صحابی تھے۔ان کے بھائی سہل کے نام میں ان کاتذکرہ ہوچکاہے۔ان کو دباغ نےذکرکیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن نصربن وہمان بن نصار بن سبیع بن بکراشجع اشجعی تھے۔ان کا لقب مذبح تھا کیوں کہ انھوں نے واقعہ رقم میں قیدیوں کوذبح کیاتھا۔یہ اول ہی زمانے میں اسلام لائےتھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔اس کو اب ہشام اورابن کلبی نےکہاہےاوران کے دادانضربن وہمان وہ شخص ہیں جن کی عمرزیادہ تھی اوران کے بال دوبارہ سیاہ ہوگئےتھےاوردانت بھی نکل آئے تھے ان کے حق میں کہاگیاہے ؎ ۱؎ ونصربن وہمان الہنیدۃ عاشہا وستین عاماثم قوم فانصاتا ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ۔نصربن وہمان بہت دنوں تک زندہ رہےساٹھ برس کی عمرکے بعدپھروہ جوان ہوگئے۱۲۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن عامربن نوفل بن عبدمناف بن قصی قریشی نوفلی ہیں ان کی کنیت ابوسروعہ تھی۔ ان کی والدہ بنت عیاض ابن رافع خاندان خزاعہ سے ایک عورت تھیں یہ بقول مصعب مکہ میں رہتے تھےاوریہی اہل حدیث کابھی قول ہے لیکن اہل نسب کہتے ہیں کہ عقبہ ابوسروعہ کے بھائی ہیں اور یہ دونوں فتح مکہ کے زمانے میں ساتھ ہی ایمان لائےتھے۔یہ قول بہت صحیح ہے زبیرنے کہاہے کہ انھوں نے ہی خبیب بن عدی یعنی ابوسروعہ کوقتل کیاتھا۔ہم کوابراہیم بن محمداور اسمعیل وغیرہمانے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ ترمذی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے علی بن حجر نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن ابراہیم نے ایوب سےانھوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھےمجھ سے عبیدبن ابی مریم نے عقبہ بن حارث سے نقل کرکے بیان کیا(راوی نے) کہا اورمیں نےعقبہ سے سنالیکن عبیداللہ کی حدیث زیادہ یادہے وہ کہتےتھے میں نے ایک عورت سے نکاح کیاپس ہم۔۔۔
مزید
یہ جبیربن عتیک کے غلام تھے۔ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی یہ اپنے آقا کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کومنصوربن ابی الحسن مدینی نے اپنی سندکواحمدبن علی بن مثنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے داؤدبن صالح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یونس بن بکیر نے محمد بن اسحق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے داؤد بن حصین نے عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والد عقبہ سے جوجبری عتبک کے غلام تھے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ غزوۂ احد میں اپنے آقا کے ساتھ میں شریک تھااوراس میں مشرکوں کے ایک آدمی کومیں نےماراجب میں نے اس کوقتل کیا تواس سے میں نے کہاکہ ہے(یہ حملہ لیتاجا)اورمیں ایک فارسی کالڑکاہوں۔یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی توآپ نے فرمایاکہ تم نے یہ کیوں نہ کہاکہ(یہ حملہ)لے مجھ سے اورمیں انصاری کالڑکاہوں کیوں کہ جوغلام جس قوم کاہوتاہے اسی سے منسوب ہوتاہے اور اس کوجریربن حازم نے داؤد ۔۔۔
مزید
کندی ہیں بعض لوگ کہتےہیں کہ یہ عفیف بن قیس بن معدیکرب ہیں اوربعض نے کہاہے کہ عفیف بن سعد معدیکرب ہیں اوربعض لوگ کہتےہیں کہ عفیف کندی جوکہ صحابی تھے ان عفیف بن معدیکرب کے علاوہ ہیں جنھوں نے حضرت عمرسے روایت نقل کی ہے بعض نے کہاہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اس کو ابوعمر نے کہاہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ عفیف ابن معدیکرب قیس کندی اشعث بن قیس کے اخیانی بھائی تھے اورچچازاد بھائی تھے بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے کہاہے کہ ان کانام عفیف بن قیس ہے اس میں انھوں نے غلطی کی کیوں کہ وہ عفیف بن معدیکرب ہیں ۔ان سے ابویحییٰ اوران کے بیٹےایاس نے روایت کی ہے۔ہم کوابوالربیع یعنی سلیمان بن ابی البرکات یعنی محمد بن حسین بن خمیس نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونصر یعنی احمد بن عبدالباقی بن حسن بن طوق نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالقاسم یعنی نصر بن احمدابن مرجی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں ابویعلی یعنی احمد بن علی نے خبردی وہ۔۔۔
