بن یزید: جب ارتداد کی وبا پھیلی، تو انہوں نے بنو عامر کو ارتداد سے منع کیا اور تمسک بالا سلام کی تاکید کی۔ ابن اسحاق نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو النہرانی الکندی: ابو الفتح ازدی نے اسماء المفردہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایسا نام ہے۔ جس کی تحقیق میں نہیں کرسکا۔ جہاں سے مَیں نے نقل کیا ہے وہاں بھی اسی طرح لکھا ہوا۔ اور پتہ نہیں چلتا کہ آخر میں نون ہے یا زا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زید الجرشی: ان کا ذکر محمد بن تمام بن عیاش بن عبد العزیز بن قیس بن حمید کی اس حدیث میں موجود ہے، جو انس سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہامہ کا ایک آدمی ملا۔ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا۔ اس آدمی کا نام معافی بن زید الجرشی تھا۔ ابو مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ: ابو بکر اسماعیلی نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ انہیں صحبت نصیب ہوئی یا نہ۔ ابو الجحاف داؤد بن ابی عوف سے مروی ہے، انہوں نے معاویہ بن ثعلبہ سے سُنا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ اے علی تیری محبت میری محبت اور تیری عداوت میری عداوت ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن یزید بن شرجیل بن امرؤ القیس بن عمرو المقصود بن حجر آکل المرار بن عمرو بن معاویہ بن حارث الاکبر: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نعمان اشعت بن قیس ذو المزق کے ماموں تھے بواسطۂ طبری یہ ابو علی غانی کا قول ہے کلبی کہتے ہیں کہ ذو المزق امرؤ القیس کا لقب تھا جو نعمان کے دادا تھے۔ ۔۔۔
مزید
بن جاہمۃ السلمی ان کا شمار حجازیوں میں ہوتا ہے، مگر اس میں اختلاف ہے ان سے طلحہ بن عبید اللہ بن عبد الرحمٰن نے روایت کی ایک روایت کے رو سے ان سے طلحہ بن یزید بن رکانہ نے روایت کی۔ ایک روایت میں محمد بن یزید بن رکانہ کا نام آیا ہے۔ یحییٰ بن محمود نے باسنادہ تا ابن ابی عاصم۔ انہوں نے حسن البزار سے انہوں نے عبد الرحمن بن محمد المحاربی سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے محمد بن طلحہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے معاویہ بن سلمی سے روایت کی، کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی یا رسول اللہ! مَیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ دریافت فرمایا۔ کیا تمہاری ماں زندہ ہے، انہوں نے کہا۔ ہاں۔ فرمایا، جاؤ اور اس کی خدمت کرو۔ وہ کہتے ہیں۔ مَیں نے سمجھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ ۔۔۔
مزید
بن جاہمۃ السلمی ان کا شمار حجازیوں میں ہوتا ہے، مگر اس میں اختلاف ہے ان سے طلحہ بن عبید اللہ بن عبد الرحمٰن نے روایت کی ایک روایت کے رو سے ان سے طلحہ بن یزید بن رکانہ نے روایت کی۔ ایک روایت میں محمد بن یزید بن رکانہ کا نام آیا ہے۔ یحییٰ بن محمود نے باسنادہ تا ابن ابی عاصم۔ انہوں نے حسن البزار سے انہوں نے عبد الرحمن بن محمد المحاربی سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے محمد بن طلحہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے معاویہ بن سلمی سے روایت کی، کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی یا رسول اللہ! مَیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ دریافت فرمایا۔ کیا تمہاری ماں زندہ ہے، انہوں نے کہا۔ ہاں۔ فرمایا، جاؤ اور اس کی خدمت کرو۔ وہ کہتے ہیں۔ مَیں نے سمجھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ ۔۔۔
مزید
بن خدیج بن جقتہ السکونی: ایک روایت میں خولانی آیا ہے۔ ابو عمر نے اس سلسلۂ نسب کو یوں بیان کیا ہے: معاویہ بن خدیج بن جفنہ بن قنبرہ بن حارثہ بن عبدشمس بن معاویہ بن جعفر بن اسامہ بن سعد بن اشرس بن شبیب بن سکون بن اشرس بن ثور (کندۃ السکونی) یا کندی یا خولانی یا تجیبی، لیکن صحیح السکونی ہے۔ ابن الکلبی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد الرحمن یا ابو نعیم تھی۔ ان کا شمار اہلِ مصر میں ہوتا ہے اور معاویہ سے انہوں نے حدیث سنی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہی شخص ہیں، جنہوں نے محمد بن ابو بکر کو عمرو بن عاص کے حکم سے قتل کیا تھا۔ اور افریقہ میں تین بار جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ چنانچہ ایک جنگ میں زخمی ہوگئے تھے۔ کہا جاتا ہے، کہ ابو سرح کے ساتھ حبشہ کی جنگ میں شریک ہوئے اور گھائل ہوئے۔ ابو یاسر بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، ا۔۔۔
مزید
بن حکم سلمی: مدینہ میں سکونت پذیر رہے۔ خطیب ابو الفضل عبد اللہ بن احمد بن محمد بن عبد القاہر نے باسنادہ ابو داؤد طیالسی سے، انہوں نے حرب بن شداد اور ابان بن یزید سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے۔ انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے اُنہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے معاویہ بن حکم سلمی سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی نے دوران نماز میں چھینک ماری اور مَیں نے حسبِ دستور یر حمک اللہ کہہ دیا۔ لوگوں نے مجھے آنکھوں سے گھورا۔ اس پر مَیں نے کہا۔ میری ماں مرے تم لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہو۔ نمازیوں نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارے تاکہ میں چپ ہوجاؤں۔ جب نماز ختم ہوئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں: مَیں نے زندگی بھر ایسا شفیق معلّم نہیں دیکھا۔ نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا مذاق اُڑا۔۔۔
مزید
بن حیدہ بن معاویہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصقہ القشیری: ان کا تعلّق بصرہ سے تھا۔ خراسان کے معرکوں میں شریک رہے اور وہیں فوت ہُوئے وہ بہز بن حکیم بن معاویہ کے دادا تھے۔ ان کے بیٹے حکیم نے ان سے روایت کی۔ یحییٰ بن معین سے ’’عن بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ روایت درست ہے، بشرطیکہ بہز سے پہلا راوی ثقہً ہو۔ شعبہ بن ابی قزعہ نے حکیم بن معاویہ سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! عورت کا مرد پر کیا حق ہے؟ فرمایا۔ جب خود کھانا کھائے، تو اسے بھی کھلائے اور جب خود کپڑے پہنے تو اُسے بھی پہنائے اور اس کے مُنہ پر تھپڑ نہ مارے، نہ بُرا بھلا کہے اور نہ گھر میں اس سے مقاطعہ کرے۔ ابو القاسم یعیش بن صدقہ بن علی نے ابو محمد یحییٰ بن علی بن طراح سے اُنہوں نے ابو الحسین بن ۔۔۔
مزید