جمعہ , 04 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 19 June,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مہدی رضی اللہ عنہ

جزری: سلیمان بن مغیرہ نے مبذول بن عمرو سے انہوں نے مہدی جزری سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آمیوں کو تھوڑی بہت بد خلقی کی جازت ہے: مریض مسافر اور روزہ دار۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز ان کا خیال ہے کہ حدیث مرسل ہے۔۔۔۔

مزید

مرشد جان جہاں جنت رسید

حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین کے فرزند دو، ۱۳۰۶؁ھ سال پیدائش، والد ماجد کے م رید وشاگرد، حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری اور حضرت مولانا عبدالغفار خاں صاحب رام پوری سے تکمیل و تحصیل علم کیا، زہد وتقویٰ میں اپنے اسلاف کے قدم بقدم اور خلیق و متواضع تھے، والد ماجد کے مرید وخلیفہ حضرت مولانا شاہ عنایت اللہ خاں سے خلافت پائی، مدرسۂ ارشادیہ کی عالی شان عمارت تعمیر کرائی، خود بھی درس دیتے تھے، ایک عرصہ تک لاہور کی شاہی جامع مسجد کے امام وخطیب و مفتی رہے، اکابر علماء میں آپ کا شمار تھا وہابیوں اور دیوبندیوں کے رد کی طرف خصوصی توجہ تھی۔ (تذکرہ کاملان رامپور)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی

حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن﷫۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔سلسلۂ نسب:مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علی﷫سادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام  ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعار۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن عبد سعد بن عامر بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث الانصاری حارثی: غزوہ اُحد میں مع اپنے بیٹے تمیم بن معبد کے شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معتب رضی اللہ عنہ

بن عمرو اسلمی: ابو مروان ان کی کنیت تھی۔ ان سے ان کے بیٹے عطا نے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ماعز وہاں آگئے۔ اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ۔ یہ امیر کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معدان رضی اللہ عنہ

ابو الخیر: ان کا نام جفشیش تھا۔ ان کا ترجمہ باب جیم، حا اور خا میں گزر چکا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معلی رضی اللہ عنہ

بن لوذان بن حارثہ بن زید بن ثعلبہ بن عدی بن مالک بن زید مناہ بن تیم بن عبد حارثہ بن مالک بن عضب بن مالک بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی۔ یہ ابن کلبی کا قول ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مغفل رضی اللہ عنہ

بن عبد نہم اور ایک روایت میں ابو نہم بن عفیف بن سحیم بن ربیعہ بن عدی اور بردایتے عبد ثعلبہ مزنی آیا ہے ہم ان کا نسب ان کے بیٹے عبد اللہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور مغفل ذو البجادین مزنی کے بھائی ہیں۔ اور مغفل فتح مکہ کے سال ۸ ہجری میں براہِ مکّہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یہ طبریٰ کا بیان ہے ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد عمر حیدر آبادی رحمۃ اللہ علیہ

آپ کے مورث اعلیٰ حضرت سید محی الدین الحسینی قدس سرہٗ بغداد مقدس سے سلطان عادل اورنگ ریب غازی کے آخر عہد سلطنت آصفیہ آصف جاہ اول کے عہد حکومت میں جمادی الاخریٰ ۱۱۶۱؁ھ میں فوت ہوئے، اُن کی قبر اورنگ آباد میں حضرت شاہ برہان الدین غریب قدس سرہٗ کے مقبرہ کے قریب ہے، ۔۔۔۔ مولانا محمد عمر صاحب کے دادا بزرگوار سید حیدر علی سیادت پناہ نے حیدر آبادمیں فوجی ملازمت اختیار کی، اُن کو اپنے والد سے ارادت واجازت حاصل تھی، ۲۰؍جمادی الاخریٰ ۱۲۵۸؁ھ میں اُن کا انتقال ہوا، آپ کے لڑکے مولانا سید شاہ محمد بادشاہ حسینی ۱۲۳۶؁ھ میں پیدا ہوئے، اور ۱۲۸۶؁ھ میں رہگزارے عالم جاودانی ہوئے، مولانا بادشاہ حسینی علوم اسلامیہ عربی وفارسی کے متبحر علام، صاحب تصنیف اور صاحب دیوان شاعر تھے، حضرت میر شجاع الدین حسینقدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ اور داماد تھے، سید شاہ بادشاہ حسینی نے تیرہ۱۳حج کیے، اور ہر بار حرمین میں طویل قیام کیا، ب۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سلام اللہ رامپوری قدس سرہٗ

زبدۃ المحدثین حضرت شاہ نور الحق[1] ابن امام عبد الحق محدث کے سو پوتے حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین محدث قدس سرہم کے پوتے اور اپنے زمانے کے مشہور محدث تھے،دہلی سے ترک وطن کر کےر ام پور جابسے تھے، محدث رامپوری کے نام سے مشہور تھے۔حدائق الحنفیہ میں مرقوم ہے کہ آپ فقیہہ فاضل،محدث کامل،مفسر متجر علامۂ عصر،محقق اور مدقق تھے،عربی زبان میں مطالب علمیہ کی تحریر پر کامل دستگاہ تھی،درس و تدریس،رشدو ہدایت دو مشغلۂ حیات تھے،۔۔۔تصانیف میں مؤطا کی شرح ‘‘محلی’’ آپ کے دفور علم پر شاہد عدل ہے،جلالین کا حاشیہ کمالین ۱۲۲۹؁ھ میں نجتبائی پریس سے چھپ چھپ کر شائع ہوا،فارسی زبان میں بخاری کی شرح بھی آپ نے لکھی، ماہ جمادہ الاخریٰ بوقت شام ۱۲۲۹؁ھ میں عمر طبع پاکر فوت ہوئے،زبدۃ الاولیاء شاہ عبداللہ بغدادی قدس سرہٗ کی درگاہ کے احاطہ میں مسجد کے قریب جانب جنوب دفن ہوئے۔ (تذکرہ علمائے ہند۔۔۔

مزید