مزید
یمانی ہیں طبرانی نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے۔معافی بن عمران نے ابوبکرشیبانی سے انھوں نے حبیب ابن عبیدسے انھوں نے عفیف بن حارث یمانی سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس امت نے نبی کے بعدکوئی بدعت دین میں پیداکی ہواس نے اسی درجہ کی ایک سنت بھی ضرور ضائع کی ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے اور ابوموسیٰ نے کہاہے کہ اسی طرح ان کو طبرانی نے بیان کیاہے اورابونعیم نے ان کی پیروی کی ہے اور ان دونوں نے ان کے نام میں تصحیف کی ہے ان کا صحیح نام غضف بن حارث شمالی ہے اورشیبانی بھی تصحیف ہے صحیح نام ابوبکربن ابی مریم نسائی ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان سے ایک حدیث مروی ہے۔ہم کو یحییٰ بن ابی الرجاء نے اپنی سند کوابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاً خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن بن علی بن یزیدبن ہارون نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن ابن ابی بکرنے محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ حضرت ابوبکرصدیق نے ایک عربی سے جس کو لوگ عُفیریاعَفیرکہتےتھےفرمایاکہ تم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودوستی کی نسبت کہتے ہوئے کیاسنا ہےانھوں نے کہامیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کو کہتےہوئے سناہے کہ دوستی میراث میں ملتی ہے اوردشمنی بھی میراث میں ملتی ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎یعنی دوستی دشمنی من جانب اللہ پیداہوتی ہے کسبی چیزنہیں۱۲۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ان کوزکریانےبیان کیاہے اورکہاہے کہ صحابی تھے ان سے ان کے بیٹے داؤد نے روایت کی ہے مگرابوزکریا نے ان کی روایت کردہ کوئی حدیث نہیں بیان کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
سلمی ہیں اوربعض نے کہاہے کہ عفان بن عترسلمی ہیں جو اصحاب رسول حمص میں فروکش تھےان میں ان کا بھی تذکرہ ہے ان سے جبیربن نفیراورخالدبن معدان نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ان کو اسماعیلی نے صحابہ میں بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ عمیریعنی ابوعرفجہ سے انھوں نے عطیہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ایک روز)حضرت فاطمہ( رضی اللہ عنہا) کے پاس تشریف لے گئے وہ حلوابنارہی تھیں پس آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ وہ بنا چکیں اورحضرت فاطمہ کے پاس حسن وحسین تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ علی کوبلابھیجو پس علی رضی اللہ عنہ آئے سب نے حلواکھایاپھراس بسترکو جس پروہ سب بیٹھےتھے آپ نے کھینچ کر سب پر ڈال دیاپھرفرمایا اے اللہ میرے گھروال ہیں ان سے پلیدی کودورکردے اوران کو خوب پاک کردے (اس دعاکو)حضرت ام سلمہ نےسناتوعرض کیایارسول اللہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔آپ نے فرمایا کہ تم ان سے بہتری۱؎پرہو۔ ۱؎بہتری پرہونے کامطلب یہ ہے کہ لوگ حقیقتہً اس آیت کی فضیلت میں داخل ہو کیوں کہ اہل بیت کا لفظ حقیقتہً ازواج ہی کےلیے ہےازواج کے علاوہ اورلوگوں پراس لفظ کااطلاق م۔۔۔
مزید