منگل , 26 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 14 April,2026

پسنديدہ شخصيات

وجیہ الدین کاکوروی

صدرُ العلماءمفتی وجیہ الدین کاکوروی محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں، ۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے، اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی۔ اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کردئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہوگئے، آپ بہت ہی نیک، دیندار، پرہیزگار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا۔ یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظورالدین کو روی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعرفجہ ابن ابی یزید رضی اللہ عنہ

  ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ جعفرمستغفری نے ان کوصحابہ میں بیان کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ کہاجاتاہے کہ ان کو شرف صحبت حاصل تھامگرکوئی حدیث ان کی نہیں بیان کی۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعرفجہ ابن ہریمہ رضی اللہ عنہ

   بن عبدالعزی بن زبیربن ثعلبہ بن عمروبارق کے بھائی تھے اوربارق کا نام سعد بن عدی بن حارثہ بن عمرومزیقی یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے موصل میں لشکرجمع کیاتھا۔اوراس کے حاکم ہوئے اور موصل کی نسبت ان کی بہت خبریں ہیں یہ وہی شخص ہیں کہ ان کے ذریعہ سے عمربن خطاب نے عتبہ بن غزوان کو مدددی تھی جب ان کوبصرہ کاحاکم کیاتھا۔اورابن غزوان کے پاس لکھ بھیجاتھا کہ میں عرفجہ بن ہرثمہ سے تمھاری مددکرتاہوں کیوں کہ وہ دشمن سے بڑے لڑنے والے اورمکرکرنے والے ہیں۔جب وہ تمھارے پاس آئیں تو ان سے (امورجنگ میں)مشورہ لیتے رہنا ہشام کلبی نے ان کواس نسب میں ذکرکیاہےاوران کو بنی عمروسے جوبارق کابھائی تھاشمارکیاہےاورکہاہے کہ ان کا شمار بارق میں ہے اورطبرانی میں ذکرکیاہے کہ یہ وہی شخص ہیں کہ جنھیں حضرت عمرنے عتبہ بن غزوان کی امدادکے واسطے بھیجاتھااورابوعمرنےان کوعرفجہ بن خزیمہ کہاہے پس اس میں بصحیف ہوگئی ہے اور ہم اس ۔۔۔

مزید

سیّدناعرفجہ ابن شریح رضی اللہ عنہ

   اشجعی ہیں بعض نے کہاکندی ہیں اوربعض نے ان کے والد کانام صریح اوربعض نے ضریح اوربعض نے طریح اوربعض نے شریک اوربعض نے ذریح بیان کیاہے اوربعض لوگوں نے ان کے علاوہ کہاہےاوران میں سے بعض لوگوں نے ان کواسلمی کہاہے یہ کوفہ میں رہتے تھے ان سے قطبہ بن مالک اورزیادبن علافہ اورشبیعی وغیرہم نے روایت کی ہے کہ زیاد بن علاقہ نے قطبہ بن مالک سے انھوں نے عرفجہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ فجر کی نمازپڑھی پھرفرمایاکہ آج کی شب(میں نے خواب میں دیکھاکہ)میرے اصحاب وزن کیے گئے چنانچہ ابوبکروزن کیےگئے پھرعمروزن کیے گئےپھرعثمان وزن کیے گئے یہ سب لوگ بھاری اترے۔ ہم کویحییٰ بن ابی الرجاء نے اپنی سند کوابوبکریعنی احمدابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازۃًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے زیاد ابن علافہ سے انھوں نے عرفجہ بن شریک سے نقل کرکے بیان ک۔۔۔

مزید

سیّدناعرفجہ رضی اللہ عنہ

  ابن خزیمہ یہ وہ شخص ہیں کہ عمربن خطاب  رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان سے ان کے حق میں کہا تھااوران کومدد کے لیےبھیجاتھا کہ ان سے مشورہ لیاکرنا کیوں کہ وہ دشمن کو فریب دیے والے اور جہاد کرنے والے ہیں ۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوعمرنے ان کو اسی طرح ذکرکیاہےکہ عرفجہ ابن خزیمہ ہیں میں نے اس کو بہت سے ان صحیح نسخوں میں دیکھاہے جو کہ نہایت معتبرہیں کہ خزیمہ غلط ہے بلکہ وہ ہرثمہ ہیں اوریہ وہی شخص ہیں جن کو عتبہ بن غزوان کی مدد کے لیے حضرت عمرنے بھیجاتھااورابوبکرصدیق نے بھی عمان میں اس سے جیفربن جلندی کومدد دی تھی (یہ اس وقت)کہ جب وہاں کے لوگ لفیط بن مالک ازدی صاحب تاج کے ساتھ مرتد ہوگئے تھے اورعرفجہ کے ساتھ حذیفہ بن محصن علقبانی اورعکرمہ بن ابی جہل تھے پس انھوں نے مرتدوں پر فتح پائی۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعرفجہ ابن اسعدبن کرب رضی اللہ عنہ

   تمیمی ہیں اس کو ابن مندہ اورابونعیم نے کہاہے اورابوعمرنے کہاہے کہ عرفجہ بن اسعدبن صفوان تمیمی ہیں یہ بصری تھےیہ وہی شخص ہیں کہ ایام جاہلیت میں واقعہ کلاب کے دن ان کی ناک کوصدمہ پہنچاتھاہم کوابومنصور بن مکارم مودب نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوالقاسم یعنی نصربن صفان نے اپنی سند کو معافی بن عمران تک پہنچاکرخبردی انھوں نے ابوالاشہب سے انھوں نے عبدالرحمن بن طرفہ بن عرفجہ سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے ان کے دادانے جاہلیت کازمانہ پایاتھااوران کے داداکی ناک واقعہ کلاب میں کٹ گئی تھی توانھوں نے چاندی کی ناک لگالی تھی وہ بدبوکرنے لگی(انھوں نےکہا)مجھ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ سونے کی ناک لگالوں اوراس حدیث کوہاشم بن بریداورابوسعیدصنعانی نے ابوالاشہب سے اپنی سند کے ساتھ نقل کرکے اس کے مثل روایت کیاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعرس ابن قیس بن سعید رضی اللہ عنہ

بن ارقم بن نعمان کندی ہیں ان کا صحابہ میں ذکرکیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے اورکہاہے کہ میں ان کو نہیں جانتاہوں بعض لوگوں نے کہاہے کہ عبداللہ بن زبیر کے فتنہ میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعرس ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ

   کندی ہیں عدی بن عمیرہ کے بھائی تھےان کا نسب ان کے بھائی عدی کے تذکرہ میں گذر چکاہےان سے ان کے بھتیجےعدی بن عدی بن عمیرہ نے روایت کی ہے۔ان کی حدیث اہل شام سے مروی ہےان سے زہدم بن حارث نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے مجھ پرقصداًجھوٹ باندھاپس اس کو چاہئے کہ اپنی جگہ دوزخ میں تلاش کرے۔اورعدی بن عدی نے عرس سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ عورتوں کی تزویج میں عورتوں ہی سے مشورہ لو۔اوریہ حدیث عدی سے روایت کی گئی ہے اورانھوں نے اپنے والد عدی بن عمیرہ سے انھوں نے عرس سے روایت کی ہے۔اورعدی بن عمیرہ اورعدی بن عدی کی نسبت میں کچھ کلام ہے وہ پہلے گذرچکاہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعرس ابن عامربن ربیعہ رضی اللہ عنہ

   بن ہوذہ بن ربیعہ اوروہی ربیعہ بکاء بن عامربن صعصعہ ہیں یہ عرفجہ اوران کے بھائی عمروبن عامر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدہوکرآئےتھےآپ نے ان کےرہنے کے مقامات یعنی مصنع اورفرارہبہ کردیےتھے اس کوابن دباغ نےبیان کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید