بن صبرہ حضرت ابو ہریرہ کی طرح اس حدیث کا مخرج جس میں بیہودہ مجالس میں بیٹھنے کا کفارہ بیان کیا گیا ہے اہل مدینہ ہیں ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو طیبہ حجام ان کا نام میسرہ تھا اور وہ محیصہ بن مسعود انصاری کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصدلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق الخدمت ادا کیا ان کا ذکر کنیتوں کے تحت پھر بیان ہوگا تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ظریب بن عمرو بن نوفل بن عبد مناف بن قصی القرشی فتح مکہ کے موقعہ پر ایمان لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بقولِ عدوی یہ وہی آدمی ہیں جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے قرآن کی کتابت کی تھی ابو عمر کہتے ہیں ان سے کوئی حدیث مروی نہیں انہی نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عتبہ بن ابی وقاص زہری وہ سعد بن ابی وقاص کے بھتیجے تھے اور ہاشم المر کے بھائی ان سے کوئی حدیث مروی نہیں ان کا باپ عتبہ وہ شخص ہے جس بد بخت نے احد کی جنگ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو دندانِ مبارک شہید کیے تھے اور عتبہ حالتِ کفر میں فتح مکہ سے پہلے مرا تھا۔ نافع فتح مکے کے دن ایمان لے آئے یہ ابن عمر کا قول ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے مصعب زبیری سے روایت بیان کی کہ زمانہ جاہلیت میں عتبہ کا ایک خون قریش کے ذمے تھا وہ پھر ترکِ وطن کرکے مدینے آگیا تھا او وہیں مرگیا تھا اور اپنے بھائی سعد کو وصیت کرگیا تھا۔ یحیٰ بن محمود اور عبد الوہاب بن ابی حبہ نے باسناد ہما مسلم سے روایت کی کہ قتیبہ نے جریر سے انہوں نے عبد الملک بن عمیر سے انہوں نے جابر بن سمرہ سے انہوں نے نافع بن عتبہ سے روایت کی کہ ہم ایک غزوے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ک۔۔۔
مزید
بن عجیر القرشی الطلبی: انہوں نے مدینہ میں سکونت اختیار کرلی تھی بغوی وغیرہ نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے شافعی نے اپنے چچا محمد بن علی بن شافع سے انہوں نے عبد اللہ بن علی بن سائب سے انہوں نے نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت کی کہ اس نے اپنی بیوی ہشیمہ کو طلاق دی اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر گذارش کی یا رسول اللہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور میرا ارادہ ایک طلاق ہی کا تھا آپ نے مجھے رجوع کی اجازت دے دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دوسری طلاق دی اور پھر حضرت عثمان کے عہد میں تیسری۔ اس حدیث کے اسناد میں اختلاف ہے ایک روایت کے رو سے جس کے راوی نافع ہیں مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو طلاق دی چنانچہ ابو داؤد نے سنن ابو داؤد میں ابو الطاہر بن سرح سے روایت کی ابو ثور نے امام شافعی سے روایت کی اسی طرح حمیدی اور ربیع نے بھی امامِ شافع۔۔۔
مزید
بن علقمہ ابن شاہین نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ شام میں مقیم ہوگئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا ابو عمر لکھتے ہیں جناب نافع نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے ایک روایت کے رو سے انکی حدیث مرسل ہے ابو موسیٰ اور ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمر المزنی۔ ان سے ہلال بن عامر المزنی نے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر پانچ برس کے تھے یا کچھ زیادہ میرے والد مجھے ساتھ لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر شہبا پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ساتھ ساتھ وضاحت کررہے تھے بیس سواریوں کے درمیان سے نکلتا بچتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کے پاس پہنچ گیا۔ دونوں ہاتھ آپ کے گھٹنے پر رکھے پھر آپ کی پنڈلی کو چھوتا آپ کے پاؤں تک جا پہنچا اس کے بعد میرا یہ ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اور تلوے کے درمیان جا گھسا چنانچہ میں اب بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا ہاتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے تلووں کو چھو رہا ہے ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نیز حافظ ابو مسعود نے میرے شیخ ابو عبد اللہ احمد بن علی الاسواری سے بیان کیا ۔۔۔
مزید
بن عمر و بن معدی کرب ان کی حدیث محمد بن اسحاق نے اور اسحاق بن ابراہیم بن ابی بن نافع بن معدی کرب نے اپنے دادا ابی سے انہوں نے اپنے والد نافع بن معدی کرب سے روایت کی کہ میں نے اور ام المومنین عائشہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ سے وازا سألک عبادی عنی فانی قریب احبیب دعوۃ الداع اذا دعان کا مطلب دریافت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دربار خدا وندی میں گزارش کی اے خدا عائشہ کے سوال کا کیا جواب دوں اس پر جبرائیل نازل ہوئے اور کہا کہ جب ایک آدمی صدق دل اور خلوص نیّت سے خدا کو پکارتا ہے تو باری تعالیٰ جواب میں لبیک کہتا ہے اور اس کی حاجت پوری کردیتا ہے۔ [۱۔ بقرہ: ۱۸۶] ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، ابن اسحاق نے ان سے صرف یہی ایک حدیث نقل کی ہے مگر اور لوگوں نے اسحاق بن ابراہیم سے کئی احادیث نقل کی ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن عبد کلال ان کا ذکر ہم نعمان کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں نیز رعین اور ان کے بھائی شرجیل بن عبد کلال کے ترجمے میں بھی ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو بن مالک(از بنی خبیب از جذام) حزابہ کے والد تھے جنہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ابو احمد عسکری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید