سیّد حامد نام، گنج بخش لقب۔ سیّد عبدالرزاق بن سیّد عبدالقادر ثانی گیلانی اوچی کے فرزند رشید تھے۔ اپنے والد گرامی ہی کے زیر سایہ تعلیم و تربیت پائی تھی۔ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ شریعت و طریقت اور معرفت و حقیقت میں وحیدالعصر تھے۔ سلسلہ قادریہ میں اپنے زمانے کے ممتاز بزرگ تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے استفادہ حاصل کیا۔ شاہانِ وقت بھی آپ کی عقیدت مندی کو باعثِ فخر و مباہات جانتے تھے۔ تمام عمر ہدایت خلق میں گزاری۔ اپنی زندگی ہی میں خلافت و سجادہ نشینی اپنے فرزند جمال الدین ابوالحسن موسیٰ کو تفویض کردی تھی۔ آپ کےخلفاء میں سے شیخ سیّد شیر علی شاہ ملتانی اور شیخ داؤد کرمانی زیادہ مشہورِ زمانہ ہوئے ہیں۔ ۹۷۸ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ مزار اوچ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ شیخ حامد گنج بخشِ دو جہاں شیخِ محبوبی است سالِ وصلِ او ۹۷۸ھ شد بملکِ خلد زیں فانی س۔۔۔
مزید
داؤد نام، سیّد فتح اللہ بن سیّد مبارک باپ کا نام تھا۔ سلسلۂ نسب امام موسیٰ کاظم تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کے والد عرب سے آکر ہندوستان میں پہلے ہیبت پور (پٹی) میں پھر قصبۂ چونی وال (چونیاں) سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ آپ اسی مقام پر اپنے والد کی وفات کے چار ماہ بعد پیدا ہوئے۔ سنِ رشد کو پہنچے تو حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی کے شاگرد مولانا اسماعیل لاہوری کی خدمت میں آکر علومِ ظاہری کی تکمیل کی پھر حضرت سیّد حامد گنج بخش گیلانی اوچی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سلسلۂ قادریہ کی تکمیل کے بعد خرقہ و خلافت سے ممتاز ہوئے اپنے زمانے کے صاحبِ حال و قال اور جامع شریعت و طریقت بزرگ گزرے ہیں۔ زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں بھی بلند مقامات پر فائز تھے۔ تمام رات کبھی قیام، کبھی سجود، کبھی رکوع اور کبھی قعدہ میں گزرجاتی تھی۔ کثرتِ ریاضت و مجاہدہ سے آپ کی نسبتِ خاص حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم س۔۔۔
مزید
سلسلۂ قادریہ کے مشائخ عظام اور اولیائے ذوی الاحترام سے ہیں۔ حضرت شاہ لطیف[1] برّی قادری سہروردی قدس سرہٗ کے نامور مرید خلیفہ تھے۔ علم و فضل و زہدو تقویٰ تھے اپنے معاصرین میں ممتاز تھے۔ اپنے مرشد کی وفات کے بعد عراق و عجم کی سیاحت کو نکلے۔ پہلے نجفِ اشرف پہنچے۔ دو سال تک حضرت علی کے مزار اقدس پر اعتکاف کیا۔ وہاں سے کربلا آئے۔ حضرت حسین کے مزار پر تین ماہ حاضری دیتے رہے وہاں سے مکہ معظمہ آئے۔ مناسکِ حج ادا کیے۔ یہاں سے مدینہ منورہآئے روضۂ رسول اکرمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ پھرمشہد مقدس آئے۔ حضرت علی رضا امام ہشتم اثنا عشری کے مزار پر حاضری دی۔ یہاں سے بشارت پائی کہ ایک مرد حق فلاں پہاڑ کی غار میں بیٹھا ہوا ہے جو سلسلۂ قادریہ ہی سے منسلک ہے اُس کے پاس جاؤ اور اپنا حصّہ لو جو اگرچہ وہ مرد مجذوب ہے مگر پیر روشن ضمیر ہے۔ چنانچہ یہ اشارۂ غیبی پاتے ہی آپ وہاں پہنچے دیکھا کہ غار میں ایک مرد دیرینہ۔۔۔
مزید
حضرت سیّد مبارک حقانی گیلانی اوچی کے فرزند رشید تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد ہی کے سایۂ عاطفت میں پائی تھی۔ اُنہی کے مرید و خلیفہ بھی تھے۔ عابدو زاہد، متقی و صاحب الارشاد تھے۔ اوچ سے نقلِ مکان کرکے لاہور آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولِ عام عطا فرمایا تھا تمام عمر درس و تلقین میں گزاری۔ ۹۸۶ھ میں وفات پائی۔ مرقد گورستان میانی میں ہے۔ بجنت رفت زیں دنیاے فانی! وصالش مخزن الاسرار فرما ۹۸۶ھ چوں آں مقبل مبارک میر میراں بخواں ’’مقبل مبارک میر میراں‘‘ ۹۸۶ھ ۔۔۔
مزید
ابوبردہ بن قیس اشعری جو ابو موسیٰ اشعری کے بھائی تھے،ہم ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ بن قیس کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ابوبردہ کا نام عامر تھا،جوہم پیشتربیان کر آئے ہیں۔ ابواسامہ نے یزید بن ابی بردہ سے،انہوں نے ابوموسیٰ سے روایت کی،وہ کہتے ہیں کہ ہماری قوم کے پچاس سے دوچارزیادہ آدمی یمن سے روانہ ہوئے،ہم تین بھائی تھے،ابوموسیٰ،ابورہم،ابوبردہ ،ہمارا جہاز ہمیں نجاشی کے پاس حبشہ میں لے گیا،جہاں جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھی ٹھہرے ہوئے تھے،ہم سب اپنے جہاز میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر پہنچے،خیبر فتح ہوچکاتھا۔ ابویاسر بن ابو حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے انہوں نے عاصم الاحول سے،انہوں نے کریب بن حارث بن ابوموسیٰ سے،انہوں نے ابوبردہ بن قیس سے روایت کی کہ حضورِ اکرم نے دعا فرمائی،اے اللہ،میری امت تیری راہ می۔۔۔
