جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مالک بن احمررضی اللہ عنہ

ہمیں ابوموسیٰ نے بتایا، اسے حسن بن احمد نے اسے ابونعیم نے، اسے سلیمان بن احمد نے، اسے محمد بن ہارون بن بکار بن بلال نے اور اسے صفوان بن صالح نے اسے ولید بن مسلم نے اسے سعید بن منصور الجذامی نے اور اُس نے اپنے دادا مالک بن احمر کی زبانی بیان کیا کہ جب انہیں تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا علم ہوا، تو انھوں نے دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور درخواست کی کہ انھیں تبلیغ دین کے بارے میں اجازت نامہ عطا فرمایا جائے۔ چنانچہ آپ نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر یہ تحریر لکھ دی: ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ رقعہ محمد رسول اللہ کی طرف سے مالک بن احمد اور ان مسلمانوں کو جو اس کے تابع فرمان ہیں، بطور امان لکھ کردیا جا رہا ہے کہ جب تک وہ نماز قائم کیے رکھیں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، مسلمانوں کی پیروی کریں گے اور کفار سے قطع تعلق کیے رکھیں گے۔ مالِ غنیمت سے خمس ادا کریں گے۔ اور ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی ا للہ عنہ

بن اخیمر الباہلی: بعض لوگوں نے اخامر لکھا ہے۔ لیکن صحیح اخیمر ہی ہے۔ ان سے ابو رزین الباہلی نے روایت کی ہے کہ ہمیں ابوالفرج بن ابی المرجا نے، ابن ابی عاصم سے۔ اس نے دحیم سے۔ اس نے ابن ابی فدیک سے اُس نے موسیٰ بن یعقوب سے۔ اس نے ابورزین باہلی سے۔ اُس نے مالک بن اخیمر سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماے سنا کہ اللہ تعالیٰ صنفور (دیوث) سے نہ تو صرف (اللہ کی راہ میں خرچ) کو قبول فرماتا ہے اور نہ عدل کو پوچھا گیا، یا رسول اللہ! صنفور کون ہوتا ہے، فرمایا، دیوث، جسے اس کی پرواہ نہ ہو کہ کون اس کی بیوی کے پاس اٹھتا بیٹھتا ہے، تینوں نے اس کی تخریج کی ہے، ابو عمر کہتا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے، کیونکہ راوی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، اس نے عبدالملک بن مروان کے عہدِ حکومت میں وفات پائی، میں نے اس حدیث کو صحاح کے کئی نسخوں میں ابو عمر سے مروی دیکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ازہر: بعض نے ان کے والد کا نام ابی ازہر اور بعض نے زاہر لکھا ہے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ آپ اپنے پاؤں کے تلوے صاف کر رہے تھے۔ ابو عمر نے ان کے والد کا نام زاہر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الاشجعی: ان کا ذکر ہم مالک بن عوف، اشجعی کے تذکرے میں لکھیں گے، ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے اور ان سے ایک حدیث نقل کی ہے، جسے ہم مالک بن عوف کے تذکرےمیں بیان کریں گے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الاشعری یا ابن مالک: ابوموسیٰ کی روایت ہے، کہ عبدان نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کا نام ابو مالک لکھا ہے۔ ابومنہال نے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے کہ ہم میں اشعری قبیلے کا ایک آدمی تھا، جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا تھا، وہ ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں دین کی تعلیم دوں اور اس طرح نماز پڑھاؤں، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پڑھایا کرتے تھے ہم جعم ہوئے تو اس نے پانی کا ایک بڑا سا برتن اور ایک چھوٹا سا برتن منگوائے، پس اس نے چھوٹے برتن میں بڑے برتن سے پانی نکالا اور ہمارے ہاتھوں پر ڈال کر انھیں پاک صاف کیا، ابوموسیٰ نے مکمل حدیث کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن امیہ بن عمرو السلمی: بنی اسد بن خزیمہ کے حلیفوں سے تھے۔ غزوۂ بدر میں شامل تھے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ ابو عمر نے مختصراً اس حدیث کی تخریج کی ہے اور نسب مالک بن امیہ بن عمرو لکھا ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں ابوجعفر نے بروایت یونس بن بکیر از ابنِ اسحاق بیان کیا ہے انھوں نے بنو کثیر بن دودان بن اسد کے ان حلیفوں کا ذکر کیا ہے، جو غزوۂ بدر میں موجود تھے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الانصاری: ان سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مروی ہے، حضور اکرم نے فرمایا کہ مجالس کو ان کا حق ادا کرو۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مفروق رضی اللہ عنہ

بن عمرو الاصم بن قیس بن مسعود بن عامر بن عمرو بن ابی ربیعہ بن ذہل بن شیبان بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر بن وائل شیبانی: ان کا نام نعمان تھا، لیکن عرف مفروق تھا اور اسی نام سے مشہور ہُوئے۔ ابان بن ثعلب نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے علی بن ابی طالب سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دورۂ بنو شیبان کے دوران میں ’’اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ‘‘ الخ پڑھی۔ اس محفل میں مثنی بن حارثہ، مفروق بن عمرو ہانئی بن قبیصہ اور نعمان بن شریک موجود تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ فرمائی۔ انہوں نے گزارش کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان لوگوں کے علاوہ جو اپنی قوم میں معزز شمار ہوتے ہیں اور کسی سے امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اس موقعہ پر مفروق بن عمرو نے جو اپنی قوم میں زبان اور جمال ۔۔۔

مزید

سیّدنا مقترب رضی اللہ عنہ

ان کا نام اسود تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مقترب رکھ دیا تھا۔ ہم اسود کے ترجمے میں ان کا ذکر کر آئے ہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مقداد رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرود بن عمرو بن سعد بن وہیر بن لوئی بن ثعلبہ بن مالک بن شرید بن ابی ہون بن قاس بن دریم بن قین بن اہون بن بہراء بن عمرو بن حاف بن قضاعہ ہراوی: مقداد بن اسود کے نام سے مشہور تھے اور یہ اسود وہی ہیں۔ جن کی طرف اسود بن عبد یغوث زہری منسوب تھے۔ اس انتساب کی وجہ یہ تھی کہ مقداد نے اسود کو اپنا حلیف بنایا، جس پر انہوں نے مقداد کو اپنا متبنی بنالیا۔ انہیں مقداد کندی بھی کہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے قبیلۂ بہراء کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور وہ بھاگ کر قبیلۂ کندہ میں چلے گئے چنانچہ وہ مقداد کندی کہلائے۔ کچھ دنوں کے بعد انہوں نے قبیلۂ کندہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ اور بھاگ کر مکے چلے گئے۔ وہاں انہوں نے اسود بن عبد یغوث کو اپنا حلیف بنالیا۔ احمد بن صالح المصری کہتے ہیں کہ وہ حضرمی تھے اور ان کے والد نے کندہ کو حلیف بنالیا تھا۔ اور مقداد نے اسود۔۔۔

مزید