ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام طلیق( رضی اللہ عنہا)

ام طلیق جو ابوطلیق کی زوجہ تھیں،مختار بن فلفل نے طلیق بن حبیب سے ،انہوں نے ابوطلیق سے روایت کی کہ ان کی زوجہ ام طلیق نے انہیں کہا(میرے پاس ایک اُونٹ تھا اور ایک اُونٹنی) کہ مجھے اپنا اُونٹ دو،تاکہ میں حج کر آؤں،میں نے کہا،اُونٹ کو تو میں نے فی سبیل اللہ روک رکھا ہے،اس کے بعد ام طلیق نے آپ سے دریافت کیا،یا رسول اللہ! کونسی عبادت حج کے برابر ہوسکتی ہے فرمایا، ماہ رمضان میں حج،ابن مندہ نے انکا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام طارق( رضی اللہ عنہا)

ام طارق،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی پیداوار سے انہیں چالیس وثق عطافرمائے تھے، اِسے جعفر نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کیا ہے،ابوموسیٰ نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام طارق( رضی اللہ عنہا)

ام طارق،سعد بن عبادہ کی آزاد کردہ کنیز تھیں،ابوالفرج بن ابوالرجاء نے باسنادہ ابوبکر بن ابو عاصم سے،انہوں نے مسیب بن واضح سے،انہوں نے ابواسحاق فزاری سے،انہوں نے اعمش سے،انہوں نے جعفر بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ام طارق سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،آپ نے کئی بار اندر آنے کی اجازت مانگی،مگر ہم نے کوئی جواب نہ دیا،آپ واپس چلے گئے،اس پر سعد نے کہا،تم حضورِ اکرم کی خدمت میں جاؤ،آپ کو سلام کہو،اور آپ کو بتادینا کہ ہم اس لئے خاموش رہے کہ آپ ہمیں بار بار بلائیں،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام الطفیل( رضی اللہ عنہا)

ام الطفیل جوابی کعب کی زوجہ تھیں،ان سے محمد بن ابی کعب،عمارہ بن عمیر اور بشر بن سعید نے روایت کیاوریاسر بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ سے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اسحاق بن عیسٰی سے،انہوں نے ابن لہیعہ سے،انہوں نے بکیر سے،انہوں نے بشر بن سعید سے،انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کی،کہ عمر بن خطاب کا مجھ سے ایک ایسی بیوہ عورت کے بارے میں جھگڑا ہوگیا،جو حاملہ ہو،میں یہ کہتا تھا،کہ وہ وضع حمل کے بعد ہی نکاح کر سکتی ہے،اس پر ام الطفیل نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی ام ولد سبیعہ اسلمیہ کو وضع حمل کے بعد نکاح کی اجازت دی تھی۔ سعید بن ہلال نے مروان بن عثمان سے انہوں نے عمارہ بن عامر بن حزم الانصاری سے،انہوں نے ام الطفیل سے روایت کی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ آپ کو خواب میں اللہ تعا لیٰ کی زیارت نصیب ہوئی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمیر الحنفی الکوفی زمانۂ جاہلیت کے آدمی ہیں، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ثابت نہیں جناب سفیان ثوری نے اسماعیل بن سمیع الحنفی سے اور اس نے مالک بن عمیر سے (بقول سفیان بن ثوری وہ زمانۂ جاہلیت کے آدمی ہیں) یوں روایت بیان کی کہ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور میں نے اسے قتل کردیا ہے۔ حضور نے ناگواری کا اظہار نہ کیا۔ بعد میں ایک اور آدمی آیا، اس نے بیان کیا یا رسول اللہ! میرے باپ نے آپ کی شان میں گستاخی کی، مگر میں نے اسے قتل نہیں کیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی کسی ناگواری کا اظہار نہ فرمایا۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ بہ قولِ ابو عمر یہ روایت حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) ام عبید( رضی اللہ عنہا)

ام عبید دختر صخربن مالک،ابن جریج نے عکرمہ سے روایت کی،کہ اسلام نے چار عورتوں اور ان کے سوتیلے بیٹوں کے درمیان جو جاہلیت کے زمانے سے اپنی سوتیلی ماؤں کے خاوند بنے ہوئے تھے، تفریق کی،ایک حمنہ دختر ابو طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار،جو خلف بن اسد بن عاصم بن بیاضہ خزاعی کی زوجہ تھیں،اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے اسود بن خلف نے اسے بیوی بنالیا، دوسری فاختہ دختر اسود بن عبدالمطلب تھی،جو امیہ بن خلف کی بیوی تھی،جس پر امیہ کی موت کے بعد اس کے بیٹے صفوان بن امیہ نے قبضہ کرلیا تھا،تیسری ام عبید دخترصخر بن مالک بن عمرو بن عزیز تھی،جواسلت کی بیوی تھی،اور خاوند کی موت کے بعد ابوقیس بن اسلت نے سنبھال لی تھی،اور اسلت بنوانصار سے تھی،چوتھی ملیکہ دختر خارجہ بن سنان بن ابی حارثہ تھی،جو زبان بن سیار کی بیوی تھی،جسے زبان کی وفات کے بعد منظور بن زبان نے بیوی بنالیا تھا۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن مالک بن برہہ بن نہشل المجاشی، ابو حفص نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر مالک بن بن برہہ کے تحت کیا جاچکا ہے۔ یہ صحابی ایک جماعت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس زور زور سے چیخنے لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شور کی وجہ دریافت کی، تو معلوم ہوا کہ بنو عنبر کا وفد ہے۔ جو ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں کہو کہ اندر آجائیں اور آرام کریں، انھوں نے کہا ہم اپنے سالارِ قافلہ وردان بن مخرم کا انتظار کر رہے ہیں۔ ارکانِ وفد جلدی میں اپنے سردار کو، اپنی سواریوں اور ساز و سامان کی حفاطت کے لیے وہیں چھوڑ آئے تھے۔ لوگوں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اہل وفد اپنے اس سردار کا انتظار کر رہے ہیں جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ جب ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمیر السلمی: یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ، غزوۂ حنین اور طائف میں شامل تھے۔ ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے۔ ان سے یہ روایت مروی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذکورہ بالا غزوات میں شریک تھے انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ! میں شاعر ہوں، آپ ازراہ کرم اس باب میں میری راہ نمائی فرمائیں۔‘‘ حضورِ اکرم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز[۱] تیرے پیٹ کو پیپ سے بھر دے تو اس سے بہتر ہے کہ اسے اشعار سے بھرا جائے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمیرہ ابوسفیان: عبدان اور ابنِ شاہین وغیرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ایک روایت میں مالک بن عمیر ہے۔ بعض نے انھیں اسدی لکھا ہے اور بعض نے بنو عبدالقیس سے۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ ہم سے ابو یاسر بن حبہ نے اس اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک پہنچتا ہے۔ بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے اس سے شعبہ نے اس نے سماک بن حرب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو صفوان مالک بن عمیر الاسدی سے سنا، محمد بن جعفر نے عمیر کی جگہ عمیرہ لکھ دیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہجرت سے پہلے مکے میں آئے اور ایک شخص نے ان سے شلوار خریدی اور مجھ سے حسنِ سلوک سے پیش آیا۔ ابن مہدی نے شعبہ سے روایت کی ہے اور نام مالک بن عمیرہ بتایا ہے۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اس نے سوید بن قیس سے یہی نام سنا ہے لیکن کنیت نہیں بتائی ہے۔ عمرو بن حکام اور یحییٰ بن ابی طالب نے بروایت یزید ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن جمیلہ بن السباق بن عبدالدار: موسیٰ بن عقبہ نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے، جو غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید