جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نیار رضی اللہ عنہ

بن مکرم اسلمی: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ سے روایت کا شرف حاصل ہے جن لوگوں نے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ان کی تدفین کی ان میں یہ صاحب بھی شامل تھے ان کے علاوہ حکیم بن حزام، جبیر بن مطعم، ابو جہم بن حزیفہ اور بقولِ مالک بن انس ان کے دادا مالک بن ابی عامر تھے۔ ابو محمد عبد اللہ بن سوید نے باسنادہ علی بن احمد بن متویہ الواحدی سے انہوں نے ابو نصر احمد بن محمد بن ابراہیم المہرجانی سے انہوں نے عبید اللہ بن محمد الزاہد سے انہوں نے محمد بن عبد اللہ البغوی سے انہوں نے محمد بن سلیمان سے انہوں نے عبد الرحمان بن ابی زناد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے نیار بن مکرم سے یہ روایت بیان کی کہ جب سورۂ روم نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر یہ سورت لے کر کفار مکہ کے ایک مجمعے میں گئے کفار نے پوچھا کیا یہ کلام تمہارے رفیق(حضور اکرم صلی اللہ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن ابی نافع الرواسی۔ علقمہ کے دادا تھے ان سے حمید بن عبد الرحمان ابو عوف رواسی نے بیان کیا کہ جب عمر و بن مالک دربار رسالت میں حاضر ہوا تو میں بھی اس وفد میں شامل تھا اس کے بعد اس نے اپنی قوم کو اسلام لانے کی دعوت دی، لیکن انہوں نے کہا، جب تک ہم بنو عقیل سے انتظام نہ لے لیں، ہم اسلام قبول نہیں کریں گے چنانچہ انہوں نے بنو عقیل کے ایک گروہ پر حملہ کرکے ایک آدمی کو قتل کردیا اس پر پر بنو عقیل نے پیچھا کرکے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا جنگ چھڑ گئی بنو عقیل میں ایک آدمی جس کا نام ربیعہ بن منتفق تھا، وہ بطریق رجز ذیل کا شعر پڑھ رہا تھا۔ اقسمت لا اقتل الا نار سا ۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن یزید الثقفی ان کا شمار صحابہ میں کیا جاتا ہے لیکن بغیر از ثبوت ابو بکر ہذلی نے حسن سے انہوں نے جناب رافع سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان سرخی کو اور نمائشی لباس کو پسند کرتا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نبہان رضی اللہ عنہ

التمار ابو مقبل۔ مقاتل نے ضحاک سے انہوں نے ابن عباس سے والذین اذا فعلوا فاحشۃ اور اقسم الصلوٰۃ طوفی النہار; ہر دو آیات کی شان نزول کے بارے میں کہا کہ ان دونوں آیات کا تعلق نبہان التمار سے ہے ایک حسین و جمیل عورت ان سے کھجور خریدنے کو آئی نبہان نے اس کے سرین کو چھوا اس عورت نے کہا، نہ تونے اپنے بھائی کی غیر حاضری کا کوئی خیال کیا اور نہ تیرا خواہش ہی پوری ہوئی اس پر نبہان کو حد درجہ مذامت ہوئی۔ جناب نبہان نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کردیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے محتاط ہونا چاہیے تھا ممکن ہے کہ وہ کسی غازی کی عورت ہو، دربار رسالت سے اٹھے، تو روتے جارہے تھے چنانچہ تین رات وہ عبادت میں مصروف رہے اور دن کو روزے سے ہوتے اس پر والذین ازا فعلوا نافاحشۃ نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کو طلب فرمایا۔ اور نزولِ آیت کے بارے میں بتایا وہ بہ۔۔۔

مزید

سیّدنا نبہان رضی اللہ عنہ

ابن شاہین نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے ابو الزبیر نے عمر و بن نبہان سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حالتِ اسلام میں جس کے دو بیٹے فوت ہوجائیں اللہ اسے جنت میں جگہ دے گا ان سے ابو ہریرہ کی ملاقات ہوگئی پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے ایسا فرمایا تھا انہوں نے کہا ہاں ابو ہریرہ کہنے لگے بخدا میرے نزدیک یہ بشارت اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ شام اور فلسطین میرے پاس رہن ہوں ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن اثیم ابو ہند الاشجعی ایک روایت میں ان کا نام رافع مذکور ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہوئے کوفی ہیں اور کنیت سے مشہور ہیں بخاری اور مسلم نے انہیں صحابی قرار دیا ہے ان سے ان کے بیٹے نعیم نے روایت کی کہ میں اپنے چچا اور والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں موجود تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک سُرخ اونٹ کی پشت پر سے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے میرے والد نے فرمایا یہ ہیں محمد رسول اللہ تینوں نے اسے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن بازیہ ابن منیع نے ان کا نام نعمان بن راذیہ قبیلۂ ازدکا عریف اور ان کا علم بردار لکھا ہے بقول بخاری وہ حمص میں سکونت پذیر ہوگئے تھے صالح بن شریح نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے عریف الاذد(جن کا نام نعمان تھا) سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! ہم زمانہ جاہلیت میں راتوں کے پچھلے پہر سفر کرتے اب ہم بفضلہ مسلمان ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیے فرمایا اسلام میں بھی یہ عمل پسندیدہ ہے اس لیے تمہیں چاہیے کہ کسی کو بھی ایسے سفر سے منع نہ کرنا۔ ابن ابی حاتم انہیں صحابی بتاتے ہیں تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے ہاں البتہ ابو عمران کے والد کا نام بازیہ بیان کرتے ہیں اور دوسرے دو ان کے والد کا نام راذیہ بتاتے ہیں واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن بزرج جاہلی دور کے آدمی ہیں محمد بن حسن بن انس صنعانی انباری نے سلیمان بن وہب سے، انہوں نے نعمان بن بزرج سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن آخر الذکر ان کے اسلام کے قائل نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

بن ثعلبہ بن سعد بن خلاس بن زید بن مالک الا غربن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر انصاری خزرجی ان کی والدہ کا نام عمرہ دختر رواحہ تھا جو عبد اللہ بن رواجہ کی بہن تھیں مالک الاغر ان کی والدہ اور والد کا چند پشتوں کے بعد مشترکہ جد بنتا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے آٗٹھ سال سات مہینے پیشتر ان کی پیدائش ہوئی ایک روایت میں چھ برس مذکور ہیں مگر روایت اول قریب بصو اب ہے ابن زبیر کہتے ہیں کہ نعمان ان سے چھ مہینے بڑے ہیں بعد از ہجرت نعمان وہ پہلے آدمی ہیں جن کی ولادت انصار میں ہوئی۔ انہیں اور ان کے والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ان سے ان کے دونوں بیٹوں محمد اور بشیر کے علاوہ شعبی، حمید بن عبد الرحمٰن خثیمہ سماک بن حرب سالم بن ابی الجعد، ابو اسحاق سبعی اور عبد الملک بن عمیر و غیرہ نے روایت کی۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نعمان رضی اللہ عنہ

البلوی عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے(بہ سلسلہ شرکائے بدر از بنو معاویہ بن مالک بن عوف یعنی ابن مالک بن اوس جو بنوبلی کے حلیف تھے) یہ روایت سنی ابن مندہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید