منگل , 26 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 14 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت سید جان محمد حضوری

جان محمد اسم گرامی، حضور خطاب، والد ماجد کا نام شاہ نوربن سیّد محمود حضوری تھا، جن کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ آبائی سلسلہ حضرت موسیٰ کاظم امام جعفر صادق﷜ اور سلسلۂ بیعت حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک منتہی ہوتا ہے۔ تربیت و تکمیل اپنے پدرِ بزرگوار اور جدِ امجد کے زیرِ سایہ پائی۔ سلسلۂ قادریہ میں بھی اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہُوئے۔ اپنے وقت کے عارفِ کامل اور مقتدائے شریعت و طریقت تھے۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں گزاری۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے ظاہری و باطنی عُلوم سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ کے حلقۂ ارادت میں جو داخل ہو جاتا تھا وُہ جلد اوجِ طریقت پر پہنچ کر حضوری ہو جاتا تھا اس لیے حضوری مشہور ہوئے ۶۵۔۱۰۶۴ھ میں بہ عہد شاہ جہان وفات پائی۔ سیّد محمد لطیف مرحوم نے اپنی کتاب تاریخ لاہور صفحہ ۱۷۱ میں آپ کی تاریخِ وفات ۱۱۲۰ھ اُس کتبہ سے نقل کر کے ۔۔۔

مزید

شیخ جان محمد قادری لاہوری

شیخ مصاحب خاں خرد لاہوری قادری کے باکمال اور صاحبِ کرامت مرید و خلیفہ تھے۔ علم و عمل اور ہدایت و تلقین میں ممتاز الوقت تھے۔ وفاتِ مرشد کے بعد سجادہ نشین ہُوئے اور تادمِ زیست عوام و خواص کی تہذیب و تکمیل میں مصروف رہے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور سکّھوں کی لُوٹ مار کے باعث پنجاب میں ہر طرف بے چینی و بد امنی پھیلی ہُوئی تھی مضافاتِ لاہور کی آبادیاں افغانی لشکر کی غارت گری اور سکّھوں کی تخت و تاراج کی وجہ سے ویران ہورہی تھیں۔ اکثر و بیشتر آبادیاں نقلِ مکانی کر گئی تھیں۔ گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آئے، طالبِ دعائے اور بچاؤ کی تدبیر کی درخواست کی۔ فرمایا: میر اعصا لے جاؤ اور اپنے گاؤں کے گرد اس سے خط کھینچ دو، اِن شاء اللہ محفوظ رہو گے چنانچہ آپ کی دُعا اور توجّہ سے ایسا ہی ہوا۔ ۱۲۰۶ھ میں وفات پائی۔ مزار موضع بابک وال میں ہے۔ ز دنیا شد چو در خلدِ معلّٰی وصالِ او ز ’’شیخِ رہنما۔۔۔

مزید

علی کشمیری

میر محمد۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن ربیعہ رضی اللہ عنہ

 بن خالدبن معاویہ بہرانی ہیں اوس (کے خاندان)کے حلیف تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے مگرابوعمرنے کہاہے  کہ ان کی شرکت بدر میں اختلاف کیاگیاہے ابن اسحاق نے توان کو بہرانی بیان کیاہے مگرابن کلبی نے انکوبہزی بہزبن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم کی اولاد سے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن اسید رضی اللہ عنہ

بن جاریہ بن اسید بن عبداللہ بن سلمہ بن عبداللہ بن غیرۃ بن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ان کی کنیت ابوبصیرتھی اوریہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہورہیں یہ وہی ہیں کہ جو صلح حدیبیہ میں کافروں کے پاس سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگ آئے تھے پھر ان کو قریش نے طلب کیاتاکہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف واپس کردیں کیوں کہ (اس زمانے میں)کفارقریش سے اس بات پرصلح کرلی تھی کہ جوشخص تمھاری طرف سے ادھر آئے گا وہ پھرتمھاری طرف لوٹادیاجائے گا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیرکو دوکافروں کی ہمراہی میں واپس کردیا انھوں نے اثناء راہ میں ایک کافرکوقتل کرڈالا اوردوسرا(یہ دیکھ کر)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھاگ آیااورابوبصیر نے بھی آپ کے پاس حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہ آپ کاعہد پورا ہوگیااورخدانے آپ سے (وفاء عہدکابار)اتار دیامیں نے اپنی ذات کومشرکوں سے بچایا تھاتاکہ مجھ کو میرے دین کی۔۔۔

