ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ نیز عسکر یعنی علی بن سعید اور جعفر المستغفری نے عمر بن موسی سے، انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے معدی کرب سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے کسی کو آزاد کیا یا طلاق دی اور بعد میں استثنا کا ذکر کردیا۔ تو اس کے استثنا کو قبول کرلیا جائے گا۔ عسکری نے یحییٰ بن عبد الاعظم سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ کا قول ہے کہ یہ صاحب مقدام بن معدی کرب ہیں، لیکن مَیں یہ نہیں بتاسکتا کہ آیا یہ صاحب اور ان سے پیشتر مذکور آدمی دونوں ایک ہیں یا نہ، واللہ اعلم ۔۔۔
مزید
جزری: سلیمان بن مغیرہ نے مبذول بن عمرو سے انہوں نے مہدی جزری سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آمیوں کو تھوڑی بہت بد خلقی کی جازت ہے: مریض مسافر اور روزہ دار۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان کا خیال ہے کہ حدیث مرسل ہے۔۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین کے فرزند دو، ۱۳۰۶ھ سال پیدائش، والد ماجد کے م رید وشاگرد، حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری اور حضرت مولانا عبدالغفار خاں صاحب رام پوری سے تکمیل و تحصیل علم کیا، زہد وتقویٰ میں اپنے اسلاف کے قدم بقدم اور خلیق و متواضع تھے، والد ماجد کے مرید وخلیفہ حضرت مولانا شاہ عنایت اللہ خاں سے خلافت پائی، مدرسۂ ارشادیہ کی عالی شان عمارت تعمیر کرائی، خود بھی درس دیتے تھے، ایک عرصہ تک لاہور کی شاہی جامع مسجد کے امام وخطیب و مفتی رہے، اکابر علماء میں آپ کا شمار تھا وہابیوں اور دیوبندیوں کے رد کی طرف خصوصی توجہ تھی۔ (تذکرہ کاملان رامپور)۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔سلسلۂ نسب:مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علیسادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعار۔۔۔
مزید
بن عبد سعد بن عامر بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث الانصاری حارثی: غزوہ اُحد میں مع اپنے بیٹے تمیم بن معبد کے شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو اسلمی: ابو مروان ان کی کنیت تھی۔ ان سے ان کے بیٹے عطا نے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ماعز وہاں آگئے۔ اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ۔ یہ امیر کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو الخیر: ان کا نام جفشیش تھا۔ ان کا ترجمہ باب جیم، حا اور خا میں گزر چکا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن لوذان بن حارثہ بن زید بن ثعلبہ بن عدی بن مالک بن زید مناہ بن تیم بن عبد حارثہ بن مالک بن عضب بن مالک بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی۔ یہ ابن کلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبد نہم اور ایک روایت میں ابو نہم بن عفیف بن سحیم بن ربیعہ بن عدی اور بردایتے عبد ثعلبہ مزنی آیا ہے ہم ان کا نسب ان کے بیٹے عبد اللہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور مغفل ذو البجادین مزنی کے بھائی ہیں۔ اور مغفل فتح مکہ کے سال ۸ ہجری میں براہِ مکّہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یہ طبریٰ کا بیان ہے ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
آپ کے مورث اعلیٰ حضرت سید محی الدین الحسینی قدس سرہٗ بغداد مقدس سے سلطان عادل اورنگ ریب غازی کے آخر عہد سلطنت آصفیہ آصف جاہ اول کے عہد حکومت میں جمادی الاخریٰ ۱۱۶۱ھ میں فوت ہوئے، اُن کی قبر اورنگ آباد میں حضرت شاہ برہان الدین غریب قدس سرہٗ کے مقبرہ کے قریب ہے، ۔۔۔۔ مولانا محمد عمر صاحب کے دادا بزرگوار سید حیدر علی سیادت پناہ نے حیدر آبادمیں فوجی ملازمت اختیار کی، اُن کو اپنے والد سے ارادت واجازت حاصل تھی، ۲۰؍جمادی الاخریٰ ۱۲۵۸ھ میں اُن کا انتقال ہوا، آپ کے لڑکے مولانا سید شاہ محمد بادشاہ حسینی ۱۲۳۶ھ میں پیدا ہوئے، اور ۱۲۸۶ھ میں رہگزارے عالم جاودانی ہوئے، مولانا بادشاہ حسینی علوم اسلامیہ عربی وفارسی کے متبحر علام، صاحب تصنیف اور صاحب دیوان شاعر تھے، حضرت میر شجاع الدین حسینقدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ اور داماد تھے، سید شاہ بادشاہ حسینی نے تیرہ۱۳حج کیے، اور ہر بار حرمین میں طویل قیام کیا، ب۔۔۔
مزید