بن عمیر الثقفی: ان سے مزاحم بن عبد العزیز نے روایت کی کہ مَیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سبز رنگ کی ڈبیہ جس میں کافور تھا۔ بہ طور ہدیہ پیش کی۔ حضور نے مہاجرین اور انصار میں تھوڑا تھوڑا تقسیم فرما دیا پھر فرمایا، اے امّ سلیم! اس میں تھوڑا سا ہمارے لیے بھی رکھ لینا۔ ابو نعیم، ابو موسیٰ اور ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابو عویجہ: ابو الاعوص سلیمان بن قرم نے عوسجہ بن مسلم سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ مَیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے پیشاب کر کے وضو کیا اور پھر موزوں پر مسح کیا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابو الغاویہ الجہنی: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ وہ اپنی کنیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان شاء اللہ ان کا ذکر کنیتوں کے عنوان کے تحت تفصیل سے بیان ہوگا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ہانی بن یزید: یہ شریح بن ہائنی اور عبد اللہ کے بھائی تھے۔ جن کا تذکرہ ہم کر آئے ہیں۔ ابو مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
بن ہانی بن یزید: یہ شریح بن ہائنی اور عبد اللہ کے بھائی تھے۔ جن کا تذکرہ ہم کر آئے ہیں۔ ابو مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔
مزید
بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک والد حبیب بن مسلمہ: ابو موسیٰ نے اسی نسب سے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے باسنادہ ابن جریج سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ بن حبیب بن مسلمہ فہری سے روایت کی کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینے میں حاضر ہوا کہ ان کا والد بھی پہنچ گیا، عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا بیٹا میرے ہاتھ پاؤں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میاں بیٹے! تم باپ کے ساتھ چلے جاؤ، کیونکہ اس کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ چنانچہ بڑے میاں اسی سال فوت ہوگئے۔ ابو موسیٰ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اور ان کا نسب بھی اسی طرح لکھا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے، کیونکہ ان کے سلسلۂ نسب سے کوئی نام چھوٹ گیا ہے اور درست سلسلۂ نسب وہ ہے جسے ہم مسلمہ بن مالک کے ترجمے میں بیان کریں گے ہم نے ان کا ترجمہ علیحدہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ان۔۔۔
مزید
ابو عبد اللہ: ابن محیریز نے عبد اللہ بن مسور سے اُنہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس وقت تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہو۔ جب تک تمہیں اس بات کا خطرہ نہ ہو کہ تمہیں انہی برائیوں کا تختۂ مشق بنا دیا جائے گا۔ جن سے تم منع کر رہے ہو۔ اگر ایسا خطرہ ہو، تو تمہیں سکوت اختیار کرلینا چاہیے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ قرشی زہری: ان کی کنیت ابو عبد الرحمٰن تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام عاتکہ بن عوف تھا، جو عبد الرحمٰن بن عوف کی بہن تھیں۔ ان کا نام شفا تھا۔ جنابِ مسور ہجرت کے دو سال بعد مکے میں پیدا ہوئے، اچھے فقیہہ اور باعمل عالم تھے۔ وہ اپنے ماموں عبد الرحمٰن کے ساتھ ہمیشہ امر شوری میں شریک رہے۔ ان کا رحجانِ طبع حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل تک مدینے میں قیام پذیر رہے۔ پھر وہاں سے مکّے چلے گئے۔ جہاں امیر معاویہ کی وفات تک ٹھہرے رہے۔ چونکہ انہیں یزید کی بیعت نا پسند تھی۔ اس لیے جناب ابنِ زبیر کے ساتھ مکے ہی میں رُکے رہے۔ جب حصین بن نمیر شامی لشکر لے کر مکے پر ابنِ زبیر سے جنگ کے لیے حملہ آور ہوا۔ جناب مسور کعبے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ کہ انہیں منجنیق کا پت۔۔۔
مزید
بن یزید الاسدی مالکی: کوفی ہیں۔ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی۔ یحییٰ بن محمود نے باسنادہ تا ابن ابی عاصم، انہوں نے دحیم اور ابو کریب سے روایت کی ان سے مروان بن معاویہ نے یحییٰ بن کثیر الکاہلی سے، انہوں نے مسور بن یزید مالکی سے سنا۔ اُنہوں نے کہا کہ مَیں ایک نماز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں موجود تھا۔ آپ نے قرأت فرمائی، اور درمیان میں ایک آیت چھوٹ گئی۔ بعد از نماز ایک آدمی نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ایک آیت چھوڑدی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو نے اس وقت کیوں یاد نہ دلایا۔ اس نے جواب دیا۔ مَیں سمجھا منسوخ ہوگئی ہوگی۔ فرمایا نہیں منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حزن بن ابی وہب بن عمرو بن عابد بن عمر بن مخزوم قرشی مخزومی: ان کی کنیت ابو سعید تھی اور سعید بن مسیب کے جو مشہور فقیہ تھے، والد ہیں۔ مسیب نے اپنے والد حزن کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی اور مسیب ان لوگوں سے ہیں۔جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعتِ رضوان کی تھی، لیکن مصعب کے قول کے مطابق جناب مسیب اور ان کے والد با لاتفاق ان لوگوں سے ہیں، جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔ ابو احمد عسکری کہتے ہیں کہ مصعب کا یہ قول غلط ہے، کیونکہ مسیب بیعتِ رضوان میں موجود تھے اور ابو احمد عسکری نے باسنادہ طارق بن عبد الرحمٰن بجلی سے انہوں نے سعید بن مسیب سے بیعتِ رضوان کا ذکر کیا، تو وہ کہنے لگے کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہ وہ آں بیعت کے موقعہ پر موجود تھے، سالِ آئندہ انہوں نے انہیں تلاش کیا، لیکن چونکہ انہیں میرے والد کے مکان کا علم نہ تھا۔ اس لیے وہ انہیں ڈھونڈ نہ سکے۔ بع۔۔۔
مزید