زینب دختر مصعب بن زبیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدالدار قرشیہ عبدریہ،ان کے والد غزوۂ اُحد میں شہید ہوگئے تھے،انہیں حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی،جناب مصعب کی ان کے بغیر اور کوئی اولاد نہ تھی،ان کی والدہ حمنہ دختر حجش تھیں،جو محمد اور عمران پسران عبیداللہ بن طلحہ کی ہمشیرہ تھیں کیونکہ طلحہ نے مصعب کے بعد حمنہ سے نکاح کرلیا تھا،اور زینب نے عبداللہ بن عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح کیا تھا،اور ان کے بطن سے محمد اور مصعب وغیرہ پیدا ہوئے تھے، زبیربن بکار نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
زینب دختر مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح قرشیہ جمحیہ عثمان بن مظعون کی ہمشیرہ تھیں،عمر بن خطاب کی زوجہ اور عبداللہ بن عمر کی ام ولد اور حفصہ کی والدہ تھیں،ابوعمر کے مطابق یہ خاتون مہاجرات سے تھیں،ابو عمر لکھتے ہیں،مجھے ڈر ہے کہ یہ بات غلط نہ ہو،کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ یہ خاتون ہجرت سے پہلے ہی مکے میں فوت ہوگئیں تھیں،البتہ ان کی لڑکی حفصہ نے ہجرت کی تھی،ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،ابوموسیٰ لکھتے ہیں کہ بعض احادیث میں مذکور ہے،کہ عبداللہ بن عمر نے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دخترقیس بن عمرو،وہ ابو شیخ بن ثابت کی والدہ تھیں،ان کے بھائی کا نام حسان بن ثابت تھا،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِاکرم کی بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
زینب دختر نبیط بن جابر انصاریہ مدنیہ،انس بن مالک کی زوجہ تھیں،اور بروایتے ان کا تعلق بنو احمسہ سے تھا،عبداللہ بن ادریس نے محمد بن عمارہ سے،انہوں نے زینب دختر نبیط سے روایت کی،کہ ابوامامہ نے اپنی وصیت میں،میری والدہ اور خالہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی میں دے دیا،ان کی وفات کے بعد حضورِاکرم کے پاس سونے اور موتیوں کا زیور لایاگیا،جسے بالیاں کہتے تھے، حضورِاکرم نےمیری والدہ حبیبہ اور میری خالہ کبشہ کو زیور عطا فرمائے،چنانچہ اس سے مجھے بھی کچھ حِصّہ ملا،اس خاتون کی والدہ کا نام فریعہ اور والد کا نا م ابو امامہ اسعدبن زرارہ تھا۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان کا نام زینب دختر جابر احمسیہ لکھاہے،ابنِ مندہ نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے،ہاں البتہ ابوموسیٰ نے انہیں والد کی بجائے داداسے منسوب کردیا،اور ایسی مثالیں ان کی کتابوں میں بکثرت ہیں،کہ ایک آدمی ایک ۔۔۔
مزید
بن جبر الانصاری: ابن منیع نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے اور ان کے والد سے حدیث کی روایت بھی کی ہے۔ ابن مندہ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ربیعہ بن سعد بن سواءۃ بن جشم بن سعد: ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے عبد الملک بن ابی سویۃ المنقری نے اپنے والد کے داد خلیفہ سے(اور خلیفہ مسلم تھا) روایت کی ہے کہ مَیں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا کہ تیرے باپ نے تیرا نام محمد کیسے رکھا۔ اس پردہ ہنسا اور کہنے لگا کہ مجھے میرے باپ عدی بن ربیعہ نے بتایا کہ وہ اور سفیان بن مجاشع، یزید بن ربیعہ بن کابنہ اور اسامہ بن مالک بن عنبر، ابن جفنہ سے ملنے کو روانہ ہوئے جب ہم اس کے گھر کے قریب پہنچے، تو دم لینے کو ایک تالاب کے کنارے درختوں کے نیچے ٹھہر گئے وہاں ایک راہب آنکلا۔ کہنے لگا کہ تمہاری زبان اس علاقے کے لوگوں کی زبان سے مختلف ہیے۔ ہم نے کہا، تمہارا اندازہ ٹھیک ہے۔ ہمارا تعلق بنو مصر سے ہے۔ پوچھا، کس قبیلے سے؟ ہم نے کہا خندق سے۔ اس[۱] نے کہا، جلد ہی تم میں ایک نبی کی بعثت ہونے والی ہےت تم اس میں شامل ہونے سے تساہ۔۔۔
مزید
السعدی ابو عروہ: عبد اللہ بن ضحاک اور واد بن جراح نے اور زاعی سے، اس نے محمد بن خراشہ سے اس نے اپنے والد سے روایت کی۔ جب تو تین چیزیں ہوتی دیکھے گا۔ تو آبادی کو بربادی اور بربادی کو آبادی نصیب ہوگی۔ (۱) نا پسندیدہ کو پسندیدہ (۲) اور پسندیدہ کو ناپسندیدہ کو نا پسندیدہ قرار دیا جائے (۳) آدمی امانت کو یوں ہڑپ کرجائے جس طرح اونٹ درختوں کے پتّوں کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ ابو مغیرہ نے اوزاعی سے اس نے محمد بن خراشہ سے، اُس نے محمد بن عروہ سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اس لیے اس حدیث کو عروہ سے منسوب کیا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اسکی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
زینب دختر قیس بن محزمہ بن مطلب بن عبدمناف قرشیہ مطلبیہ،انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا فخر حاصل ہے،وہ سدی مفسرکی آزاد کردہ خاتون ہیں،جنہوں نے کہ اپنے والد کو آزاد کرایا تھا،اسباط بن نصر نے سدی سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ زینب دختر قیس نے دس ہزار درہم پر مجھ سے مکاتبت کی،اور ایک ہزار درہم میرے لئے چھوڑ دئیے،تینوں نےذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر ربیع بن نعمان بن یساف انصاریہ،خزرجیہ از بنومالک بن نجار،بقول ابنِ حبیب،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ان کا ذکر صرف ایک حدیث میں ہے جسے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے اسلم ابو عمران سے اُس نے ہبیب بن مغفل سے روایت کی کہ اس نے محمد بن علیہ کو دیکھا، کہ وہ اپنے ازار کا پلو زمین پر گھسیٹتے جا رہے تھے۔ انھیں ہبیب نے بھی دیکھا اور کہا۔ کہ تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سُنا کہ جو شخص اپنی ازار کا پلو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔ وہ گویا نارِ جہنم میں یہ عمل کر رہا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ ابنِ مندہ کے اس قول سے کہ ہبیب نے محمد بن علیہ کو حضور کا انتباہ یاد کرایا، ثابت ہوتا ہے کہ جناب محم بن علیہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ابو بکر بن عبد اللہ بن وہب نے اس نے عمرو بن حارث سے اس نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے اسلم ابو عمران سے اس نے ہبیب بن مغفل سے سُنا کہ اس نے محمد القرشی کو ۔۔۔
مزید