اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

پسنديدہ شخصيات

جدملیح بن عبداللہ انصاری الخطمی رضی اللہ عنہ

جدملیح بن عبداللہ انصاری الخطمی رضی اللہ عنہ،ابواحمدعسکری اورابن ابی عاصم نےان کاذکرکیا ہے، یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے الحوطی اوررحیم سے،انہوں نے ابن ابی فدیک سے،انہوں نے عمروبن محمداسلمی سے،انہوں نے ملیح بن عبداللہ انصاری سے، انہوں نےوالدسے،انہوں نے داداسےروایت کی،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا،پانچ انبیاء کی سنت ہیں، (۱) حیا (۲)حلم (۳) حجامتہ (۴) مسواک (۵) اورخوشبولگانا۔ ۔۔۔

مزید

حسین

حضرت شیخ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

صورت و سیرت میں سلف کے آئینہ خلف کے فخر خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابراہیم ابن خواجہ نظام الدین ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ تھیں اور رشتہ میں کاتب حروف کی پھوپھی لگتی تھیں۔ کاتب حروف اور اکثر ان اہل ارادت کا گمان ہے جو ان بزرگوار شیخ زادہ سے ملے ہیں کہ آپ سے کوئی صغیرہ و جود پزیر نہیں ہوئی۔ شیخ عزیز الدین کا باطن خدا تعالیٰ کی یاد سے معمور تھا اور ظاہر تبسم اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ رکھتے تھے۔ آپ کا دلِ مبارک مراقبہ اور ذکر خفی سے منور اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع تھا اور یہ سب باتیں اس برکت سے حاصل ہوئی تھیں کہ آپ نے حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور دستر خوان بچھنے کے وقت ہمیشہ حاضر رہتے تھے اگر کسی وقت خواجہ محمد اور خواجہ موسی جنہیں سلطان  المشائخ سے دستر خوان کی دعا پڑھنے کا عہدہ ملا تھا حاضر نہ ہوتے تو یہ بزر گزادے دستر خوان کی دعا پڑھتے اور جب تک آپ ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

شیخ زادہ دلکشا والی ولایت والا خواجہ عزیز الملۃ والدین صوفی ہیں۔ ان بزرگوار کی والدہ محترمہ بی بی مستورہ شیخ شیوخ  العالم فرید الحق والدین قدس سرہ العزیز کی صاحبزادی ہیں۔ یہ شیخ زادے بے شمار فضائل اور انگنت معانی و لطائف رکھتے تھے اور حضرت سلطان المشائخ کے روح افزا ملفوظات سے ایک کتاب مرتب کی تھی جسے تحفۃ الابرار فی کرامت الاخیار کے نام سے آج تک شہرت حاصل ہے اور جو سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے اکثر اوقات گزری ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے حضور میں دستر خوان بچھایا گیا تھا اور تمام حاضرین کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ مولانا وجیہہ الدین پائلی ان شیخ زادے سے اونچی جگہ بیٹھ گیا۔ سلطان المشائخ نے دیکھا تو فرمایا۔ مولانا! جس طرح میں اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ کوئی مجعد متعمم سے بلند جگہ بیٹھے اسی طرح میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی متعمم میرے مخدوم زادوں سے اونچے مقام پر ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

فخر زہاد جمال عباد  خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابو بکر مصلّے دار خاص ہیں جو اپنے زمانہ میں علم و تقوی اور ورع و احتیاط  میں لاثانی اور عدیم النظیر تھے۔ اور سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف سے مشرف و ممتاز تھے۔ اس بزرگ نے سلطان المشائخ کے چند ملفوظات ایک جگہ مرتب کر کے ایک دیوان میں جمع کیے ہیں اور ان کا نام مجموع الفوائد رکھا ہے۔ اس تالیف میں آپ نے اپنا نام عبد العزیز ابن ابو بکر خواہر زادہ سلطان المشائخ لکھا ہے۔ سبحان اللہ سالہا سال گزر گئے ہیں یہ عزیز الوجود شخص راہ طریقت پر سیدھا چل رہا ہے اور پچپن سے بڑھاپے تک کسی فرض نماز کی تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی ہے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ مسجدوں میں گشت لگاتے پھرتے اور جب تک اولی نہ پاتے نیت نہ باندھتے جب آپ عین عالم شباب میں قدم رکھا اور تعلیم و تعلم میں غلو کیا تو جو کچھ آپ حاصل کرتے تھے اسے عمل کے ساتھ مقرون کرتے تھے یعنی آپ کا علم عم۔۔۔

مزید

انور

حضرت شیخ۔۔۔

مزید

ریحان حسین رامپوری

حضرت مولانا۔۔۔

مزید

حضرت شاہ سلیمان قادری

آپ حضرت شاہ معروف چشتی قادری﷫(خوشابی) کے کاملین خلیفوں اور اکابر سجادہ نشینوں سے تھے۔ جذب، عشق و محبت، سکر، حالت اور خوارق و کرامت میں بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ رکھتے تھے۔ چار سال کی عمر میں حضرت شاہ معروف چشتی﷫ کی نظر مبارک میں منظور ہوئے اور آپ پر سکر اور جذب کی حالت غالب ہوگئی۔ آپ﷫ کے والد صاحب میاں[1] منگو موضع بھلوال[2] میں سکونت رکھتے تھے۔ ایک بار حضرت شاہ معروف﷫ اس گاؤں میں تشریف لائے اور میاں منگو کے گھر میں رات رہے۔ تمام رات وُہ اُن کی خدمت میں حاضر رہے۔ اُس وقت شاہ سلیمان ابھی خوردسال تھے۔ اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہے تھے۔ جب شاہ معروف﷫ کی نظر شاہ سلیمان کے جمالِ باکمال پر پڑی تو نہایت شفقت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا اور آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور میاں منگو کو فرمایا کہ یہ لڑکا ہماری امانت ہے اور یہ ایسا کامل مرد ہوگا کہ جہان اس کے فیض سے بہرہ ور ہوگا۔ جب شاہ معروف﷫ رخصت ہو کر۔۔۔

مزید

حضرت محمد صالح اکبر آبادی

اکابرِ مشائخ قادریہ سے تھے۔ شیخ الشیوخ لقب تھا۔ جامع علوم و ظاہر و باطن تھے۔ سکر و جزب، عشق و محبّت، قناعت و صبر اور توکل و استغنا میں اپنے عہد میں ممتاز تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کی ذاتِ گرامی سے اخذِ فیض کیا۔ بقول صاحب مخبر الواصلین ۱۰۶۷ھ میں وفات پائی۔ مرشد الارشاد شیخ دوجہاں گشت سرور سالِ ترحیلش عیاں   پیرِ حق آگاہ صالح متقی!! زبدۂ دیں شاہ صالح متقی!! ۔۔۔

مزید