو ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ میں بھی زیارت کے لیے جاؤں ساتھ ہولئے۔ ان نیک لوگوں کی صحبت اور اس بزرگ کی زیارت کا یہ اثر ہوا۔ کہ دنیائے کے علائق سے دل اٹھ گیا اور اس دن سے یاد خدا وندی میں مشغول ہوگئے اورپھر اتنی ریاضت کی کہ اولیاء وقت میں شمار ہونے لگے۔ آپ ۹۰۸ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ عالی ہمم علی صوفی سالِ وصلش چو از خرد جستم   رہبر خلق متّقی و ولی! شد ندا مالک بہشت علی ۹۰۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ محمد میرک قدس سرہٗ

  آپ سید عالی نسب تھےا ور سیّد شریف جرجانی قدس سرہٗ کی اولاد میں سے تھے۔ آپ علوم شریعت طریقت میں کامل تھے۔ عالم و عامل تھے شیخ عبدالحی اسم گرامی تھا۔ آپ کی وفات ۸۸۳ھ میں ہوئی تھی لیکن بعض تذکرہ نگاروں نے ۸۸۹ھ لکھی ہے ہمارے نزدیک پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اخبار الاخیار کے مولّف نے یہ قطعہ تاریخ لکھا ہے۔ نادر العصر شیخ عبدالحی وقت مزعت بسر رسیدم من سالِ تاریخ خویش خود فرما گفت تاریخ من بود نامم   کہ بوصفش مرازباں بنود گفتم اے چوں تو در زمان بنود کہ جُز او درد درجہاں بنود بندۂ و قتیکہ درمیاں بنود   ان اشعار میں سے اگر لفظ عبدالحی کے اعداد ۹۵۹ نکلتے ہیں۔ ان میں سے عبد کے اعداد ۷۶ نکال دیئے جائیں تو ۸۸۳ھ نکلتے ہیں۔ زندہ دل پیر شیخ عبدالحی رحلتش جو ز منعم مخدوم   رفت چوں ازجہاں بحنت طاق بار دیگر ز طالب مشتاق ۸۸۳ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

سیّد محمد امین المشہوریہ بابا امیر ریشی اویسی قدس سرہٗ

  آپ سید حَسن تقی کشمیری کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ نے بابا جلال کشمیری سے فیض پایا تھا۔ آپ ظاہری علوم اور تربیت سے فارغ ہوئے اور جوانی میں قدم رکھا۔ کہ والی کشمیر سلطان زین العابدین نے اپنی بیٹی کی شادی آپ نے کرنا چاہی۔ مگر آپ تارک الدنیا ہوکر وہاں سے چلے گئے اور پہاڑ کی ایک غار میں گوشہ نشین ہوکر یاد خدا وندی میں مشغول ہوگئے اور اس طرح آپ ظاہری اور باطنی کمالات پر پہنچے۔ جس وقت سلطان زین العابدین نے جھیل وُلر کے درمیان بمقام لنک پر ایک بلند عمارت تعمیر کی تو کشمیر کے عوام و خواص کو ایک بڑی دعوت پر بلایا۔ اس مجلس میں حضرت میربھی مدعو کئے گئے۔ مگر وہاں بعض حضرات کی نامشروع حرکات دیکھ کر بڑے کبیدہ خاطر ہوئے غصّے کے عالم میں دریا میں چھلانگ لگادی بادشاہ نے ملاحوں اور غوطہ خوروں کو حکم دیا کہ آپ کو نکالا جائے مگر تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ انہوں نے جس قدر تلاش کی آپ نہ مل سکے اس صورتِ حال سے۔۔۔

مزید

مولانا علی توشیخی قدس سرہٗ

  آپ کے والد کا اسم گرامی محمد تھا۔ تو شیخ میں سکونت رکھتے علاءالدین کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ نے تفسیر کشاف پر حاشیہ لکھا۔ جو مقبول عوام و خواض ہوا۔ آپ کا وصال ۸۸۷ھ میں ہوا۔ پر تو افگن شد بخلد جاوداں جنّت عالی قدر تاریخ او ۸۷۸ھ   چوں علی اعلیٰ وحی مہتاب حسن ہم علاء الدین علی مہتاب حسن ۸۷۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

مولانا جلال الدین محلی قدس سرہٗ

  آپ بلند پایۂ محدثین اور معروف مفسرین میں شمار ہوتے تھے نصف جلالین شریف آپ کی تالیف ہے(یاد رہے کہ تفسیر جلالین دو بزرگوں جن کے نام جلال الدین تھے تالیف کی تھی) آپ کی وفات ۸۶۴ھ میں ہوئی۔ چوں جلال الدین شہِ اہل جلال آفتاب نقر تاریخش بگو   کرد رحلت ازفنائے سوئے بقا ہم جلال الدین امیر مجتبیٰ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

خواجہ شمس الدّین محمد کو سوی قدس سرہٗ

  آپ ہرات کے عظماء مشائخ میں سے ہیں ہرات کے نواح میں ایک قصبہ کوسو ہے آپ کی ولادت اسی قصبہ میں ہوئی تھی۔ آپ شیخ احمد جام کی اولاد میں سے ہیں۔ سفینۃ الاولیاء کے مولّف فرماتے ہیں کہ شیخ احمد جام نے وہ خرقۂ خلافت جو انہیں ابوسعید  ابوالخیر قدس سرہٗ سے ملا تھا۔ خواجہ شمس الدین کو عطا کردیا۔ اس خرقہ میں حضور نبی کریمﷺ کے پیراہن مبارک کا ایک ٹکڑا لگا ہوا تھا۔ اس خرقۂ مبارک سے کئی قسم کی کرامات اور برکات کا ظہور ہوا تھا۔ حضرت شیخ احمد جام کی اولاد میں سے ہر ایک اس خرقۂ مبارکہ کا دعویٰ دار بنا۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بانٹ لیا جائے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ جو بھی اُسے ہاتھ میں لیتا وہ غائب ہوجاتا تھا۔ آخر کار خواجہ شمس الدین نے اٹھایا تو آپ کے ہاتھ میں محفوظ رہا۔ خواجہ شمس الدین﷫ صبح سے شام تک شیخ زین الدین کے طریقہ پر ذکر باالجہر میں مصروف رہتے آپ کو شیخ بہاء الدین کی مجلس می۔۔۔

مزید

شیخ جمال گوجر قدس سرہٗ

  آپ کو شیخ الاولیاء کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ آپ شیخ مظفر بلخی کے خلیفہ تھے آپ کا سلسلۂ طریقت پانچ واسطوں سے شیخ نجم الدین سے جا ملتا ہے۔ بعض اوقات شیخ جمال اپنے سر پر کھچڑی کا طباق اٹھائے جہاں کہیں کوئی بھوکا یا بیمار آدمی دیکھتے اسے کھانا کھلاتے ایک دن شاہ موسیٰ عاشقانِ اودھی کے گھر تین روز سے فاقہ تھا۔ شیخ جمال گوجر کھچڑی کا دیگچہ سر پر اٹھائے ان کے گھر جاپہنچے۔ شاہ موسیٰ نے ان کی اس تواضع کو دیکھتے ہوئے فرمایا۔ جزاک اللہ فی الدارین خیرا۔ اے جمال۔ اگرچہ تم گوجروں کو طرح سر پر دودھ کا مٹکہ اٹھائے کھانا تقسیم کرتے پھرتے ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تم عشق تقسیم کر رہے ہو۔ اس دن سے آپ کو گوجر کے لقب سے یاد کیا جانے لگا (حقیقت میں آپ گوجر قوم سے تعلق نہیں رکھتے تھے)۔ آپ بڑے عالی مقام بزرگ تھے۔ اپنے پیرومرشد کی مرضی کے مطابق رہائش رکھتے تھے۔ شاہ موسیٰ عاشقان حاجی شیخ چراغ ھند شیخ فتح اللہ ۔۔۔

مزید