سبیعہ قرشیہ غیر منسوبہ،حضرت عائشہ سے مروی ہے،کہ میں نے سبیعہ قرشیہ کو حضورِاکرم سے درخوات کرتے سنا،یارسول اللہ !میں نےارتکابِ زنا کیا ہے،مجھ پر اللہ کی حد جاری فرمائیے،آپ نے فرمایا،وضع حمل تک انتظار کرو جب وضع حمل ہوگیا،تو پھرآئی،اگر وہ نہ آتی،تو آپ اس سے نہ پوچھتے،اس نے کہا یارسول خدا،وضع حمل ہوگیاہے،فرمایا،جا،اور اسے دودھ پلا،تا آنکہ تو اس کا دودھ چھڑائے،جب وہ عرصہ بھی گزر گیا ،تو وہ عورت پھر آئی،پوچھا،اس بچے کا ذمہ دار کون ہے، اس نے جواب دیا،ایک انصاری،یہ سُن کر حضورِاکرم کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے،فرمایا،جاؤ ،اسے سنگسار کردو،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ بن عامر سے اس نے ایک آدمی سے جس کا نام محمد بن ای برزہ تھا سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں اس طرح ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ سے، اس نے محمدک بن برزہ سے سنا، اور یہ سند صحیح تر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُنیسہ دختر ساعدہ بن عابس بن قیس بن نعمان ،عویم کی ہمشیر تھیں،اور ان کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا،بقول ابنِ حبیب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
اُنیسہ دخترِ ثعلبہ بن زید بن قیس انصاریہ،بنوحارث بن خزرج سے تھیں،انہیں صحبت ملی،یہ ابن حبیب کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُنیسہ دخترِ عروہ بن مسعود بن سنان بن عامر بن امیہ انصاری از بنو بیاضہ،بقول ابن حبیب انہوں نے حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ان کے نسب کا ذکر ان کےو الد کے ترجمے میں کیا جا چُکا ہے یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے جب حضور کے سامنے لائے گئے تو آپ نے ان کا نام محمد رکھا اور انھیں کھجور کی گھٹی دی انھوں نے مدینے ہی میں سکونت رکھی اور یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کردیے گئے۔ اسماعیل بن محمّد بن ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے والد ثابت بن قیس نے اس کی ماں جمیلہ بنت ابی سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس وقت محمّد اس کے پیٹ میں تھا۔ جب وضع حمل ہوا تو جمیلہ نے قسم کھائی کہ وہ ہرگز اسے دودھ نہیں پلائے گی اس پر ثابت بچّے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضور اکرم کی خدمت میں لائے اور واقعہ بیان کیا حضور نے فرمایا: اسے میرے قریب لاؤ چنانچہ مَیں بچّے کو حضور کے قریب لے گیا اس کے بعد حضور اکرم نے بچّے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا محمّد نام رکھا اور کھجور کی گ۔۔۔
مزید
بقولِ ابن قداح فتح مکّہ میں موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
فتح مصر میں موجود تھے۔ ان کا شمار صحابہ میں ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ صاحب حضرت جعفر طیار کے صاحبزادے تھے۔ ان کی پیدائش حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی وہ حبشہ میں پیدا ہوئے اور جب مدینے میں آئے تو بچّے تھے جب حضور کو جنگ موتہ کے نتیجے میں حضرت جعفر کی شہادت کی خبر ملی۔ تو آپ ان کے گھر تشریف لائے، فرمایا میرے بھائی کے بچّوں کو میرے پاس لاؤ، چنانچہ عبد اللہ، محمد اور عون کو اٹھائے اور حضور نے انھیں اپنی رانوں پر بٹھایا۔ دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ مَیں دُنیا اور آخرت میں اِن کا ولی ہوں۔ نیز فرمایا کہ محمد شکل و شبہات میں اپنے چچا ابو طالب سے ملتا جُلتا ہے یہ وہی محمّد ہیں جنھوں نے حضرت علی کی صاحبزادی ام کلثوم سے، حضرت عمر کی شہادت کے بعد نکاح کرلیا تھا۔ بقولِ واقدی جناب محمّد کی کنّیت ابو القاسم تھی۔ ایک روایت کے مطابق وہ بمقام نستر شہید ہوئے تھے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
انیسہ نخعیہ،انہوں نے معاذ بن جبل کے ورودِ یمن کا ذکر کیا ہے،جب وہ حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تعمیل فرمان میں وہاں گئے،انہوں نے وہاں کے لوگوں کو تعلیم دی،کہ پانچ نمازیں روزانہ ادا کرو،رمضان شریف میں روزے رکھو اور بشرطِ استطاعت حج کرو، اس وقت ان کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ ان کی عمر کا اندازہ غلط معلوم ہوتا ہے،کیونکہ معاذ ۹ ہجری میں یمن بھیجے گئے،اگر اس وقت ان کی عمر ۱۸ برس تسلیم کی جائے،تو بیعت عقبہ میں ان کی عمر نو برس ہوگی،جو اس لئے غلط ہے،کہ اس بیعت میں کوئی بچہ شامل نہیں تھا۔ ۔۔۔
مزید