ابوریطہ،انہیں صحبت ملی،ان کی لڑکی ریطہ نے ان سے روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،اگرایک کھانے کے بعد برتن کو اچھی طرح صاف کردے،تو میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ وہ پیالہ بھرکر اللہ کی راہ میں خیرات کردے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالصباح انصاری اکبر،بعض اہلِ علم نے ان کے نام میں صاد کی جگہ ضاد استعمال کیاہے اوربقول ابوموسیٰ جعفرنے اسے باب ضاد میں ذکرکیا ہے،اورہم بھی اگلے باب میں ذکرکریں گے،ابوموسیٰ اورابوعمر نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوصعیر،ثعلبہ بن ابوصعیربن زیدبن سنان بن مہتجن بن سلامان بن عدی بن صعیربن حرازبن کاہل بن عذرہ بن سعد بن ہذیم العذری کے والد تھے،ان کی حدیث کے راوی ان کے بیٹے ثعلبہ ہیں۔ خالد بن ابوخداش نے عمادبن زید سے ،انہوں نے نعمان بن راشدسے،انہوں نے زہری سے، انہوں نے ثعلبہ بن ابوصعیرسے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،کہ ہر چھوٹے بڑے ،آزاداورغلام،مرداورعورت کا فطرانہ ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجورہے،محمد بن موکل نے اسے مؤجل سے،انہوں نے حماد سے،انہوں نے زہری سے، انہوں نے ثعلبہ بن ابومالک سے اورانہوں نے اپنے والدسے روایت کی،اورابنِ جریح نے اسے زہری سے،انہوں نے عبداللہ بن ثعلبہ سے مرسلاً روایت کی،اورہمام نے بکرالکوفی سے ،انہوں نے زہری سے،انہوں نے عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیرسے،انہوں نے اپنے والدسے روایت کیا،اورمعمر نے زہری سے،انہوں نے اعرج سے،انہوں نے ابوہریرہ سے روای۔۔۔
مزید
ابوصفرہ،ان کا نام ظالم بن سراق تھا،اورایک روایت میں سارق بن صبیح بن کندی بن عمرو بن عدی بن وائل بن حارث بن عتیک بن عمران بن عمرو مزیقیابن عامربن ماء السماءبن حارثہ بن امراءالقیس بن ثعلبہ بن مازن بن ازدلازدی العتکی ہے،اوروہ مہلب بن ابوصفرہ کے والد تھے،بصرے میں سکونت تھی،حضورکے عہد میں مُسلمان ہوگئے تھے،لیکن درباررسالت میں حاضرنہ ہوسکے، البتہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں دس ۱۰ بیٹوں کے ہمراہ جن میں ان کے چھوٹے بیٹے مہلب بھی شامل تھے حاضرہوئے تھے،حضرت عمر انہیں دیکھتے رہے،اورعلامات کا اندازہ لگاتے رہے،پھرابوصفرہ سے کہنے لگے،تمہارایہ بیٹاسب کا سردارہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابوصفرہ نے اپنے مال کی زکوۃ حضورِاکرم کو اداکی،مگرزیارت سے محروم رہے ایک اورروایت میں ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ حضرت صدیق کے دربارمیں حاضرہوئے تھے،تینوں نے انکاذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوصفوان مالک بن عمیرہ،ایک روایت میں مالک بن عمیر،ایک میں سویدبن قیس سلمی بروایتے ربیعہ بن نزار سے تھے،ابواحمد عسکری نے انہیں بنواسد بن خزیمہ میں شمارکیا ہےاوران کا نام ابوصفوان مالک بن عمیر اسدی لکھاہے۔ عمروبن مرزوق نے شعبہ سے ،انہوں،سماک بن حرب سے،انہوں نے ابوصفوان مالک بن عمیر سے روایت کی،کہ میں نے حضورِاکرم کے لئے اس شخص سے شلوارکاکپڑا تین روپے کا خریدا،اس نے کپڑاماپا،اورتھوڑاسازیادہ دیاابوفطن عمروبن ہیشم نے شعبہ سے ،انہوں نےسماک سے،انہوں نے ابوصفوان سے اسی طرح روایت کی۔ اورثوری نے اسے سماک سے،انہوں نے سوید بن قیس سے روایت کی،کہ انہوں نے اورمحزفتہ الہجری نے ہجرسے بچنے کے لئے کچھ گندم خریدا،اتنے میں حضورِاکرم وہاں تشریف لے آئے اور مجھ سے ایک آدمی نے شلوار کے لئے کپڑاخریدا،آپ نے اپنے والد سے فرمایا،کپڑاقیمتاً ماپ کر دو،اور تھوڑا سے زیادہ دے دیاکرو،تینوں ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوصفیہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،مہاجرتھے،عبدالواحد بن زیاد نے یونس بن عبید سے انہوں نے اپنی والدہ سے سناکہ انہوں نے ایک مہاجرصحابی کو جن کا نام ابوصفیہ تھا،اورہمارے ہمسائے میں رہتاتھا،دیکھاکہ وہ ہرصبح کو سنگریزوں پر تسبیح پڑھاکرتے تھے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوموسیٰ انصاری مدنی ،انہیں صحبت ملی،عبداللہ بن عبدالرحمٰن سمرقندی نے محمد بن یزید البزاز سے، انہوں نے اپنے چچا نافع ابوسہیل سے،انہوں نے ابوموسیٰ انصاری صحابی سےجوآپ کے منتخب صحابہ سے تھے،روایت کی کی ہم لوگ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرتھے،حضورنے فرمایا،ایمان کی چکی چل رہی ہے،تم بھی قرآن کے ساتھ ساتھ گھومتے جاؤ،جدھر کوگھومے،صحابہ نے پوچھا، یارسول اللہ!اگرہم میں اس کی ہمت نہ ہوتو،فرمایا،عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرح ہوجاؤ، جنہیں آروں سے چیرا گیا،اورسولیوں پر لٹکادیاگیا،کیونکہ نیکی کی موت بدکاری کی زندگی سے بہترہے، ہاں سنو،یہ بنی اسرائیل کے امراء تھے جواِن حواریوں پرظلم کرتے تھے،اورانہیں کوئی روکتا نہیں تھا،اگرچہ وہ انہیں کھلاتے پلاتے اپنے گھروں میں مجالس میں آنے کی اجازت دیتے تھے اور امداد کرتے تھے،مگران کے اس سلوک کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہوگئی۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے ۔۔۔
مزید
ابومویہبہ،رسولِ کریم کے آزادکردہ غلام تھے،اوروہ بنومزینہ کے مولد تھے،حضورِ اکرم نے انہیں خرید کرآزاد کردیاتھا،معرکہ مریسیع میں موجودتھے،لیکن ان کا نام نہیں معلوم ہوسکا،ان سے عبداللہ بن عمروبن عاص نے روایت کی۔ ابوجعفرنے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن ربیعہ سے، انہوں نے عبیدسےجوحکم بن ابوالعاص کے آزادکردہ غلام تھے انہوں نے عبداللہ بن عمروبن عاص سے،انہوں نے ابومویہبہ سےروایت کی،کہ ایک رات کوحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا،اے ابومویہبہ مجھے حکم ہواہے کہ میں جنت البقیع والوں کی مغفرت کی دعا مانگوں،میں آپ کے ساتھ چل پڑا،ہم قبرستان میں پہنچے حضورِ اکرم نے ہاتھ اٹھائے اور ان کی مغفرت کی دعافرمائی اور فرمایا،اے اہل قبور،جس حالت میں تم ہو وہ اس حالت سے آسان تر ہے،جوتمہارے بعد آنے والے لوگوں کو پیش آئے گی،فتنے سیاہ رات کے اندہیرے کی طرح مسلس۔۔۔
مزید
ابوعثمان نہدی،ان کا نام عبدالرحمٰن بن مِل بن عمروبن عدی بن وہب بن سعد بن خزیمہ بن رفاعہ بن مالک بن نہد بن زیدالقضاعی نہدی ہے،حضورِاکرم کے عہد میں اسلام قبول کیا اور مال کی زکوٰۃ ادا کی،لیکن آپ کی زیارت سے محروم رہے،لیکن حضرت عمر کے دَور خلافت میں جلولأ اور قادسیہ کے معرکوں میں شریک رہے،ان کا شمار کبارتابعین میں ہوتا ہے،انہوں نے عمروبن مسعود سے روایت کی،ان کا ذکرپہلے گزرچکا ہے،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواروی،دوسی،حجازی،یہ صحابی ذوالحلیفہ میں قیام کرتے ،ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابو واقد صالح بن محمد بن زائدہ مدنی نے اور سلیمان بن حرب نے وہیب سے،انہوں نے ابوواقد صالح بن محمد سے،انہوں نے ابواروی سے روایت کی،کہ میں نمازعصر حضورِاکرم کے ساتھ پڑھکرغروب آفتاب سے پہلے شجرہ پہنچ جایا کرتا تھا۔ احمد بن عثمان بن ابوعلی نے ابورشید عبدالکریم بن احمد بن منصور بن محمد بن سعیدسے،انہوں نے ابومسعود سلیمان بن ابراہیم بن محمد بن سلیمان سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن علی بن موسیٰ بن مردویہ سے،انہوں نے ابراہیم بن محمد بن ابراہیم دبیلی سے،اور دعلج بن احمد سے،انہوں نے محمد بن علی بن زید سے،انہوں نے بشر بن عیسیٰ بن مرحوم العطارسے،انہوں نے نضر بن عربی سے،انہوں نے عاصم بن سہیل سے،انہوں نے محمدبن ابراہیم سے،انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نےابواروی سے روایت کی،کہ میں حضورِ اکرم کے پاس بیٹھاہواتھاکہ ۔۔۔
مزید