مزید
ابوبردہ ہانیٔ بن تیار،بقول ابن اسحاق ان کا نام ہانیٔ بن عمرو ہے،ہشیم نے اشعث بن عدی بن ثابت سے، انہوں نے براء سے روایت کی،کہ میرے ماموں حارث بن عمرو میرے پاس سے گزرے، ابوعمرکہتے ہیں،کہ زیادہ تر ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے،ہانیٔ بن تیار بن عمروبن عبیدبن کلاب بن دہمان بن غنم بن ذبیان بن ہمیم بن کاہل بن ذہل بن ہنی بن بلی بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ(اور انصار کے بنوحارثہ ان کے حلیف تھے)عقبۂ ثانیہ میں یہ بھی ستر آدمیوں میں موجود تھے،اور تمام غزوات میں حضورِاکرم کے ساتھ رہے۔ عبیداللہ بن سمین نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ حاضرین عقبہ از بنو حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس وابوبردہ بن نیارجن کا نام ہانیٔ بن نیا ر بن عمرو بن عبید بن کلاب بن دہمان بن غنم بن ذبیان بن ہمیم بن کا ہلّ بن ذیل بن ہنی بن بلی ہے،جوان کا حلیف تھا،اوراسی اسنادسے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ ب۔۔۔
مزید
ابوبردہ،غیر منسوب ہیں،ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں ان کا ذکر کیا ہے،انہوں نے سلام سے، انہوں نے سماک بن حرب سے،انہوں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابوبردہ سے روایت کی(اور یہ ابن ابو موسیٰ نہیں ہیں)کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،تم پی لو لیکن نشے سے بچو،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوبردہ ،جمیع بن عمیر کوفی کے ماموں تھے،ایک روایت میں ابوبردہ بن نیار آیا ہے،شریک نے وائل بن داؤد سے،انہوں نے جمیع بن عمیر سے،انہوں نے اپنے ماموں ابوبردہ سے روایت کی،حضورِ اکرم نے فرمایا،ہر آدمی کی بہترین کمائی اس کا بیٹا ہے،امام ثوری نے وائل سے روایت کی،اور بقولِ سعید بن عمیر انہوں نے اپنے ابوبردہ سے روایت کی اور یہی زیادہ مشہور ہے،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوبرقان،بنوسعد بن بکر بن ہوازن سےحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی چچاتھے،جعفر نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،مداینی نے عیسیٰ بن یزید سے روایت کی،کہ ابوبرقان حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا،یارسول اللہ، میں نے محسوس کیا ہے،کہ آپ کی قوم کے آدمی نہ تو آپ کے سوا کسی اور سے اتنی محبت کرتے ہیں اور نہ آپ سے زیادہ کسی اور کی اتنی تعریف کرتے ہیں،لیکن ان کی گفتگو غیر واضح ہوتی ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اے ابوبرقان!کیاتم نے حیرہ دیکھا ہے،انہوں نے کہا نہیں، فرمایااگر تمہیں لمبی زندگی عطاہوئی،تو تم سن لوگے،کہ وہاں جانے والے کہ نہ تو کوئی خطرہ پیش آئے گا،اور نہ کسی تنگی ترشی سے واسطہ پڑے گا،ابویرقان کہنے لگا،یارسول اللہ ،میں آپ کی بات کوسمجھ نہیں سکا،میں فلاں فلاں گھاٹی سے آیا ہوں،اور مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،اے ۔۔۔
مزید
ابوبرزۃ اسلمی!ان کے اور ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے،اس کے بارے میں صحیح روایت نفلہ بن عبید ہے،امام احمد بن حنبل اور ابن معین کا یہی قول ہے،بعض نے ان کا نام نضلہ بن عبداللہ اور بعض نے نضلہ بن عابد بیان کیا ہے،الخطیب ابوبکر نے ہیثم بن عدی سے روایت کی،کہ ابوبرزہ کا نام خالد بن نضلہ تھا،واقدی لکھتے ہیں کہ ان کے لڑکے کا خیال تھا کہ ان کا نام عبداللہ بن نضلہ تھا،او ر بقول ابوعمر نضلہ کا نسب یوں تھا۔ نضلہ بن عبید بن حارث بن جیال بن دعبل بن ربیعہ بن انس بن جذیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم ابن حبیب اور ابن کلبی نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے۔ انہوں نے بصرہ میں سکونت اختیا رکر لی تھی،اور وہاں ان کا ایک مکان بھی تھا،وہاں سے و ہ خراسان کو چلے گئے،اور مرو میں ٹھہر گئے اور وہاں سے پھر بصرے میں آگئے۔ عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے روایت کی کہ انہیں ان کے والد نے بتایا کہ ا۔۔۔
مزید