مزید

سیّدناعتبان ابن مالک رضی اللہ عنہ

 بن عمربن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی سالمی غزوہ بدر میں شریک تھے مگرابن اسحاق نے ان کو اہل بدرمیں نہیں لکھادوسروں نےان کو اہل بدرمیں ذکرکیا ہے ہم کو خطیب عبداللہ بن احمد طوسی نے اپنی سند کےساتھ ابوداؤد طیالسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبردی وہ کہتے تھے میں نےزہری کو محمود بن ربیع سے روایت کرتے ہوئے سنا اور محمود بن ربیع عتبان بن مالک سالمی سے نقل کرتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کرتاتھامگرجب بہیہ آتی تھی تو مجھے اس نشیب کے پاراترنا مشکل ہوتاتھاجو کہ میرے اور مسجد کے درمیان میں تھا (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا یارسول اللہ مجھ پر اس نشیب کا اترنا بہت مشکل ہوتاہے پس اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھرتشریف لائیں اور میرے گھرکے کسی مقام پر نماز پڑھ دیں تاکہ میں اس مقام کو نماز کی جگہ ۔۔۔

مزید

سیّدناعتاب ابن شمیر رضی اللہ عنہ

 ضبی ہیں صحابی تھے۔ان سے ان کے بیٹے مجمع نے روایت کی ہے۔فضل بن وکین اوریحییٰ حمانی نے عبدالصمد بن جابر بن ربیعہ ضبی سے انھوں نے مجمع بن عتاب بن شمیرسے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ میراایک بوڑھاباپ ہے اورکئی بھائی ہیں ان کے پاس جاتاہوں شاید وہ اسلام لے آئیں پھر ان کو آپ کے پاس لاؤں آپ نے فرمایااگروہ لوگ اسلام لے آئیں تو ان کے لیے بھلائی ہے اوراگراسلام کو نامنظورکریں تو کچھ پرواہ نہیں خود پھیل رہاہے ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتاب ابن سلیم رضی اللہ عنہ

 بن قیس بن خالد بن مدلج یعنی ابوالحشر بن خالد بن عبدمناف بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں۔فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے۔اورواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے حشرکی حاکوفتح ہے اس کو ابن ماکولااوردارقطنی نےبیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتاب ابن اسید رضی اللہ عنہ

بن ابی العیص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی اموی ہیں ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۔بعض نے کہاہے کہ ابومحمدتھی۔زینب بنت عمروبن امیہ بن عبد شمس ان کی والدہ تھیں یہ فتح مکہ کے واقعہ میں ایمان لائے تھے۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ مکہ فتح کرکےحنین تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان کو مکہ کاعامل بنادیا۔اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو مکہ میں ٹھہرادیاتھاتاکہ وہاں کے لوگوں کودینی مسائل سکھائیں۔اورمحاصرۂ طائف سے لوٹنے کے بعدعتاب کومکہ کاعامل بنادیااورفرمایاکہ اے عتاب تم جانتے ہو کہ میں نے تم کو کن لوگوں پر عامل بنایاہے اگر میں ان کے لئے تم سے بہتر کسی اورکوسمجھتا تو اسی کو ان پر عامل بناتا۔جب ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ کاعامل بنایاتھا)تو ان کی عمربیس سے ایک یادوسال زیادہ تھی پھرانھوں نے لوگوں کو حج کرایایہ ۸ھ ہجری کازمانہ تھا ۔۔۔

مزید

سیّدناعبیدہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

 بن ہمام بن معاویہ ہم نے ان کا نسب مرثدہ کے نام میں ذکرکیاہے یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئےتھے اوراسلام لائے تھے ان کوابن کلبی نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید