غیر منسوب ہیں۔ شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اشعث بن سوار نے محمد بن سیرین سے انہوں نے میمون سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح شام سے پیشتر ہی وہاں ایک جاگیر کی درخواست کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس میں جاگیر کا حکم تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام فتح ہوا، تو انہوں نے وہ فرمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے اس کے تین حصّے کر کے ایک حصّہ مسافروں کے لیے ایک اس کی تعمیر کے لیے اور ایک جناب میمون کے لیے مخصوص کردیا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زر الکلبی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کی اور ودان جیسا کہ ان کے والد سے بواسطہ، ان کے دادا کے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے راوی نے یہ حدیث صالح بن عبد الرحمٰن بن مسعد سے سنی اور انہوں نے(ودان نے) ایک حدیث سعد بن ابی وقاص کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ایاس الانصاری: ایک روایت میں دزقہ ہے ابو زکریا نے ان کا ذکر کیا ہے غزوہ بدر میں شریک تھے ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے، بہ سلسلہ شرکائے انصار از بنو لوذان بن غنم، ربیع بن ایاس بن عمرو اور ان کے بھائی ودقہ بن ایاس کا ذکر کیا ہے اور جعفر نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی کہ ودقہ اور ان کے دونوں بھائی ربیع اور عمرو غزوۂ بدر میں موجود ہے، ابو نعیم، ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ابو عمر نے ان کا نام وذقہ لکھا ہے، اور ذ کے اوپر د لکھ دیا ہے۔ تینوں نے لکھا ہے، کہ ودقہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔۔۔۔
مزید
بن خالد السلمی الجبلی: نسب یوں ہے: ودد بن خالد بن حزیفہ بن عمرو بن خلف بن ماز بن مالک بن ثعلبہ بن بہثہ بن سلیم: فتح مکہ کے دن یہ صاحب اسلامی لشکر کے میمنہ میں تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن سدوس طائی: یہ ابن قانع کا قول ہے انہوں نے باسنادہ علی بن حرب سے انہوں نے ہشام ابو المنذر سے، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ نبہانی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی، کہ زید الخیل الطائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ساتھ وزر بن سدوس اور قبیصہ بن اسود بھی تھے۔ انہوں نے اپنی سواریوں کو زمین پر بٹھایا ابن دباغ نے ان کا ذکر ابو عمر پر استدراک سے کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن یزید: ان کا شمار اعراب بصرہ میں ہوتا ہے ان سے ان کی بیٹی ام یزید نے روایت کی، کہ ان کے والد نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ قاق اور قتل ہو اللہ پڑھتے سنا اور عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
الجذامی: طبرانی نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اذناً ابو غالب سے انہوں نے ابو بکر سے انہوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے محمد بن ینرداد الثوری سے، انہوں نے حسن بن حماد البجلی سجادہ سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید اموی سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اُنہوں نے حمید بن رومان سے انہوں نے بعجہ بن زید سے انہوں نے عمیر بن معبد الجذامی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی۔ کہ رفاعہ بن زید الجذامی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم محمد رسول اللہ سے رفاعہ بن زید کو یہ فرمان دے کر اسے اپنی قوم کی طرف اور نیز ان لوگوں کی طرف جوان میں شامل ہیں۔ یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں خدا اور رسول کی طرف بلائیں۔ جو ایمان لے آیا وہ خدائی گروہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا، اسے صرف د۔۔۔
مزید
بن نافر المبعاثی: بہ قولِ جعفر روح بن زنباع نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے بہ اختصار ان کے حالات لکھے ہیں۔۔۔۔
مزید
بن صبیح بصری: ان سے حسن بصری نے روایت کی۔ ابو موسیٰ نے کتابۃً ابو علی سے انہوں نے ابو نعیم سے، انہوں نے سعد بن صلت سے انہوں نے ابو حنیفہ سے اُنہوں نے منصور بن زاذان سے اُنہوں نے حسن بن معبد سے روایت کی۔ ایک دفعہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہےتھے کہ اس اثناء میں ایک اندھا آیا اور وہ ایک گڑھے میں گِر پڑا۔ اس سے کئی لوگ قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی۔ تو فرمایا۔ تم میں سے جو شخص قہقہہ مار کر ہنسا ہے، اسے چاہیے کہ از سر نو وضو کر کے نماز پھر سے ادا کرے۔ اسد بن عمرو نے ابو حنیفہ سے، انہوں نے معبد بن صبیح سے اور مکی نے ابو حنیفہ سے اُنہوں نے معبد ابن ابی معبد الخزاعی سے روایت کی۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے معبد بن ابی معبد الخزاعی کا ذکر کیا ہے اور دونوں نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے:۔۔۔
مزید
۱۲۷۹ھ سال ولادت،تعلیم و تربیت نانہال میں پائی،اپنے ماموں وخسر حضرت مولانا شزاہ ارشاد حسین رام پوری،اور خالہ زاد بھائی،اور بہنوئی حضرت مولانا ظہور الحسین سے درسیات پڑھیں۔مولانا امداد حسین اور مولانا عنایت اللہ رحمہما اللہ سے سلوک مجددیہ کی تکمیل کی،عالم باعمل، خلیق و متواضع تھے، بعد ادائے مناسک حج مدینہ طیبہ کو جاتے ہو ئے ۱۳۲۸ھ میں انتقال ہوا، (تذکرہ کاملان رام پور) ۔۔۔
مزید