جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن غیلان بن سلمہ الثقفی خالد بن ولید کے ساتھ معرکہ جندل میں شامل تھے وہاں شہادت پائی تو ان کے والد نے مرثیہ کہا اور شدید رنج و غم کا اظہار کیا: ما بال عینی لا تغمض ساعۃً الا اِعتر تنی عبرۃ تغشانی ترجمہ: میری آنکھوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایک دم بھی بند نہیں ہوتیں مگر یہ کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ جاتی ہے اسی طرح یہ اشعار بھی انہی جذبات کے حامل ہیں۔ یا نافع من للفوارس احجمت عن شدۃ مذکورۃ وطعان ترجمہ: اے نافع شاہ سواروں میں کون ایسا تھا جس نے اس شدت سے دشمن پر نیزے سے حملہ کیا ہو۔ لواستطیع جعلت منی مافعا بین اللہاۃ وبین عقد لسالی ترجمہ: اے نافع اگر ممکن ہوتا تو میں تجھے اپنے منہ اور زبان کے درمیان چھپالیتا، ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن مسعود بن عامر بن انیف بن ثعلبہ بن قنقذ بن حلاوہ بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان، غطفانی اشجعی۔ ان کی کنیت ابو سلمہ تھی غزوہ خندق کے موقعہ پر ایمان لائے یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے بنو قریظہ غطفان اور قریش میں بدگمانی پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کا مخالف بنادیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان پر آندھی، سردی اور فرشتوں کے لشکر کو مسلّط فرمادیا اور اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کفار کے شر سے بچ گئے۔ جب جناب نعیم ایمان لائے تو انہوں نے دربار رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تگو میں کفار کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے کوئی داؤ پیچ کھیلوں فرمایا اجازت ہے کیونکہ الحرب حذعۃ۔ ان کے بیٹے سلمہ نے ان سے وہ واقعہ نقل کیا ہے جسے علامہ ابن اثیر نے با تفصیل الکامل فی التاریخ میں بیان کیا ہے۔ ابو یاسر بن ابی حبہ نے با سنادہ عبد اللہ بن احمد سے روایت۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

بن کیسان ان کے بیٹے کا نام ایوب تھا۔ دمشق میں سکونت اختیار کرلی تھی ان سے ان کے بیٹے ایوب نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی ہی میری امت شراب نوشی میں پڑجائے گی اور وہ اس کا نام بدل دیں گے اور امرائے قوم اس باب میں ان کے امدادی ہوں گے جناب نافع سے ان کے بیٹے نے ایک اور حدیث بھی جس کا تعلق نزولِ عیسی سے ہے روایت کی ہے ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن مقرن: نعمان بن مقرن مزنی کے بھائی تھے جب نعمان جنگ نہاوند میں شہید ہوگئے تو جناب نعیم نے ان کی جگہ لے لی اور علم اٹھا کر جنابِ حزیفہ کو دے دیا چنانچہ ایران میں جنابِ نعیم کے ہاتھوں کئی فتوحات ہوئیں دونوں بھائی اپنےقبیلے کے اثراف میں اور نیز کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی دونوں بھائوں کے فضل و کمال کے قائل تھے ابو عمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن ہزال اسلمی: بنو مالک بن افصی سے تھے ان کے بھائی کا نام اسلم تھا اور انہیں اسلمی اور مالکی کہتے تھے مدینے میں بس گئے تھے۔ ابو احمد عبد الوہاب بن علی ابن سکینہ کو ابو غالب محمد بن حسن الماوری مناولہ نے باسنادہ ابو داؤد سے، انہوں نے محمد بن سلیمان انباری سے انہوں نے وکیع سے انہوں نے ہشام بن سعد سے انہوں نے نعیم بن ہزال سے انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک تییم لڑکا جس کا نام ماعز تھا، میرے والد کے زیر تربیت تھا اس نے قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ زنا کیا میرے والد نے اسے کہا آؤ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنا واقعہ بیان کرو، شاید وہ تمہاری مغفرت کی کوئی صورت پیدا کرسکیں میرے والد کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے ماعز نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں مجھ پر احکام الٰہی کا۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن ہمار: ایک روایت میں ہبار، ایک میں ہدار اور ایک میں حمار اور خمار مذکور ہے وہ غطفانی تھے ابو سعد سمعانی کی روایت کے رو سے وہ غطان بن سعد بن ایاس بن حرام بن جذام سے تھے جونبو جذام کا ذیلی قبیلہ ہے اور وہ اہل شام میں شمار ہوتے تھے۔ ابو الفضل بن ابو الحسن فقیہ نے باسنادہ ابو لعیلی احمد بن علی سے انہوں نے داؤد بن رشید سے، انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے یحیٰ بن سعد سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے کثیر بن مرہ سے انہوں نے نعیم بن ہمار سے روایت کی کہ ایک آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! شہدا میں افضل کون ہے؟ فرمایا وہ شخص جو صف میں کھڑا لڑتا رہے اور جعبگ*** سے منہ نہ موڑے، تا آنکہ قتل ہوجائے ایسے لوگ بہشت کے محلات میں سکونت پذیر ہوں گے اور تیرا رب انہیں دیکھ کر خوشی سے ہنسے گا اور جہاں یہ صورت حال ہو وہاں حساب ک۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیم رضی اللہ عنہ

بن یزید بنو تمیم کے وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے ابن اسحاق نے ان کا ذکر کیا ہے ابو عمر نے التحات کے ترجمے کے تحت ان کا ذکر کیا ہے مگر نام نعیم بن زید لکھا ہے غسانی نے ان کا ذکر کیا ہے جیسا کہ ہم نعیم بن زید کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیر رضی اللہ عنہ

بن جبر: ایک روایت میں نفیر بن مغلس بن نفیر اور ایک دوسری روایت میں نفیر بن مالک بن عامر الحضری آیا ہے ان کی کنیت ابو جبیر تھی، ایک روایت کے مطابق ابو خمیر بھی مذکور ہے ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ معاویہ بن صالح نے عبد الرحمان بن جبرین نفیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر دجال کا خروج میرے زمانے میں ہوا تو میں تمہارا کفیل ہوں گا ورنہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمانوں کو اس کے شر سے بچائے گا۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی لیکن عبد اللہ بن عبد الرحمان بن جابر نے اپنے والد سے انہوں نے یحییٰ بن جبیر بن نفیر سے انہوں نے نواس بن سمعا ن سے طویل تر حدیث بیان کی ہے جبیر بن نفیر نے زمانۂ جاہلیت بھی پایا لیکن انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ۔۔۔

مزید

سیّدنا نفیر رضی اللہ عنہ

بن مجیب الشمالی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے اسحاق بن ابراہیم و مشقی نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے سعید بن یوسف سے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلام سے انہوں نے حجاج بن عبد اللہ الشمالی سے(انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں دیکھا تھا انہوں نے نفیر بن مجیب سے ان کی حدیث روایت کی۔ ان سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں ستر ہزار وادیاں ہیں اور ہر وادی میں ستر ہزار گھاٹیاں ہیں اور ہر گھاٹی میں ستر ہزار مکان ہیں اور ہر مکان میں ستر ہزار بچھو ہیں ہرکافر اور منافق کو ان گھروں میں بند کیا جائے گا یہ ابن مندہ کا قول ہے ابو نعیم کہتے ہیں ابن مندہ سے اس نام کی روایت میں غلطی ہوئی ہے یہ روایت سفیان بن مجیب کی ہے انہوں نے با سنادہ ہیشم بن خارجہ سے انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہ۔۔۔

مزید

سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ

یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو شام سے حبشہ آگئے تھے چنانچہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی الذین آتینا ھم الکتاب من قبلہ ھم بہ یومنون ۔ ہم ابرہہ کے ترجمے میں اس کا ذکر کر آئے ہیں ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید