اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا عبداللہ ابن غنمہ مزنی رضی اللہ عنہ

ابن غنمہ مزنی۔صحابی ہیں فتح مصر میں شریک تھے۔محمد بن عمرواقدی نے ان کا ذکرکیاہے کہ یہ اسکندریہ کی دوسری فتح میں شریک تھے صحابہ میں ان کا ذکرکیاجاتاہے۔یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نزال رضی اللہ عنہ

بن سیرۃ الہلالی ان کا تعلق بنو ہلال بن عامر بن صعصعہ سے تھا ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے لیکن مجھے ان سے کسی روایت کا علم نہیں ہاں البتہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی ہے لیکن ان کا شمار کبار فضلائے تابعین میں ہوتا ہے ان سے شعبی عبد الملک بن میسرہ اور اسماعیل بن رجاء نے روایت کی ہے ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نُصَیْر رضی اللہ عنہ

ان کا نسب معلوم نہیں ہوسکا حضرمی اور بقوی نے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث رہ ایت کی کہ آپ نے نقصان دہ اشیا کی تقسیم سے منع فرمایا ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معلی رضی اللہ عنہ بن لوذان بن حارثہ

بن لوذان بن حارثہ بن زید بن ثعلبہ بن عدی بن مالک بن زید مناہ بن تیم بن عبد حارثہ بن مالک بن عضب بن مالک بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی۔ یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن وقدان رضی اللہ عنہ

ابن عمروبن وقدان بن عبدشمس بن عبدودعامری معروف بہ ابن سعدی۔ان کا تذکرہ عبداللہ بن سعدی کے نام میں گذرچکاہے ابوعمرنے ان کا تذکرہ کیاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا نضرہ رضی اللہ عنہ

سیّدنا نضرہ رضی اللہ عنہ بن اکتم الخزاعی ایک روایت میں انصاری آیا ہے۔ عبد الوہاب بن علی الامین نے باسنادہ ابو داؤد سے انہوں نے حسن بن علی اور ابن ابی السری المعنی سے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عبد الرزاق نے انہوں نے جریج سے انہوں نے صفوان بن سلیم سے انہوں نے ایک انصاری سے سنا ابن ابی سری کی روایت میں ’’من اصحاب النبی‘‘ مذکور ہے پھر سب راویوں نے اس پر اتفاق کیا اور انصاری کا ذکر نہیں کیا ان کا نام نضرہ تھا وہ کہتے ہیں میں نے ایک کنواری لڑکی سے خفیہ طور پر نکاح کی جب میں نے اس سے مجامعت کی تو وہ حاملہ نکلی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چونکہ تم نے اس سے جماع کیا ہے اس لیے مہر تو ادا کرنا پڑے گا اور لڑکا بعد از پیدائش غلام شمار ہوگا بقول حسن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاجلدھا یعنی اسے درے لگاؤ بروایت ابن ابی السری حضور نے فرمایا ’’فاجلد وہا‘‘ ایک روایت میں ’’محدوہا‘‘ ۔۔۔

مزید

سیّدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ

بن جندب بن کعب ایک روایت میں ناجیہ بن کعب بن جندب ہے، ایک اور روایت میں ناجیہ بن جندب بن عمیر بن یعمر بن دارم بن عمر و بن وائلہ بن سہم بن مازن بن سلامان بن اسلم الاسلمی آیا ہے حضور اکرم کی قربانی کے جانوروں کے رکھوالے تھے ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے کہتے ہیں ان کا اصلی نام ذکوان تھا اور چونکہ قریش سے بچ کے نکل آئے تھے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ناجیہ(نجات یافتہ) رکھ دیا۔ ابراہیم بن محمد وغیرہ نے محمد بن عیسیٰ سے روایت کی انہوں نے کہا کہ ہم نے ہارون بن اسحاق ہمدانی سے انہوں نے عبدہ بن سلیمان سے انہوں نے ہشام بن عردہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ناجیہ خزاعی سے سنا، انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ قربانی کا جو اونٹ لاچار ہوجائے اسے کیا کیا جائے فرمایا اس کو ذبح کرکے اس کے پاؤں خون سے آلودہ کردو لوگ خود بخود کھالیں گے۔ محمد بن عیسی۔۔۔

مزید

سیّدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ

بن حارث الخزاعی: امام احمد حنبل نے اپنی مسند میں ان صاحب کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کا رکھوالا گردانا ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قربانی کے جو اونٹ بیمار ہوجائیں میں ان کو کیا کروں فرمایا انہیں ذبح کرکے ان کے پاؤں پر ان کا خون لگادو اور ان کا پہلو بدل دو اور لوگوں کو ان کے قریب آنے سے مت روکو وہ انہیں کھا جائیں گے۔ عیسیٰ بن حضرمی بن کلثوم بن ناجیہ بن حارث الخزاعی المصطلقی نے اپنے وادے کلثوم سے انہوں نے اپنے والد ناجیہ سے روایت کی کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ بنو مصطلق سے بہ مقام مریسیع ہوا اور وہاں وہ واقعات پیش آئے جو تقدیر خداوندی میں مقدر ہوچکے تھے۔ پھر بنو مصطلق کو خدا نے ہدایت فرمائی اور انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معذرت قبول فرمائی، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی س۔۔۔

مزید

سیّدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ

بن خفاف ان کی کنیت ابو خفاف غنوی تھی ان کا شمار صحابہ میں درست نہیں ہے ان سے ابو اسحاق سبیعی نے رویت کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے ابو نعیم کا قول ہے کہ بعض متاخرین نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ناجیہ رضی اللہ عنہ

الطفادی۔ ان کا نام صحابہ میں مذکور ہے براء بن عبد اللہ غنوی نے واصل سے روایت کی کہ انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ناجیہ الطفاوی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر مغرب عشاء اور فجر کی نمازیں ادا فرمائیں۔ ابو نعیم اور ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید